مہران انڈر پاس کی تعمیر کنٹونمنٹ اور واٹر بورڈ کے اجازت ناموں کا انتظار
دونوں اداروں کی طرف سے اجازت نامے ملنے کے بعد شارع فیصل پرپہلے زیرزمین راستے کا تعمیراتی کام شروع کردیاجائیگا، ذرائع.
دونوں اداروں کی طرف سے اجازت نامے ملنے کے بعد شارع فیصل پرپہلے زیرزمین راستے کا تعمیراتی کام شروع کردیاجائیگا، ذرائع. فوٹو: فائل
SOHBATPUR:
بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شارع فیصل پر مہران انڈر پاس پر تعمیراتی کام شروع کرنے کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ اور واٹربورڈ کے اجازت ناموں کی منتظر ہے۔
ان دونوں اداروں کی طرف سے اجازت نامے ملنے کے بعد شارع فیصل کے پہلے زیرزمین راستے کا تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا، اس حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کی تیاریاں مکمل ہیں بلدیہ عظمیٰ کے ایک اعلیٰ آفیسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ پیر کو اسٹیشن ہیڈکوارٹرز میں اجلاس ہوا۔
اجلاس میں مہران ہوٹل انڈرپاس کے حوالے سے بلدیہ عظمیٰ نے تعمیراتی کام کے دوران متبادل راستوں اور انڈر پاس کی تعمیر کے بعد پیدا ہونے والی ٹریفک صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی، ذرائع نے بتایا کہ اسٹیشن ہیڈکوارٹر میں گزشتہ اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ کی طرف سے پیش کردہ متبادل راستوں اور انڈرپاس کے منصوبے کے حوالے سے مختلف تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جس میں بارے میں بلدیہ عظمیٰ کے افسران اطمینان بخش جواب دینے میں ناکام رہے تھے۔
جس پر اسٹیشن ہیڈکوارٹرز میں موجود افسران نے بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ پیر کو متبادل راستے کا نیا پلان اور دیگر اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب تیار کرکے لائے جو کہ بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے پیر کو وہاں فراہم کردیے جس پر کسی سطح سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا اور اس نئے پلان پر اسٹیشن ہیڈکوارٹرز جس میںمختلف عسکری اداروں کے نمائندوں ، کنٹونمنٹ بورڈ اور دیگر محکموں کے افسران نے تفصیلی جائزہ لیا، اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان کی طرف سے سامنے لائے گئے تحفظات کو دور کردیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے بعد بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے شارع فیصل پر اس مقامات پر نشانات لگائے جہاں پر انڈر پاس تعمیر ہوگا اور جن مقامات سے ٹریفک کو متبادل راستوں کی طرف سے موڑا جائے گا، بلدیہ عظمیٰ کی طرف سے یہ ایکسائز دوبارہ بھی کی جائے گی، ذرائع نے بتایا کہ اب بلدیہ عظمیٰ اسٹیشن ہیڈکوارٹرز کے تحفظات دور ہونے کے بعد متعلقہ کنٹونمنٹ بورڈ اور واٹربورڈ کی این او سی درکار ہے جس کو ملتے ہیں تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ نے کنٹونمنٹ بورڈ کو ان کی حدود میں انڈرپاس کا تعمیراتی کام شروع کرنیکی اجازت مانگی تھی جس پر وہاں سے کچھ اعتراضات اور سوالات سامنے آئے اس حوالے سے اسٹیشن ہیڈکوارٹرز میں اجلاس ہوگئے، اب صورتحال پر تمام فریقین مطمئن ہوگئے ہیں، توقع ہے کہ آئندہ چند روز میں کنٹونمنٹ بورڈ این او سی جاری کردے گا، ذرائع نے بتایا کہ دوسری طرف واٹربورڈ نے انڈر پاس کے مقام پر سیوریج لائنوں کے حوالے سے اپنی این او سی دیدی ہے تاہم اس مقام پر فراہمی آب کی ایک بڑی لائن گزر رہی ہے واٹربورڈ کی انتظامیہ اس لائن کی منتقلی خود کرنا چاہتی ہے،بلدیہ عظمیٰ نے اس حوالے سے واٹربورڈ کو پیشکش کردی ہے ۔
