سزا یافتہ بھارتی کرکٹر کی ستائش یونس نے اپنے خلاف نیا محاذ کھول لیا
اظہرکوسراہنا پاکستانی کرکٹ حلقوں کوایک آنکھ نہ بھایا، بورڈ حکام کے ماتھے پر شکنیں نمودار،آفیشل طور پر بازپرس سے گریز
اپنے توریٹائرمنٹ پر زوراورٹیم پر بوجھ قرار دے رہے تھے،سابق اسٹارنے تکنیکی مشورہ دیا،ڈبل سنچری کاکریڈٹ ان کوجاتا ہے، یونس فوٹو: فائل
MUZAFFARABAD:
اوول ٹیسٹ میں فتح کے بعد یونس خان کی جانب سے اظہر الدین کی ستائش پاکستانی کرکٹ حلقوں کو ایک آنکھ نہ بھائی، مخصوص انداز کے حامل الگ تھلگ رہنے والے اسٹار بیٹسمین نے اپنے خلاف اب ایک نیا محاذ کھول لیا ہے، بورڈ گوکہ ان سے آفیشل طور پر بازپرس کا ارادہ تو نہیں رکھتا البتہ حکام کے ماتھے پر شکنیں ضرور نمودار ہو گئی ہیں،اسی طرح کئی سابق کرکٹرز کو بھی فکسنگ میں سزا یافتہ ایک سابق بھارتی کرکٹر کو صرف ایک فون کال پر اتنا آسمان پر چڑھا دینا پسند نہیں آیا۔
تفصیلات کے مطابق انگلینڈ سے اوول ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد مین آف دی میچ یونس نے کہا تھا کہ ''میچ سے قبل سابق بھارتی کپتان اظہر الدین کی ایک فون کال موصول ہوئی، انھوں نے میری تکنیک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کریز کے اندر ٹھہر کر بیٹنگ کرنا چاہیے، یہ مشورہ کام آیا اور اوول میں ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب ہوا''۔
یاد رہے کہ اظہر الدین 2000 میں میچ فکسنگ اسکینڈل سامنے آنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے تاحیات پابندی کے سزاوار ٹھہرے تھے، 8 نومبر 2012کو آندھرا پردیش ہائیکورٹ نے ان پر بین ختم کرنے کا فیصلہ دیدیا تھا، عام طور پر میڈیا سے الگ تھلگ رہنے کی روش اپنانے والے یونس کی ''اظہرنوازی'' پر بورڈ حکام ناک بھوں چڑھانے لگے،اگرچہ ان کیخلاف کسی انضباطی کارروائی کا امکان تو موجود نہیں لیکن انھیں آئندہ محتاط رہنے کیلیے زبانی ہدایت دی جا سکتی ہے، بیشتر سابق پاکستانی کرکٹرز کا کہنا ہے کہ تکینکی مسائل پر بات چیت کیلیے تجربہ کار بیٹسمین کسی ہم وطن سینئر سے بھی بات کرسکتے تھے لیکن انھوں نے مشکوک ماضی کے حامل بھارتی کھلاڑی کو انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر بڑھا چڑھا کے پیش کردیا۔
دوسری جانب یونس خان نے کہا کہ باقی لوگ تو کہہ رہے تھے کہ میرے رفلیکسز سست اور عمر زیادہ ہوگئی، میں ٹیم پر بوجھ بن رہا ہوں، ریٹائر ہوجانا چاہیے، میں ان کو تو کریڈٹ نہیں دے سکتا تھا، اظہر بھائی نے تکنیکی بات کی، میں کس کی مانتا؟ میری اوول کی اننگز کا کریڈٹ بھی ان کو ہی جاتا ہے،انھوں نے ہی بروقت میرے درست رہنمائی کی اور اچھا مشورہ دیا جس کا فائدہ بھی ہوا، میں یہ نہیں کرسکتا تھا کہ وہ پڑوسی ملک کے ہیں تو ان کی بات نہ کروں۔دوسری جانب اظہر الدین نے کہا کہ یونس سے قریبی تعلق ہے،دبئی میں ملتا رہتا ہوں، فون پر بات چیت بھی ہوتی ہے، اتنے اچھے کرکٹر کو ناکام ہوتے دیکھ کر اچھا نہیں لگا، میرا تجربہ ہے کہ انگلینڈ میں کریز سے باہر کھڑے ہوکر سوئنگ کھیلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انھیں مشورہ دیا جو کارگر ثابت ہوا، سینئر بیٹسمین نے کنڈیشنز سے مطابقت پیدا کی اور کامیاب ہوئے، انھوں نے کہا کہ میں سادگی، عاجزی اور دوسروں سے حسن سلوک کی وجہ سے یونس خان کو پسند کرتاہوں،اس لیے فون کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ سابق بھارتی قائد نے کہا کہ 42سالہ مصباح کھیل سکتے ہیں تو یونس کیوں نہیں،میرے خیال میں انھیں مزید 2 سال کھیلنا چاہیے،پی سی بی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ سینئر بیٹسمین پر چھوڑ دے اور جب بھی موقع آئے انھیں اعزاز کیساتھ رخصت کیا جائے۔
