ہیلی کاپٹر کے عملے کی افغانستان سے بحفاظت واپسی
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ رہائی افغانستان کے مقامی جرگے کی مدد سے عمل میں آئی ہے
پاکستانی حکام تحقیقات کریں گے کہ ہیلی کاپٹر گرنے کی کیا وجوہات تھیں اور یرغمالی کس کی تحویل میں تھے۔ فوٹو؛ فائل
یہ بہت خوش قسمتی کی بات ہے کہ افغانستان میں کریش لینڈنگ کرنے والے پنجاب حکومت کے ہیلی کاپٹر کا تمام عملہ جس میں پاک فوج کے چار ریٹائرڈ افسر اور ایک روسی نیوی گیٹر شامل ہیں بحفاظت واپس وطن پہنچ لیے ہیں حالانکہ قبل ازیں ان کی واپسی اتنی آسانی سے ممکن دکھائی نہیں دیتی تھی کیونکہ ایسی منفی نوعیت کی افواہیں بھی پھیلائی گئیں کہ پاکستانی عملے کو طالبان کی تحویل میں دے دیا گیا ہے جو مبینہ طور پر ان کے بدلے میں اپنے قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کریں گے لیکن شکر خدا کا کہ یہ اذیت ناک افواہیں باطل ثابت ہوئیں۔
یہ ہیلی کاپٹر 4 اگست معمول کی مرمت کے لیے افغانستان پر سے گزرتا ہوا روس جا رہا تھا کہ افغانستان کے صوبے لوگر میں کریش لینڈنگ کر گیا۔ واپس آنے والے عملے کے تمام ارکان محفوظ اور صحت مند ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق عملے کے ارکان کو فاٹا میں پاک افغان سرحد پر قبائلی عمائدین کے حوالے کیا گیا جنھیں فاٹا سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ رہائی افغانستان کے مقامی جرگے کی مدد سے عمل میں آئی ہے۔ اب پاکستانی حکام تحقیقات کریں گے کہ ہیلی کاپٹر گرنے کی کیا وجوہات تھیں اور یرغمالی کس کی تحویل میں تھے۔
یہ ہیلی کاپٹر 4 اگست معمول کی مرمت کے لیے افغانستان پر سے گزرتا ہوا روس جا رہا تھا کہ افغانستان کے صوبے لوگر میں کریش لینڈنگ کر گیا۔ واپس آنے والے عملے کے تمام ارکان محفوظ اور صحت مند ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق عملے کے ارکان کو فاٹا میں پاک افغان سرحد پر قبائلی عمائدین کے حوالے کیا گیا جنھیں فاٹا سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ رہائی افغانستان کے مقامی جرگے کی مدد سے عمل میں آئی ہے۔ اب پاکستانی حکام تحقیقات کریں گے کہ ہیلی کاپٹر گرنے کی کیا وجوہات تھیں اور یرغمالی کس کی تحویل میں تھے۔