واحد بلوچ بھی لاپتہ
واحد بلوچ کو تاریخی دستاویزات جمع کرنے کا شوق ہے ۔اس شوق کی بناء پر ان کے پاس نادرنسخے جمع ہوگئے۔
tauceeph@gmail.com
رحیم بخش آزادایک ادارے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی طویل زندگی مظلوم طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں گزری۔آزاد بلوچی ادب میں ایک بنیادی حیثیت کے حامل ہیں اور لیاری اور کراچی کے مختلف علاقوں کے نوجوان گزشتہ صدی کے وسط سے رحیم بخش آزاد کی سیاسی اور ادبی نظریات کے اسیر رہے ہیں ۔واحد بلوچ نے آزاد سے سیاسی اور ادبی تربیت حاصل کی اورپھر بی ایس او میں متحرک رہے ۔واحد بلوچ کا تعلق نچلے متوسط طبقے سے ہے،اس بناء پر واحد کو بہت جلد روزگارکی جدوجہد سے منسلک ہونا پڑا کراچی کے دوسرے بڑے سول اسپتال میں ملازم ہوئے جس کے بعد وہ عملی سیاست میں تو نہیں آئے مگر سول اسپتال کے ملازمین کو منظم کرنے میں لگ گئے اور سابقہ اردوکالج کے شعبہ ابلاغ عامہ میں پوسٹ گریجویٹ کی سند حاصل کی اور بلوچی ادب کی فروغ میں مصروف ہوگئے۔ واحد نے کئی کتابوں کے بلوچی میں ترجمے کیے اور سماجی علوم کے رسالے شایع کیے ۔
واحد بلوچ کو تاریخی دستاویزات جمع کرنے کا شوق ہے ۔اس شوق کی بناء پر ان کے پاس نادرنسخے جمع ہوگئے۔ دانشور اسلم خواجہ بتاتے ہیں کہ کمیونسٹ پارٹی پاکستان کے پہلے سیکریٹری جنرل سجاد ظہیر کی بہن نورسجاد ظہیر کراچی آئیں اور لٹریچر فیسٹیول میں اسلم نے واحد کی نور سے ملاقات کرائی تو واحد نے یہ انکشاف کر کے سب کو حیرت زدہ کردیا کہ جب 1951ء میں سجاد ظہیر راولپنڈی سازش کیس میں مچھ جیل میں بند تھے تو انھوں نے ایک غزل لکھی تھی جو ممتاز بلوچ ادیب عبداللہ جمال دینی کی ادارت میں شایع ہونے والے بلوچی زبان کے رسالے میں شایع ہوئی تھی۔
اس رسالے کی ایک نقل واحد کے پاس موجود ہے ۔واحد نے پروفیسر صبا دشتیاری کے قتل کے بعد ملیرکی لائبریری کا انتظام سنبھال لیا تھا ۔وہ اس لائبریری کو بلوچی ادب کا مرکز بنانے کے خواہاں تھے ۔عبدالواحد بلوچ نے سول اسپتال کے پیرا میڈیکل اسٹاف کی انجمن سازی میں اہم کردارادا کیا ۔وہ اپنی سرگرمیوں کی بناء پر زیرعتاب رہے مگر واحد نے دیگر ٹریڈ یونین رہنماؤں کی طرح کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا ۔وہ روزانہ بلوچستان اور اندرون سندھ سے آنے والے بیمار مریضوں کے علاج معالجے اور انھیں سول اسپتال میں داخل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے۔ واحد مریضوںکے علاج معالجے کے لیے بیشتر ڈاکٹروں کے دفاترکے چکر لگاتے، کسی مریض کے آپریشن کے لیے بے ہوشی کے ماہرکے پاس جاتے تھے توکبھی ٹیکنیشن کو جمع کرتے اورکبھی زکوٰۃ کے فارم کی تصدیق کرنے کے لیے اردو یونیورسٹی پہنچ جاتے۔
واحد بلوچ15 دن قبل ڈگری میں ایک ادبی تقریب میں شرکت کے بعد اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کراچی آرہے تھے کہ ایک موٹر سائیکل پر آئے ہوئے سادہ کپڑوں میں ملبوس دو افراد نے انھیں روکا، دونوں افراد نے ان سے شناختی کارڈ طلب کیے، واحد بلوچ اور ان کے ساتھی نے شناختی کارڈ دِکھا دیے مگر پھر ایک فرد نے موبائل پر نامعلوم افراد سے بات کی جس کے فوری بعد ایک سیاہ شیشے والی کار آئی اور واحد بلوچ کو بٹھا کر لے گئی ۔
