اسٹیٹ بینک کا سونے اور زیورات کے تجارتی نظام پر عدم اعتماد پورا سسٹم بدلنے کے لیے سفارشات پیش

اسکیم کے تحت بیرون ملک سے سونا درآمد کرنے کے بعد اس سونے سے تیار کردہ زیورات ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں

ہنڈی حوالہ کے بجائے بینکاری نظام سے درآمدی ادائیگیوں سے انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں پایا جانے والا فرق کم ہوگا، مرکزی بینک۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سونے کی درآمد اور طلائی زیورات کی ایکسپورٹ میں سنگین بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سونے کی امپورٹ ایکسپورٹ وفاقی وزارت تجارت کے بجائے مرکزی بینک کے ذریعے ریگولیٹ کرنے، بھارت کی طرز پر درآمدی ڈیوٹی وٹیکسز عائد اور ادائیگیاں بینکاری چینل کے ذریعے کرنے کی تجاویز وفاقی وزارت خزانہ کو ارسال کردی۔اسٹیٹ بینک کی تجاویز میں نشاندہی کی گئی کہ سونے کی درآمد اور طلائی زیورات کی برآمدکے لیے امپورٹ پالیسی آرڈر 2012-15اور ایس آر او 760 کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔

امپورٹ پالیسی آرڈر کے تحت درآمد ہونے والے سونے کی ادائیگی حوالہ ہنڈی سے کی جاتی ہے جس کی وجہ سے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوتا ہے اور پاکستانی روپے کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سونے کی درآمداور طلائی زیورات کی برآمدکیلیے ایس آر او 760کے ذریعے دی جانے والی سہولت کا بھی غلط استعمال کیا جاتا ہے، اس اسکیم کے تحت بیرون ملک سے سونا درآمد کرنے کے بعد اس سونے سے تیار کردہ زیورات ایکسپورٹ کیے جاتے ہیں اور صرف جیولری کی تیاری کی اجرت بینکاری چینل سے منگوائی جاتی ہے۔


اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاقی وزارت خزانہ کو آگاہ کیا کہ مذکورہ اسکیم کا غلط استعمال کرتے ہوئے درآمدی سونا غیرقانونی طریقے سے بھارت اسمگل کردیا جاتا ہے کیونکہ بھارت میں سونے کی درآمد پر10فیصد ڈیوٹی عائد ہے، اسمگلرز سونے کے بجائے مصنوعی زیورات برآمدکرکے ایس آر او کے قانونی تقاضے پورے کر دیتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مذکورہ بے قاعدگیوں کی روک تھام کے لیے متحرک اور شفاف نظام کی تشکیل کی تجویز دی ہے جس کے تحت درآمدی سونے کی ادائیگیاں بینکاری نظام سے کرنا لازمی ہوگا، اس نظام کے تحت سونے کی درآمد کے لیے کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئے نظام کو رائج کرنے کے لیے سونے کی درآمد اور طلائی زیورات کی برآمد کے لیے استعمال ہونے والے امپورٹ پالیسی آرڈر اور ایس آر او 760 کے طریقوں کو ختم کرنے کی سفارش بھی کی اور کہا کہ سونے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھارت کی طرز پردرآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکسز عائد کیے جائیں، درآمدی سونے سے زیورات تیار کرکے برآمد کرنے والے ایکسپورٹرز کو برآمدی آمدن موصول ہونے کی تصدیق کے بعد ڈیوٹی ڈرا بیک ادا کیا جائے۔ بینکاری ریگولیٹر نے نئے نظام کے تحت سونے کی درآمد کی سختی سے مانیٹرنگ کے لیے2بینکوں کو نیلامی کے ذریعے سونے کی امپورٹ کے انتظام کے اجازت نامے جاری کرنے کی تجویز دی ہے جبکہ سہ ماہی بنیادوں پر سونے کی درآمد کا کوٹا مقرر کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک میں اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کا قیام بھی تجویز کیاہے، اس کے ساتھ ہی درآمدی کوٹا بھی صرف مستحکم مالی ساکھ کے حامل درآمد کنندگان کو لائسنس کی نیلامی کے ذریعے جاری کرنے کی سفارش کی ہے جو مقررہ کوٹا مختلف کنسائمنٹس کی شکل میں درآمد کرسکیں گے۔

مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ سونے کی درآمد اور طلائی زیورات کی برآمدکو مرکزی بینک کے ذریعے ریگولیٹ اور بینکاری نظام سے ادائیگیوں کے مجوزہ طریقے سے سونے کی درآمد کو شفاف بنانے میں مدد ملے گی کیونکہ ملک میں صرف 2بینک ہی سونا درآمد کرسکیں گے، اس طرح سونے کی درآمد کی نگرانی آسان ہوگی اور بے قاعدگی کرنے والے عناصر کی بیخ کنی میں مدد ملے گی، اس نظام سے برآمدکنندگان اپنی رقوم بینکاری نظام کے ذریعے وطن لانے کے پابند ہوں گے، اس طرح اوپن مارکیٹ میں سرمائے کی ریل پیل ہوگی اور مارکیٹ پر دباؤ کم ہوگا،ہنڈی حوالہ کے بجائے بینکاری نظام سے درآمدی ادائیگیوں سے انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں پایا جانے والا فرق کم ہوگا۔
Load Next Story