دہشتگردی اور پوائنٹ اسکورنگ کلچر

دنیا بھر میں مسلمہ جمہوری طریقہ کار کے تحت سیاسی اقتدار کی تبدیلی عمل میں لائی جاتی ہے

سنجیدگی سے قومی ایشوز پرسیاست ہو، ملکی سالمیت اور داخلی امن وامان کو ترجیح دی جانی چاہیے ۔ فوٹو: آئی این پی

دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے جو ہمہ جہت اسٹرٹیجی، مربوط دفاعی و مزاحمتی اور دہشتگردی مخالف میکنزم ، سیاسی ارادہ اور عسکری ہم آہنگی ناگزیر ہے اس جانب اب حقیقی پیش رفت کے امکانات ہی نہیں بلکہ ٹھوس آثار اور اقدامات کی ضرورت کا ادراک و احساس وفاقی حکومت کے انداز عمل سے نمایاں ہے اور اس ضمن میں وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ناصر جنجوعہ قومی ایکشن پلان (نیپ) کی عملدرآمدی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جب کہ سرحدی انتظام اورداخلی سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سول آرمڈ فورسز کے 29 ونگ قائم کرنے اور سائبر کرائم قوانین کو جلدازجلد نافذالعمل بنانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔

تاہم کمیٹی کا صل کام ایک چیلنج سے کم نہیں، دہشتگردی کی کیمسٹری اور دہشگرد تنظیموں کی گوریلا وار حکمت عملی کواہداف تک پہنچنے سے پہلے تہس نہس کرنے سے عبارت ہے، دیکھنا یہ ہوگا کہ نیکٹا اور دیگر اتھارٹیز اور کمیٹیوں کے تشکیل سے کیا مطلوبی نتائج حاصل ہوئے، اگر شناختی کارڈ کی تصدیق ، کرپشن ، بد انتظامی اور بد امنی کی روک تھام کے لیے اقدامات میں صوبائی اداروں کی وفاق سے ہم آہنگی کی کوئی مثال نمونہ ڈھونڈا جائے تو شدید مایوسی ہوتی ہے کیونکہ سیاسی و عسکری قیادت کے ایک پیج پر ہونے کا دعویٰ تو کیا جاتا ہے مگر زمینی و سیاسی حرکیات ، شراکت داروں کے اشتراک عمل اور قومی سیاسی سوچ کی روشنی میں ملک کو دہشتگردی ، کرپشن اور داخلی عدم تحفظ کے گریٹرا ہداف تک رسائی میں اس اتفاق رائے کا فقدان نظر آتا جو سیاسی مین اسٹریم جمہوری عمل کو قومی ایشوز کی اہمیت اور ناگزیریت سے جوڑتا ہے اور سیاسی جماعتیں قوم کو درپیش چیلنجوں پر تمام سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیتی ہیں مگر ملکی سیاست میں ایسا نہیں ہے۔

ہر پارٹی کی اپنی ڈفلی اپنا راگ ہے، ملک حالت جنگ میں ہے لیکن پوائنٹ اسکورنگ کلچر ، حکومت کے خاتمے، احتجاجی ریلیوں اور دھرنوں کے یکجا ہوتے ہوئے خطرات سے سیاسی فضا بوجھل ہے، الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں متنازع تقریر پر محمود اچکزئی کو یکم ستمبر کو طلب کر لیا جب کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے بھی رائے طلب کر لی، علاوہ ازیں وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق درخواست 17 اگست تک ملتوی کر دی ۔ادھر سندھ میں ایپکس کمیٹی کی کارکردگی نشستند و گفتند وبرخاستند کی مظہر ہے، لہٰذا نیپ پر عملدرآمد کمیٹی پر بھاری ذمے داری ڈالی گئی ہے۔


اس کمیٹی کو دہشتگردی کے بنیادی اسباب و علل کی تہہ تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں انتہا پسندی ، خود کش حملوں اور بم دھماکوں کے سدباب کے لیے وسائل کا بھرپور استعمال یقینی بنانا ہوگا۔بتایا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سی پیک اور انٹرنل سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سول آرمڈ فورسزکے 29ونگزکے قیام پر50 ارب روپے لاگت آئیگی، یہ ونگز پاک چین اقتصادی راہداری کے مکمل تحفظ کے لیے قائم ہونگے۔وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے سی پیک منصوبے کوجلدپایہ تکمیل تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔

صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ بدامنی اور دہشت گردی جیسے مسائل صرف انتظامی اقدامات اور طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہوسکتے بلکہ اس کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت ہے جن میں معیشت کی بہتری، روزگار و انصاف کی فراہمی اور بامقصد و یکساں نظام تعلیم ضروری ہے۔ باتیں صائب ہیں مگر وہ کون سے ادارے ہیں جو دہشتگردی کے خاتمہ اور سماجی و معاشی اقدامات کے درمیان توازن قائم کرنے میں پہل کریں گے۔ سیاست میں افراتفری کی موجودہ صورتحال تشویش ناک ہے، خطے میں سیاسی بھونچال کے خدشات سر اٹھائے ہوئے ہیں، بعض سیاسی جماعتوں کی احتجاجی حکمت عملی پر میڈیا اور سیاسی و سماجی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے کہ اگر وزیراعظم کی نااہلی کے ریفرنسوں یا ٹی اوآرز کی تشکیل و ترتیب میں تاخیر و عدم دلچسپی کا شاخسانہ جمہوری حکومت اور نظام کے سقوط سے مشروط کیے جانے کی دیر ہے تو بتایا جائے کہ مشتعل اور برہم سیاسی جماعتوں کے پاس اس ہنگامہ داروگیر میں امید کی روشنی کی کوئی کرن ہیَ یا کسی کے ہاتھ کوئی الہ دین کا جادوئی چراغ لگ گیا ہے تو بھی قوم کو آگاہ کیا جائے۔

دنیا بھر میں مسلمہ جمہوری طریقہ کار کے تحت سیاسی اقتدار کی تبدیلی عمل میں لائی جاتی ہے، مگر ملکی صورتحال دو خانوں میں بٹ چکی ہے، ایک طرف دہشتگردی سے نبرد آزما ہونے کی ریاستی و عوامی سوچ ہے اور دوسری جانب سیاسی جماعتیں اس روش بندہ پروری کے مقابل کھڑی ہیں جو جمہوریت کو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے دو پہیوں کے مماثل قرار دیتا ہے۔

المیہ یہ ہے کہ ملکی سیاست میں تالی دوہاتھوں سے نہیں بجائی جاتی اس کے لیے تیسری قوت کی شرکت کے متمنی بھی بہت ہیں۔ اہل وطن دل گرفتہ ہیں کہ ملک میں غربت و بیروزگاری کے خاتمہ ، میرٹ ، امن وامان کی بحالی اور جمہوری ثمرات کی تقسیم کے لیے کوئی اصولی اور ادارہ جاتی میکنزم موجود نہیں جب کہ ضرورت اجتماعی اور مشترکہ افہاام و تفہیم اور خیر سگالی کی ہے۔ کوئٹہ سانحے کو ابھی زیادہ دن نہیں گزرے، شہدا کی روحیں منتظر ہیں کہ ارباب اختیار اور سیاسی و جمہوری قوتیں ایک پیج پر آجائیں، سیاسی ہیجان انگیزی کا سلسلہ رکنا چاہیے، سنجیدگی سے قومی ایشوز پرسیاست ہو، ملکی سالمیت اور داخلی امن وامان کو ترجیح دی جانی چاہیے ۔
Load Next Story