ان کے ساتھی نے ان کے بچوں کو اطلاع دی ۔بچوں نے گڈاپ تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی مگر پولیس افسران تیار نہ ہوئے ، یوں واحد کا نام بھی لاپتہ افراد میں شامل ہوگیا ۔ ویسے تو لاطینی امریکا اورافریقی ممالک میں لاپتہ افراد کی اصطلاح بہت پرانی ہے مگر پاکستان میں اس صدی کے آغاز سے یہ اصطلاح پھر استعمال ہونے لگی ۔ نامعلوم افراد سیاسی اور سماجی کارکنوں، طالب علموں، مزدوروں، کسانوں اور وکلاء وغیرہ کو سیاہ رنگت والی ڈبل کیبن والی گاڑی میں عموماً لے جاتے ہیں۔ لاپتہ ہونے والے افراد میں سے کچھ واپس آگئے ، کچھ کی مسخ شدہ لاشیں ملی اور کچھ ہمیشہ کے لیے لاپتہ ہوگئے ۔
انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بلوچستان میں ایک ہزار مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں ۔ان لاشوں میں سے بیشترغیر سیاسی کارکن تھے اور ان میں سے کچھ کا تعلق ان گروپوں سے تھا ، جو بلوچستان کوگوریلا جدوجہد کے ذریعے آزاد کرانا چاہتے ہیں مگر ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے تھے اور اپنے قلم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے رائے عامہ کو تبدیل کرانے چاہتے تھے ۔ ان میں کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو اس صدی کے آغاز پر لاپتہ ہوئے اور مگر اب تک ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں وفاق اور بلوچستان میں قائم ہوئیں تو گمشدہ افراد کی بازیابی کا معاملہ اہم ہوا ۔ وفاقی حکومت کی کوششوں سے مری اور بگٹی قبائل سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد اپنے گھروں کو پہنچے ۔ جسٹس افتخار چوہدری نے گمشدہ افراد کی بازیابی کے معاملے کو اہمیت دی ۔سپریم کورٹ کی کوششوں کے نتیجے میں بہت سے افراد کو رہائی ملی کچھ کے بارے میں وکلا نے تسلیم کیا وہ سرکاری نگرانی میں ہیں مگر پھر امن و امان کی صورتحال بگڑنے سے سپریم کورٹ کی توجہ دوسرے معاملات کی طرف ہوگئی ۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات کے لیے ایک مشن پاکستان بھیجا ۔ اقوام متحدہ کے اس مشن سے وزارت خارجہ اور داخلہ کے حکام نے تعاون نہیں کیا ۔ وفاقی اورصوبائی وزراء اس مشن سے دور رہے ۔اس مشن کے اراکین ملک بھر میں لاپتہ افراد کے بارے میں حقائق جمع کیے اور ایک جامع رپورٹ تیارکی گئی ۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بننے سے انسانی حقوق کے حوالے سے زرداری حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا ۔
2013ء میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی نیشنل پارٹی نے بلوچستان میں حکومت قائم کی ، جن کا متوسط اور نچلے متوسط سے تعلق ہے ، نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے سخت پالیسی اختیار کی جس کی بناء پر بلوچستان کے حالات بہتر ہوئے، ہزارہ برادری کی نسل کشی کا سلسلہ تھم گیا اورلاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پیش رفت ہوئی ۔ بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل نکالنے کے لیے جلا وطن بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ۔ لندن میں مقیم خان آف قلات اور براہمداغ بگٹی کو مذاکرات کے لیے تیار کیا گیا مگر ڈاکٹر مالک کی حکومت کے خاتمے کے بعد مذاکرات کا سلسلہ رک گیا اور مذہبی انتہا پسندوں کی سرگرمیاں شدت اختیارکرگئیں۔
