سیکیورٹی گارڈز کی غیر شفاف بھرتیوں کا مسئلہ

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کے گارڈز کی اسکریننگ ہونی چاہیے۔

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کے گارڈز کی اسکریننگ ہونی چاہیے، فوٹو؛ فائل

سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کے گارڈز کی اسکریننگ ہونی چاہیے، بینک ڈکیتیوں سمیت سنگین جرائم میں سیکیورٹی گارڈز ملوث پائے گئے ہیں، ادارے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر رہے، خدشہ ہے کہ را اور طالبان کے ایجنٹس سیکیورٹی گارڈز کی صورت میں بھرتی کیے گئے ہوں۔ لارجر بنچ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ادارے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کر رہے۔

یہ چشم کشا آبزرویشن جمعرات کو کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بنچ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کرتے ہوئے دی۔ یہ بات ملک کے ہر باشعور شہری کے ذہن میں تازہ ہو گی کہ سیکیورٹی گارڈز کی تعیناتی میں کوتاہیوں اور بینک ڈکیتیوں کی بھرمار پر عدلیہ نے کئی بار انتباہات جاری کیے اور انتظامیہ کی سرزنش کی مگر حکومت اور سیکیورٹی گارڈز کی تقرری اور تعیناتی کی ذمے دار اداروں نے کبھی بھی سیکیورٹی گارڈز کے شفاف ملک گیر میکنزم کو یقینی بنانے پر توجہ نہیں دی جب کہ بینک ڈکیتیوں میں اکثر سیکیورٹی گارڈز ہی ملزم ٹھہرائے گئے، ان کی نشاندہی بھی ہوئی۔ ان ڈکیتیوں میں بینکوں سے اربوں روپے لوٹے گئے۔


اب جب کہ عدلیہ نے سیکیورٹی سسٹم میں را اور طالبان کی بھرتی کا خدشہ ظاہر کیا ہے تو ضروری ہے کہ درخواست دہندگان کے کوائف ان کے ذاتی کردار، مکانی و خاندانی پس منظر کے بارے میں ٹھوس معلومات یکجا کی جائیں اور کوشش کی جائے کہ سیکیورٹی گارڈز کی دہشتگردی مخالف تربیت ہنگامی بنیاد پر ہو۔ یاد رہے کہ کوئٹہ اسپتال میں 75 سیکیورٹی گارڈ بتائے گئے مگر تربیت یافتہ کوئی ایک بھی نہیں تھا، اس لیے عدالت عظمیٰ کی یہ ہدایت صائب ہے کہ ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہیے۔ آئی جی سندھ کی اس یقین دہانی پر کہ وہ تمام نجی سیکیورٹی اداروں کو خطوط ارسال کر یں گے جن کی نہ صرف اسکریننگ کرائی جائے گی بلکہ پولیس ان کی تربیت کے لیے بھی تیار ہے۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی سندھ سے کہا کہ اس کے بعد آپ کی ذمے داری ختم نہیں ہو جاتی۔

شہریوں کے تحفظ کے ضمن میں یہ خیال بھی ملحوظ رہے کہ کوئٹہ خود کش حملہ کے بعد بھی جمعرات کو ایک اور دھماکا ہواجس میں وفاقی شریعت عدالت کے جج کو نشانہ بنانے کی کوشش ناکام ہو گئی، دھماکے سے5 پولیس اہلکاروں سمیت17 افراد زخمی ہو گئے، دھماکے سے گاڑی کو بھی نقصان پہنچا اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جب کہ ایک خبر کے مطابق کراچی سے کچھ عرصہ قبل گرفتار کالعدم القاعدہ کے دہشت گرد عبد السمیع خان نے دوران تفتیش انکشاف کیا تھا کہ پاکستان میں کالعدم القاعدہ اور طالبان کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے اور طالبان کی ایک بڑی تعداد پاکستان آ چکی ہے اور مختلف شہروں کی گنجان آبادیوں میں رہائش اختیارکیے ہوئے ہے۔ یہ تشویشناک صورتحال کے گہرے ادراک اور موثر اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں۔
Load Next Story