اوول ٹیسٹ میں فتح قوم جیت پر شاداں

پاکستان نے اوول ٹیسٹ جیت کر سیریز2-2 سے برابر کردی اور جشن آزادی کی خوشیاں دوبالا کردیں

چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے پاکستان کی کامیابی ٹیم اسپرٹ کا نتیجہ قرار دیدیا فوٹو: فائل

پاکستان نے اوول ٹیسٹ جیت کر سیریز2-2 سے برابر کردی اور جشن آزادی کی خوشیاں دوبالا کردیں، ایک طرف انگلینڈ کی ہوم سیریز فتوحات پر بریک لگادی جو گزشتہ 6 سیریز میں 3بار ایشز، 2مرتبہ بھارت اور ایک بار گرین کیپس کو مات دینے والی میزبان ٹیم تھی جب کہ دوسری طرف پاکستانی شاہینوں نے اپنی دھاک بٹھا دی،اسی گراؤنڈ پر گرین کیپس نے 5میچ جیتے، 2 میں شکست ہوئی،انگلینڈ کے کسی اور میدان پر پاکستانی کامیابیوں کا تناسب اس سے بہتر نہیں رہا۔ یوم آزادی پر قوم کو پاکستانی ٹیم کا یہ تحفہ گراں قدر تھا۔


اس جیت کا سہرا بلاشبہ یونس خان پر جاتا ہے جن کی ڈبل سنچری نے کھیل کا پانسہ پلٹ دیا، یونس خان میچ آف دی میچ جب کہ کپتان مصباح الحق مین آف دی سیریز قرار پائے۔ سہیل خان نے 6یاسر نے5 وہاب ریاض نے 5 کھلاڑی آؤٹ کیے ، فاسٹ باؤلرعامر کی تباہ کن فارم کا ابھی سب کو انتظار ہے۔ اس ''لیتھل ویپن'' کو نفسیاتی دباؤ کا عارضی مسئلہ در پیش ہے، تاہم ان کی پرفارمنس اچھی رہی، در حقیقت یہ ٹیم اسپرٹ ، جوش وجذبہ کے ساتھ کھیلنے کا بہترین نتیجہ تھا جس نے ثابت کیا کہ قومی ٹیم پر من موجی ہونے کا الزام درست نہیں بلکہ اس کے سر میں جیت کا سودا ہر وقت سمایا ہوتا ہے مگر کھیل میں ہار جیت تو ہوتی ہے کیونکہ مقابل جو ٹیم ہوتی ہے اسے بھی بہتر کھیلنے پر جیت کا حقدار قرار دینے کی ریت قائم ہونی چاہیے، کرکٹ پنڈتوں کو بھی میڈیا میں ڈنڈا اٹھا کر ہر شکست پر قومی ٹیم پر ٹوٹ پڑنے کی کیفیت سے نجات حاصل کرنی چاہیے، اسی کا نام اسپورٹسمین شپ ہے۔

منیجر انتخاب عالم نے کہا کہ تمام کرکٹرز اس اہم دن پر خوش اور ملک کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں، مصباح الحق نے ملک کے لیے کھیلنے کو بڑے اعزاز کی بات کہا ہے۔ یونس خان نے کہا کہ ملک کی نمایندگی کسی بھی کھلاڑی کی منزل ہوتی ہے، چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے پاکستان کی کامیابی ٹیم اسپرٹ کا نتیجہ قرار دیدیا، قومی ٹیم کی فتح کو لیجنڈ کرکٹر حنیف محمد مرحوم کے نام کر دینا ایک عظیم فیصلہ ہے ۔ معروف کرکٹ فلسفی نیول کارڈس نے کیا خوب کہا ہے کہ برطانوی آئین کی طرح کرکٹ بنائی نہیں گئی بلکہ اس کی نشوونما ہوئی ہے۔ اس میں معنی کا ایک جہاں مخفی ہے، اسی رائٹر کا کہنا ہے کہ ایک حقیقی بیٹسمین کو اپنے زیادہ تر اسٹروکس میں اپنے بارے میں سچائی کو بیان کرنا چاہیے۔
Load Next Story