واحد بلوچ کی گمشدگی کا تعلق بلوچستان کے بنیادی معاملات سے منسلک ہے۔ بلوچستان بدترین استحصال کا شکار رہا ہے، نیشنل عوامی پارٹی نے میرغوث بخش بزنجو، سردارعطاء اللہ مینگل اور خیر بخش مری کی قیادت میں تاریخی جدوجہد کی۔ 1970ء کے انتخابات میں نیپ بلوچستان میں اکثریت سے کامیاب ہوئی، 1972ء میں صدر بھٹو نے میر غوث بخش بزنجو کو گورنر بلوچستان نامزد کیا، عطاء اللہ مینگل کی قیادت میں نیپ کی حکومت قائم ہوئی بھٹو حکومت نے 9ماہ بعد نیپ حکومت کو توڑ دیا ۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن ہوا ،اس سے قبل 1952ء اور 1958ء میں بھی فوجی آپریشن ہوئے مگر یہ آپریشن ناکام رہے جس پر بلوچ وفاق سے مایوس ہوئے ۔
جنرل پرویز مشرف دور میں نواب اکبر بگٹی ایک فوجی آپریشن میں جاں بحق ہوئے اور بلوچستان میں ایک اور آپریشن ہوا، اکبر بگٹی پاکستان کے حامی سردار تھے۔ یوں انتہا پسندوں کو تقویت حاصل ہوئی نوجوانوں کے ایک گروہ نے ہتھیار اٹھا لیے جس کے نتیجے میں غیر مقامی افراد قتل ہوئے سیاسی کارکن لاپتہ ہونے لگے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگی ۔ ڈاکٹر مالک کی حکومت کے قیام کے بعد حالات بہتر ہوئے اور اب بلوچ مڈل کلاس وفاق میں حصے کی طلب گار ہے مگر عسکری مقتدرہ کی بعض پالیسیاں صورتحال کو خراب کررہی ہیں۔
واحد بلوچ نے بہت پرامن سیاسی جدوجہد پر زور دیا، وہ عجز کا پیکر ہیں، علم دوست ہیں، وہ لیاری، ملیر اور دوسرے علاقوں کے نوجوانوں کو اسٹڈی سرکل میں جمع کرکے کتاب پڑھاتے اور اس موضوع پر بحث و مباحثے کی ترویج کرتے تھے ، ان کے لاپتہ ہونے سے متعدد سوالات ابھر کر سامنے آئے، اگر بندوق برداروں اور پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا تو نوجوانوں کو انتہا پسندی میں زیادہ دلچسپی پیدا ہوگی اس سے حالات مزید خراب ہوں گے۔
واحد بلوچ کو تاریخی دستاویزات جمع کرنے کا شوق ہے ۔اس شوق کی بناء پر ان کے پاس نادرنسخے جمع ہوگئے۔ دانشور اسلم خواجہ بتاتے ہیں کہ کمیونسٹ پارٹی پاکستان کے پہلے سیکریٹری جنرل سجاد ظہیر کی بہن نورسجاد ظہیر کراچی آئیں اور لٹریچر فیسٹیول میں اسلم نے واحد کی نور سے ملاقات کرائی تو واحد نے یہ انکشاف کر کے سب کو حیرت زدہ کردیا کہ جب 1951ء میں سجاد ظہیر راولپنڈی سازش کیس میں مچھ جیل میں بند تھے تو انھوں نے ایک غزل لکھی تھی جو ممتاز بلوچ ادیب عبداللہ جمال دینی کی ادارت میں شایع ہونے والے بلوچی زبان کے رسالے میں شایع ہوئی تھی۔