اوول ٹیسٹ میں فتح کے بعد یونس خان کی جانب سے اظہر الدین کی ستائش پاکستانی کرکٹ حلقوں کو ایک آنکھ نہ بھائی، مخصوص انداز کے حامل الگ تھلگ رہنے والے اسٹار بیٹسمین نے اپنے خلاف اب ایک نیا محاذ کھول لیا ہے، بورڈ گوکہ ان سے آفیشل طور پر بازپرس کا ارادہ تو نہیں رکھتا البتہ حکام کے ماتھے پر شکنیں ضرور نمودار ہو گئی ہیں،اسی طرح کئی سابق کرکٹرز کو بھی فکسنگ میں سزا یافتہ ایک سابق بھارتی کرکٹر کو صرف ایک فون کال پر اتنا آسمان پر چڑھا دینا پسند نہیں آیا۔
تفصیلات کے مطابق انگلینڈ سے اوول ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد مین آف دی میچ یونس نے کہا تھا کہ ''میچ سے قبل سابق بھارتی کپتان اظہر الدین کی ایک فون کال موصول ہوئی، انھوں نے میری تکنیک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کریز کے اندر ٹھہر کر بیٹنگ کرنا چاہیے، یہ مشورہ کام آیا اور اوول میں ڈبل سنچری بنانے میں کامیاب ہوا''۔
یاد رہے کہ اظہر الدین 2000 میں میچ فکسنگ اسکینڈل سامنے آنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے تاحیات پابندی کے سزاوار ٹھہرے تھے، 8 نومبر 2012کو آندھرا پردیش ہائیکورٹ نے ان پر بین ختم کرنے کا فیصلہ دیدیا تھا، عام طور پر میڈیا سے الگ تھلگ رہنے کی روش اپنانے والے یونس کی ''اظہرنوازی'' پر بورڈ حکام ناک بھوں چڑھانے لگے،اگرچہ ان کیخلاف کسی انضباطی کارروائی کا امکان تو موجود نہیں لیکن انھیں آئندہ محتاط رہنے کیلیے زبانی ہدایت دی جا سکتی ہے، بیشتر سابق پاکستانی کرکٹرز کا کہنا ہے کہ تکینکی مسائل پر بات چیت کیلیے تجربہ کار بیٹسمین کسی ہم وطن سینئر سے بھی بات کرسکتے تھے لیکن انھوں نے مشکوک ماضی کے حامل بھارتی کھلاڑی کو انٹرنیشنل پلیٹ فارم پر بڑھا چڑھا کے پیش کردیا۔
دوسری جانب یونس خان نے کہا کہ باقی لوگ تو کہہ رہے تھے کہ میرے رفلیکسز سست اور عمر زیادہ ہوگئی، میں ٹیم پر بوجھ بن رہا ہوں، ریٹائر ہوجانا چاہیے، میں ان کو تو کریڈٹ نہیں دے سکتا تھا، اظہر بھائی نے تکنیکی بات کی، میں کس کی مانتا؟ میری اوول کی اننگز کا کریڈٹ بھی ان کو ہی جاتا ہے،انھوں نے ہی بروقت میرے درست رہنمائی کی اور اچھا مشورہ دیا جس کا فائدہ بھی ہوا، میں یہ نہیں کرسکتا تھا کہ وہ پڑوسی ملک کے ہیں تو ان کی بات نہ کروں۔دوسری جانب اظہر الدین نے کہا کہ یونس سے قریبی تعلق ہے،دبئی میں ملتا رہتا ہوں، فون پر بات چیت بھی ہوتی ہے، اتنے اچھے کرکٹر کو ناکام ہوتے دیکھ کر اچھا نہیں لگا، میرا تجربہ ہے کہ انگلینڈ میں کریز سے باہر کھڑے ہوکر سوئنگ کھیلنے میں مشکل پیش آتی ہے۔
اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انھیں مشورہ دیا جو کارگر ثابت ہوا، سینئر بیٹسمین نے کنڈیشنز سے مطابقت پیدا کی اور کامیاب ہوئے، انھوں نے کہا کہ میں سادگی، عاجزی اور دوسروں سے حسن سلوک کی وجہ سے یونس خان کو پسند کرتاہوں،اس لیے فون کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ سابق بھارتی قائد نے کہا کہ 42سالہ مصباح کھیل سکتے ہیں تو یونس کیوں نہیں،میرے خیال میں انھیں مزید 2 سال کھیلنا چاہیے،پی سی بی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ سینئر بیٹسمین پر چھوڑ دے اور جب بھی موقع آئے انھیں اعزاز کیساتھ رخصت کیا جائے۔