بیرونی قرضوں سے قبل پارلیمنٹ سے منظوری لی جائے خصوصی کمیٹی

جی ڈی پی کا 88 فیصد قرضہ لینا خلاف آئین ہے،20لاکھ کا نادہند الیکشن نہیں لڑ سکتا

جی ڈی پی کا 88 فیصد قرضہ لینا خلاف آئین ہے،20لاکھ کا نادہند الیکشن نہیں لڑ سکتا فوٹو: اے پی پی/ فائل

قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے اندرونی وبیرونی قرضہ جات نے حکومت سے کہا ہے کہ بیرونی ممالک و مالیاتی اداروں سے قرضے لینے سے قبل منظوری لازمی بنانے کے لیے پارلیمنٹ کی کمیٹی بنائی جائے۔

وزارت خزانہ نے کمیٹی کی سفارش کی مخالفت کر دی ۔خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئر پرسن بیگم شہناز وزیر علی کی زیر صدارت پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا ۔کمیٹی کے ارکان نے بڑھتے ہوئے حکومتی قرضوںکو انتہائی تشویشناک قراردیتے ہوئے کہا کہ حکومت اب تک جی ڈی پی کا 85 سے 88 فیصدقرضہ لے چکی ہے جو سراسر آئین کی خلاف ورزی ہے ۔




کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے فنانس ڈویژن کے شعبہ بیرونی قرضہ جات کے جنرل منیجر سید منصور قریشی نے بتایا کہ وفاقی حکومت کے قرضوں کی حدجی ڈی پی کی نسبت 62 فیصد تک ہے،18 ویںترمیم کے بعدصوبوںکو مکمل مالی خودمختاری حاصل ہو چکی ہے اور وہ اندرون وبیرون ملک جہاں سے چاہیں قرضہ لے سکتے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ قرضوں کی مانیٹرنگ کا نظام ناگزیر ہے'ملکی معیشت پرسب سے زیادہ دباؤ بیرونی قرضوں'زر اعانت اور دفاعی اخراجات کا ہے۔دوسری جانب وفاقی حکومت کا70 فیصدریونیوصوبوں کو جاتا ہے۔



لہذا صوبوںکوکھلا نہیں چھوڑا جاسکتاکہ وہ جس حدتک چاہیں اپنے اخراجات بڑھا لیں اور بعد میں ڈیفالٹ کر کے وفاق سے کہیں اب ہمیں اس صورتحال سے نکالاجائے۔کمیٹی کے رکن عبدالرشیدگوڈیل نے کہا کہ وزارت خزانہ 20 لاکھ یا اس سے زائدکے نادہندگان کی فہرست پیش کرے 'آئین کی شق نمبر 63/G کے مطابق اگر کوئی شخص یا اس کے اہل خانہ 20 لاکھ کے نادہند ہوں تو الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے ۔
Load Next Story