اس رسالے کی ایک نقل واحد کے پاس موجود ہے ۔واحد نے پروفیسر صبا دشتیاری کے قتل کے بعد ملیرکی لائبریری کا انتظام سنبھال لیا تھا ۔وہ اس لائبریری کو بلوچی ادب کا مرکز بنانے کے خواہاں تھے ۔عبدالواحد بلوچ نے سول اسپتال کے پیرا میڈیکل اسٹاف کی انجمن سازی میں اہم کردارادا کیا ۔وہ اپنی سرگرمیوں کی بناء پر زیرعتاب رہے مگر واحد نے دیگر ٹریڈ یونین رہنماؤں کی طرح کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا ۔وہ روزانہ بلوچستان اور اندرون سندھ سے آنے والے بیمار مریضوں کے علاج معالجے اور انھیں سول اسپتال میں داخل کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے۔ واحد مریضوںکے علاج معالجے کے لیے بیشتر ڈاکٹروں کے دفاترکے چکر لگاتے، کسی مریض کے آپریشن کے لیے بے ہوشی کے ماہرکے پاس جاتے تھے توکبھی ٹیکنیشن کو جمع کرتے اورکبھی زکوٰۃ کے فارم کی تصدیق کرنے کے لیے اردو یونیورسٹی پہنچ جاتے۔
واحد بلوچ15 دن قبل ڈگری میں ایک ادبی تقریب میں شرکت کے بعد اپنے ایک ساتھی کے ساتھ کراچی آرہے تھے کہ ایک موٹر سائیکل پر آئے ہوئے سادہ کپڑوں میں ملبوس دو افراد نے انھیں روکا، دونوں افراد نے ان سے شناختی کارڈ طلب کیے، واحد بلوچ اور ان کے ساتھی نے شناختی کارڈ دِکھا دیے مگر پھر ایک فرد نے موبائل پر نامعلوم افراد سے بات کی جس کے فوری بعد ایک سیاہ شیشے والی کار آئی اور واحد بلوچ کو بٹھا کر لے گئی ۔
ان کے ساتھی نے ان کے بچوں کو اطلاع دی ۔بچوں نے گڈاپ تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی مگر پولیس افسران تیار نہ ہوئے ، یوں واحد کا نام بھی لاپتہ افراد میں شامل ہوگیا ۔ ویسے تو لاطینی امریکا اورافریقی ممالک میں لاپتہ افراد کی اصطلاح بہت پرانی ہے مگر پاکستان میں اس صدی کے آغاز سے یہ اصطلاح پھر استعمال ہونے لگی ۔ نامعلوم افراد سیاسی اور سماجی کارکنوں، طالب علموں، مزدوروں، کسانوں اور وکلاء وغیرہ کو سیاہ رنگت والی ڈبل کیبن والی گاڑی میں عموماً لے جاتے ہیں۔ لاپتہ ہونے والے افراد میں سے کچھ واپس آگئے ، کچھ کی مسخ شدہ لاشیں ملی اور کچھ ہمیشہ کے لیے لاپتہ ہوگئے ۔
انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال بلوچستان میں ایک ہزار مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں ۔ان لاشوں میں سے بیشترغیر سیاسی کارکن تھے اور ان میں سے کچھ کا تعلق ان گروپوں سے تھا ، جو بلوچستان کوگوریلا جدوجہد کے ذریعے آزاد کرانا چاہتے ہیں مگر ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے تھے اور اپنے قلم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے رائے عامہ کو تبدیل کرانے چاہتے تھے ۔ ان میں کچھ لوگ وہ بھی ہیں جو اس صدی کے آغاز پر لاپتہ ہوئے اور مگر اب تک ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا۔
2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں وفاق اور بلوچستان میں قائم ہوئیں تو گمشدہ افراد کی بازیابی کا معاملہ اہم ہوا ۔ وفاقی حکومت کی کوششوں سے مری اور بگٹی قبائل سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد اپنے گھروں کو پہنچے ۔ جسٹس افتخار چوہدری نے گمشدہ افراد کی بازیابی کے معاملے کو اہمیت دی ۔سپریم کورٹ کی کوششوں کے نتیجے میں بہت سے افراد کو رہائی ملی کچھ کے بارے میں وکلا نے تسلیم کیا وہ سرکاری نگرانی میں ہیں مگر پھر امن و امان کی صورتحال بگڑنے سے سپریم کورٹ کی توجہ دوسرے معاملات کی طرف ہوگئی ۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات کے لیے ایک مشن پاکستان بھیجا ۔ اقوام متحدہ کے اس مشن سے وزارت خارجہ اور داخلہ کے حکام نے تعاون نہیں کیا ۔ وفاقی اورصوبائی وزراء اس مشن سے دور رہے ۔اس مشن کے اراکین ملک بھر میں لاپتہ افراد کے بارے میں حقائق جمع کیے اور ایک جامع رپورٹ تیارکی گئی ۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ریکارڈ کا حصہ بننے سے انسانی حقوق کے حوالے سے زرداری حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا ۔