بلدیہ عظمیٰ کراچی نے شارع فیصل پر مہران انڈر پاس پر تعمیراتی کام شروع کرنے کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ اور واٹربورڈ کے اجازت ناموں کی منتظر ہے۔
ان دونوں اداروں کی طرف سے اجازت نامے ملنے کے بعد شارع فیصل کے پہلے زیرزمین راستے کا تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا، اس حوالے سے بلدیہ عظمیٰ کی تیاریاں مکمل ہیں بلدیہ عظمیٰ کے ایک اعلیٰ آفیسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ پیر کو اسٹیشن ہیڈکوارٹرز میں اجلاس ہوا۔
اجلاس میں مہران ہوٹل انڈرپاس کے حوالے سے بلدیہ عظمیٰ نے تعمیراتی کام کے دوران متبادل راستوں اور انڈر پاس کی تعمیر کے بعد پیدا ہونے والی ٹریفک صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی، ذرائع نے بتایا کہ اسٹیشن ہیڈکوارٹر میں گزشتہ اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ کی طرف سے پیش کردہ متبادل راستوں اور انڈرپاس کے منصوبے کے حوالے سے مختلف تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جس میں بارے میں بلدیہ عظمیٰ کے افسران اطمینان بخش جواب دینے میں ناکام رہے تھے۔
جس پر اسٹیشن ہیڈکوارٹرز میں موجود افسران نے بلدیہ عظمیٰ کی انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ پیر کو متبادل راستے کا نیا پلان اور دیگر اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب تیار کرکے لائے جو کہ بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے پیر کو وہاں فراہم کردیے جس پر کسی سطح سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا اور اس نئے پلان پر اسٹیشن ہیڈکوارٹرز جس میںمختلف عسکری اداروں کے نمائندوں ، کنٹونمنٹ بورڈ اور دیگر محکموں کے افسران نے تفصیلی جائزہ لیا، اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ان کی طرف سے سامنے لائے گئے تحفظات کو دور کردیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے بعد بلدیہ عظمیٰ کے افسران نے شارع فیصل پر اس مقامات پر نشانات لگائے جہاں پر انڈر پاس تعمیر ہوگا اور جن مقامات سے ٹریفک کو متبادل راستوں کی طرف سے موڑا جائے گا، بلدیہ عظمیٰ کی طرف سے یہ ایکسائز دوبارہ بھی کی جائے گی، ذرائع نے بتایا کہ اب بلدیہ عظمیٰ اسٹیشن ہیڈکوارٹرز کے تحفظات دور ہونے کے بعد متعلقہ کنٹونمنٹ بورڈ اور واٹربورڈ کی این او سی درکار ہے جس کو ملتے ہیں تعمیراتی کام شروع کردیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ نے کنٹونمنٹ بورڈ کو ان کی حدود میں انڈرپاس کا تعمیراتی کام شروع کرنیکی اجازت مانگی تھی جس پر وہاں سے کچھ اعتراضات اور سوالات سامنے آئے اس حوالے سے اسٹیشن ہیڈکوارٹرز میں اجلاس ہوگئے، اب صورتحال پر تمام فریقین مطمئن ہوگئے ہیں، توقع ہے کہ آئندہ چند روز میں کنٹونمنٹ بورڈ این او سی جاری کردے گا، ذرائع نے بتایا کہ دوسری طرف واٹربورڈ نے انڈر پاس کے مقام پر سیوریج لائنوں کے حوالے سے اپنی این او سی دیدی ہے تاہم اس مقام پر فراہمی آب کی ایک بڑی لائن گزر رہی ہے واٹربورڈ کی انتظامیہ اس لائن کی منتقلی خود کرنا چاہتی ہے،بلدیہ عظمیٰ نے اس حوالے سے واٹربورڈ کو پیشکش کردی ہے ۔