دو مونہے سانپوں کا ملک
یوں کہیے کہ آئینے کے اندر کا ملک ہے جہاں پانی اوپر کی طرف بہتا ہے اور دھواں نیچے جاتا ہے
barq@email.com
LUDHIANA:
آج ہم کہانی سنانے کے موڈ میں ہیں، کبھی کبھی جب ہمارے پاس کالم کے لیے کوئی موضوع نہیں ہوتا تو کالم نگار کے بجائے ''دادی جان'' بننے کو جی چاہنے لگتا ہے۔ یہ اس ملک کی کہانی ہے جس کا ذکر ہم پہلے بھی کرتے رہے ہیں یعنی مملکت بے داد ناپرسان، جہاں ہر چیز ہماری دنیا سے الٹی ہے۔ یوں کہیے کہ آئینے کے اندر کا ملک ہے جہاں پانی اوپر کی طرف بہتا ہے اور دھواں نیچے جاتا ہے، جہاں شرافت، سچ اور ایمانداری ناقابل معافی جرائم ہیں اور غنڈہ گردی، کرپشن اور بے ایمانی پر ایوارڈ اور عہدے ملتے ہیں،
جہاں انتخابات میں ووٹ نہیں جرائم کی گنتی ہوتی ہے جس نے سب سے زیادہ جرائم کیے ہوتے ہیں، وہ بادشاہ بن جاتا ہے۔ دوئم آنے والا وزیراعظم اور یوں درجہ بدرجہ جرائم کی گنتی کی بنیاد پر وزارتیں اور عہدے ملتے ہیں۔ لوٹ مار مکمل طور پر سرکاری انڈسٹری ہے، حکومت اور اس کے مقرر کردہ لٹیروں کے سوا کسی کو بھی لوٹنے کی اجازت نہیں، دن رات سڑکوں اور راستوں پر سرکاری لوگ قانونی طور پر عوام کو لوٹتے ہیں اور باقاعدہ رسید دیتے ہیں کیوں کہ ''دن'' میں صرف ایک مرتبہ کسی کو لوٹا جا سکتا ہے۔ یہ تو صرف راستہ چلتے لوگوں کے لیے ہے لیکن گھروں میں گھس کر لوٹنے کے لیے نہ وقت کی پابندی ہے نہ حساب کتاب کی،
کوئی بھی سرکاری محکمہ کسی وقت بھی کسی کے گھر میں گھس کر لوٹ سکتا ہے۔ یہ دو مونہے سانپوں کی کہانی بھی اسی ملک کی ہے جس کا بادشاہ قہر الٰہی اور وزیر آفات سماوی کہلاتے ہیں، دو مونہے سانپوں کے بارے میں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ان کے دو منہ ایک ہی جگہ ہوتے ہیں جن سے کاٹتے یا کھاتے ہیں لیکن یہ غلط ہے۔ دو مونہے سانپوں کے منہ ایک دوسرے سے دور بلکہ مخالف سمت میں ہوتے ہیں۔ ایک منہ سر کی طرف ہوتا ہے اور دوسرا منہ دم کی جانب لگا ہوتا ہے۔ان سانپوں کی دوسری خاص بات یہ ہے کہ ان کے یہ منہ بدلتے رہتے ہیں۔ عام طور پر ایسے سانپوں کو ہمارے ہاں پشتو میں لٹکہ (LATAKA) کہتے ہیں۔
یہ زیادہ لمبا نہیں ہوتا ہے۔ ایک ڈیڑھ فٹ کا چتکبرا یعنی زرد اور سیاہ دھبوں والا سانپ ہوتا ہے، مشہور یہ ہے کہ ایک برس اس کا منہ ایک طرف ہوتا ہے اور پھر دم کی طرف ہو جاتا ہے۔ اصل میںآپ ان دو مونہوں کو داخل خارج بھی کہہ سکتے ہیں۔ مملکت ناپرساں کے دو مونہے سانپ اپنے اگلے منہ سے نگلتے ہیں اور پچھلے منہ سے اگلتے ہیں، اگلے منہ سے نگل کر وہ خوراک کو تھوڑا سا پروسس کر لیتے ہیں اور پچھلے منہ سے نکال کر ذخیرہ کرتے رہتے ہیں، پھر جب سردیوں یا قلت خوراک کا دور آتا ہے تو وہ جمع شدہ خوراک کھاتے رہتے ہیں، مملکت ناپرساں کے دو مونہے سانپ باقی دنیا کے سانپوں سے قطعی مختلف ہیں، ان کا نگلنے والا منہ مملکت کے اندر ہوتا ہے اور اگلنے یا ذخیرہ کرنے والا منہ کسی اور ملک یا محفوظ بل میں ہوتا ہے،