2013ء میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی نیشنل پارٹی نے بلوچستان میں حکومت قائم کی ، جن کا متوسط اور نچلے متوسط سے تعلق ہے ، نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے سخت پالیسی اختیار کی جس کی بناء پر بلوچستان کے حالات بہتر ہوئے، ہزارہ برادری کی نسل کشی کا سلسلہ تھم گیا اورلاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے پیش رفت ہوئی ۔ بلوچستان کے مسئلے کا مستقل حل نکالنے کے لیے جلا وطن بلوچ رہنماؤں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ۔ لندن میں مقیم خان آف قلات اور براہمداغ بگٹی کو مذاکرات کے لیے تیار کیا گیا مگر ڈاکٹر مالک کی حکومت کے خاتمے کے بعد مذاکرات کا سلسلہ رک گیا اور مذہبی انتہا پسندوں کی سرگرمیاں شدت اختیارکرگئیں۔
واحد بلوچ کی گمشدگی کا تعلق بلوچستان کے بنیادی معاملات سے منسلک ہے۔ بلوچستان بدترین استحصال کا شکار رہا ہے، نیشنل عوامی پارٹی نے میرغوث بخش بزنجو، سردارعطاء اللہ مینگل اور خیر بخش مری کی قیادت میں تاریخی جدوجہد کی۔ 1970ء کے انتخابات میں نیپ بلوچستان میں اکثریت سے کامیاب ہوئی، 1972ء میں صدر بھٹو نے میر غوث بخش بزنجو کو گورنر بلوچستان نامزد کیا، عطاء اللہ مینگل کی قیادت میں نیپ کی حکومت قائم ہوئی بھٹو حکومت نے 9ماہ بعد نیپ حکومت کو توڑ دیا ۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن ہوا ،اس سے قبل 1952ء اور 1958ء میں بھی فوجی آپریشن ہوئے مگر یہ آپریشن ناکام رہے جس پر بلوچ وفاق سے مایوس ہوئے ۔
جنرل پرویز مشرف دور میں نواب اکبر بگٹی ایک فوجی آپریشن میں جاں بحق ہوئے اور بلوچستان میں ایک اور آپریشن ہوا، اکبر بگٹی پاکستان کے حامی سردار تھے۔ یوں انتہا پسندوں کو تقویت حاصل ہوئی نوجوانوں کے ایک گروہ نے ہتھیار اٹھا لیے جس کے نتیجے میں غیر مقامی افراد قتل ہوئے سیاسی کارکن لاپتہ ہونے لگے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں ملنے لگی ۔ ڈاکٹر مالک کی حکومت کے قیام کے بعد حالات بہتر ہوئے اور اب بلوچ مڈل کلاس وفاق میں حصے کی طلب گار ہے مگر عسکری مقتدرہ کی بعض پالیسیاں صورتحال کو خراب کررہی ہیں۔
واحد بلوچ نے بہت پرامن سیاسی جدوجہد پر زور دیا، وہ عجز کا پیکر ہیں، علم دوست ہیں، وہ لیاری، ملیر اور دوسرے علاقوں کے نوجوانوں کو اسٹڈی سرکل میں جمع کرکے کتاب پڑھاتے اور اس موضوع پر بحث و مباحثے کی ترویج کرتے تھے ، ان کے لاپتہ ہونے سے متعدد سوالات ابھر کر سامنے آئے، اگر بندوق برداروں اور پرامن سیاسی جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا تو نوجوانوں کو انتہا پسندی میں زیادہ دلچسپی پیدا ہوگی اس سے حالات مزید خراب ہوں گے۔