بھارت کی اشتعال انگیزیاں

پاکستان آج جس آزمائش سےدوچارہےاس سےنمٹنےکےلیےضروری ہےکہ تحریکِ پاکستان کےجذبےاورقائد اعظمؒ کی فراست سے کام لیا جائے

اقوام متحدہ بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے،اس تناظر میں آخر مسئلہ کشمیر کیسے حل ہو گا یہ سوال حل طلب ہے۔

صدر ممنون حسین نے یوم آزادی کے موقع پر جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی میں شہید ہونے والوں کے لہو کا ایک ایک قطرہ ہم پر قرض ہے، سانحہ کوئٹہ کے متاثرین خود کو تنہا نہ سمجھیں، آپریشن ضرب عضب آخری مراحل میں ہے، نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن ضرب عضب کے نتائج حوصلہ افزا ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ ہے، دیدہ اور نادیدہ دشمن کو بھاگنے نہیں دیاجائے گا، یقین ہے آخری کاری ضرب لگا کر دہشتگردوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیں گے۔

کشمیری بھائیوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے، بدی کی قوتوں کو سرنگوں کرکے اپنے وطن کو اندھیروں سے پاک کرنے کے لیے قوم متحد ہوجائے، دہشتگردی میں شہید ہونیوالوں کے لہو کا حساب ہم نے پہلے بھی چکایا ہے اور انشاء اللہ آیندہ بھی اس کا پورا حساب لیا جائے گا۔ پاکستان آج جس آزمائش سے دوچار ہے، اس سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ تحریکِ پاکستان کے جذبے اور قائد اعظمؒ کی فراست سے کام لیا جائے، دشمن کی چال کو سمجھتے ہوئے ٹھنڈے دل سے کام لیا جائے اور اختلافات کو ہوا دینے سے گریز کیا جائے تاکہ تاریخ کے اس بدترین چیلنج سے کامیابی کے ساتھ نمٹا جا سکے۔

مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دنوں سے کشمیریوں کا احتجاج جاری ہے۔ بھارتی فوج ان کے جذبہ حریت کو دبانے کے لیے ظلم و ستم کا ہر حربہ استعمال کر رہی ہے یہاں تک کہ پیلٹ گن کے ذریعے انھیں جسمانی طور پر معذور کر کے اپنے تئیں نشان عبرت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر جوں جوں بھارتی مظالم بڑھتے جا رہے ہیں کشمیریوں کے جذبہ حریت کو توں توں مہمیز مل رہی اور ان کی تحریک میں کمی آنے کے بجائے شدت آتی چلی جا رہی ہے۔


امسال بھی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں نے کرفیو اور دیگر پابندیاں توڑتے ہوئے پاکستان کا یوم آزادی منایا، زبردست ریلیاں نکالیں اور پوری وادی میں پاکستانی پرچم لہرائے۔ دوسری جانب 15اگست کو بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منا کر پوری دنیا پر واضح کر دیا گیا کہ کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ ادھر پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر راولاکوٹ کے قریب نیزہ پیر سیکٹر میں رات دو بجے کے قریب گولہ باری کا سلسلہ شروع کر دیا' آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے مارٹر اور توپ خانے سمیت تمام قسم کے بھاری ہتھیار بھی استعمال کیے تاہم اس سے کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی جب کہ پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی بلااشتعال فائرنگ کا منہ توڑ جواب دیا۔

پاک فوج کے ڈی جی ملٹری آپریشنز نے ہاٹ لائن پر بھارتی ہم منصب سے رابطہ کرتے ہوئے پاکستانی چوکیوں اور سویلینز پر بلااشتعال فائرنگ پر شدید احتجاج کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ دوسری طرف یوم آزادی کو دن دوپہر بارہ بجے کے قریب افغانستان کی جانب سے دو میزائل فائر کیے گئے جو پاکستانی حدود میں آ گرے۔ پاکستان کے یوم آزادی اور عید کی خوشیوں کے موقع پر بھارتی فوج کی جانب سے سرحدوں پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں لیکن اب افغانستان کی جانب سے بھی میزائل فائر کیے جانا تشویشناک امر ہے، آخر ایسا کرنے کا کیا مقصد تھا اور پاکستان کو کیا عندیہ دیا گیا۔ پاکستان کو اس مسئلے پر افغان حکومت سے شدید احتجاج کرنے کے علاوہ اسے اقوام متحدہ میں بھی اٹھانا چاہیے۔ یہ صورت حال اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان کو دونوں ہمسایہ ممالک کی جانب سے اپنی سلامتی کے حوالے سے خطرات پیدا ہو چکے ہیں اور اگر ان کے بارے میں کوئی واضح پالیسی اختیار نہ کی گئی تو مستقبل میں ان خطرات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور افغانستان ایک خاص منصوبے کے تحت پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک جانب پاکستان اندرونی محاذ پر دہشت گردوں سے نمٹ رہا ہے تو دوسری جانب سرحدوں پر بھارت اور افغانستان اسے مصروف کر کے خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ جہاں تک مسئلہ کشمیر کا تعلق ہے تو ایک بار پھر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی صورت میں صرف سرحد پار دہشت گردی' ممبئی' پٹھان کوٹ حملوں اور متعلقہ ایشوز پر بات ہو سکتی ہے مگر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ ایسی خبریں بھی شایع ہو رہی ہیں کہ بھارتی حکومت یہ تہیہ کر چکی ہے کہ وہ اب مسئلہ کشمیر پر پاکستان سے کوئی بات نہیں کرے گی جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ وہ اس مسئلے کا کوئی حل نہیں چاہتی۔ اقوام متحدہ بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے،اس تناظر میں آخر مسئلہ کشمیر کیسے حل ہو گا یہ سوال حل طلب ہے۔
Load Next Story