عوام اکثر شور مچاتے رہتے ہیں کہ ان دو مونہے سانپوں نے مملکت کو چوس چوس کر اور کھا کھا کر ''پھوک'' بنا دیا ہے اور اب مملکت ناپرساں ایک سوکھے ہوئے پنجر کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جو کسی بھی وقت بکھر کر چور چور ہو سکتا ہے، لیکن عوام کی بھلا کہاں اور کب کسی نے سنی ہے جو ناپرساں میں سنی جائے گی، چنانچہ دو مونہے سانپ بدستور یہاں نگلتے اور وہاں اگلتے رہتے ہیں، پچھلے دنوں اس مسئلے پر خاصی کہا سنی ہو گئی اور نزدیک تھا کہ دو مونہے سانپوں کو صرف ایک ''منہ'' تک محدود کر دیا جاتا لیکن دو مونہے سانپوں کا اتحاد تھا،
اس لیے بول ان کا ہی بالا رہا، مملکت ناپرساں کے ایک پاگل کے بارے میں ہم نے پہلے بھی آپ کو بتایا، اس پاگل نے شور مچا مچا کر ایک خاصی موثر تحریک چلائی اور قرار دیا کہ جن سانپوں کا منہ دو جگہوں پر ہوتا ہے، وہ مملکت ناپرساں کے آدھے سانپ ہوتے ہیں تو پھر آدھے سانپ پورے سانپوں پر حکومت کیسے کر سکتے ہیں،
گرچہ چھوٹی تھی ذات بکری کی
دل کو لگتی تھی بات بکری کی
دلیل بڑی وزن دار تھی اور عوام کو لگا جیسے اس ''دلیل'' کے آگے دو مونہے سانپوں کی نہیں چلے گی لیکن مملکت ناپرساں کے احمق ترین عوام اور وہ جاہل ترین پاگل صحافی یہ بھول گیا کہ دلیل کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو ''زور'' کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے، بھلا دو مونہے سانپ یہ کیسے ہونے دیتے کہ ان کو آدھے شہری قرار دیا جائے چنانچہ مملکت ناپرساں کے آئین اور دستور کی گرد جھاڑ کر ایک بہت بڑے پیر زادے کے حوالے کر دیا گیا کہ اس میں سے کوئی ایسا موتی نکال لاؤ جو دو مونہے سانپوں کو تحفظ دے سکے،
آپ تو جانتے ہیں کہ پیر زادے آئین اور دساتیر کے عواض ہوتے ہیں چنانچہ کچھ ہی دنوں بعد اس نے پانی سے سر باہر کر کے اور ہاتھ دکھا دکھا کر چلانا شروع کر دیا کہ مل گیا، مل گیا، دو مونہے سانپوں کو تحفظ مل گیا۔ پیر زادے کو دو مونہے سانپوں نے نہایت عزت و احترام کے ساتھ پانی سے نکالا اور پھولوں سے لاد کر سنگھاسن پر بٹھا دیا اور عرض کیا کہ اب اس گوہر مقصود کی زیادت کرا دیجیے، پیرزادے نے اپنا گلہ صاف کیا اور بولا، بات بڑی سیدھی ہے اس ملک کا نام کیا ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ لوگوں نے کہا ''مملکت بے داد ناپرساں'' اس پر پیرزادہ مسکرا کر بولا ۔۔۔ اور یہ کہاں واقع ہے،
آواز آئی آئینے میں۔۔۔۔ تب پیر زادے نے ایک فصیح و بلیغ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آئینے کے اندر کی دنیا الٹ ہوتی ہے اگر مملکت ناپرسان آئینے کے باہر ہوتا تو اس میں آئین چلتا، لیکن آئینے کے اندر آئین نہیں آئینہ ہوتا ہے اور آئینہ الٹا ہوتا ہے چنانچہ جہاں جہاں ''آئین'' کی حکمرانی ہے وہاں تو دو مونہے سانپوں کو آدھا شہری کہا جا سکتا ہے اور آدھے شہریوں کو پورے شہریوں پر حکومت کا حق نہیں ہوتا لیکن ''آئینے'' کے اندر آئین الٹ کر یہ بتاتا ہے کہ پورے شہریوں پر آدھے شہریوں ہی کی حکومت ہونی چاہیے،
گویا یہاں آدھا شہری ڈس کوالی فیکیشن نہیں بلکہ پورا شہری ہونا جرم ہے، جیسا کہ یہاں سچ جرم اور جھوٹ ثواب ہے، ایمانداری جرم اور بے ایمانی خواب ہے، حکومت لوٹ مار سے بچاتی نہیں بلکہ لوٹتی ہے، ٹھیک اسی طرح آدھی شہریت ایک خوبی ہے اور پوری شہریت گناہ، اور ٹھیک اسی طرح وطن کو لوٹنا بھی عین وصف ہے اور نہ لوٹنا غداری ہے، دو مونہے سانپ زندہ باد۔
آج ہم کہانی سنانے کے موڈ میں ہیں، کبھی کبھی جب ہمارے پاس کالم کے لیے کوئی موضوع نہیں ہوتا تو کالم نگار کے بجائے ''دادی جان'' بننے کو جی چاہنے لگتا ہے۔ یہ اس ملک کی کہانی ہے جس کا ذکر ہم پہلے بھی کرتے رہے ہیں یعنی مملکت بے داد ناپرسان، جہاں ہر چیز ہماری دنیا سے الٹی ہے۔ یوں کہیے کہ آئینے کے اندر کا ملک ہے جہاں پانی اوپر کی طرف بہتا ہے اور دھواں نیچے جاتا ہے، جہاں شرافت، سچ اور ایمانداری ناقابل معافی جرائم ہیں اور غنڈہ گردی، کرپشن اور بے ایمانی پر ایوارڈ اور عہدے ملتے ہیں،
جہاں انتخابات میں ووٹ نہیں جرائم کی گنتی ہوتی ہے جس نے سب سے زیادہ جرائم کیے ہوتے ہیں، وہ بادشاہ بن جاتا ہے۔ دوئم آنے والا وزیراعظم اور یوں درجہ بدرجہ جرائم کی گنتی کی بنیاد پر وزارتیں اور عہدے ملتے ہیں۔ لوٹ مار مکمل طور پر سرکاری انڈسٹری ہے، حکومت اور اس کے مقرر کردہ لٹیروں کے سوا کسی کو بھی لوٹنے کی اجازت نہیں، دن رات سڑکوں اور راستوں پر سرکاری لوگ قانونی طور پر عوام کو لوٹتے ہیں اور باقاعدہ رسید دیتے ہیں کیوں کہ ''دن'' میں صرف ایک مرتبہ کسی کو لوٹا جا سکتا ہے۔ یہ تو صرف راستہ چلتے لوگوں کے لیے ہے لیکن گھروں میں گھس کر لوٹنے کے لیے نہ وقت کی پابندی ہے نہ حساب کتاب کی،
کوئی بھی سرکاری محکمہ کسی وقت بھی کسی کے گھر میں گھس کر لوٹ سکتا ہے۔ یہ دو مونہے سانپوں کی کہانی بھی اسی ملک کی ہے جس کا بادشاہ قہر الٰہی اور وزیر آفات سماوی کہلاتے ہیں، دو مونہے سانپوں کے بارے میں عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ ان کے دو منہ ایک ہی جگہ ہوتے ہیں جن سے کاٹتے یا کھاتے ہیں لیکن یہ غلط ہے۔ دو مونہے سانپوں کے منہ ایک دوسرے سے دور بلکہ مخالف سمت میں ہوتے ہیں۔ ایک منہ سر کی طرف ہوتا ہے اور دوسرا منہ دم کی جانب لگا ہوتا ہے۔ان سانپوں کی دوسری خاص بات یہ ہے کہ ان کے یہ منہ بدلتے رہتے ہیں۔ عام طور پر ایسے سانپوں کو ہمارے ہاں پشتو میں لٹکہ (LATAKA) کہتے ہیں۔
یہ زیادہ لمبا نہیں ہوتا ہے۔ ایک ڈیڑھ فٹ کا چتکبرا یعنی زرد اور سیاہ دھبوں والا سانپ ہوتا ہے، مشہور یہ ہے کہ ایک برس اس کا منہ ایک طرف ہوتا ہے اور پھر دم کی طرف ہو جاتا ہے۔ اصل میںآپ ان دو مونہوں کو داخل خارج بھی کہہ سکتے ہیں۔ مملکت ناپرساں کے دو مونہے سانپ اپنے اگلے منہ سے نگلتے ہیں اور پچھلے منہ سے اگلتے ہیں، اگلے منہ سے نگل کر وہ خوراک کو تھوڑا سا پروسس کر لیتے ہیں اور پچھلے منہ سے نکال کر ذخیرہ کرتے رہتے ہیں، پھر جب سردیوں یا قلت خوراک کا دور آتا ہے تو وہ جمع شدہ خوراک کھاتے رہتے ہیں، مملکت ناپرساں کے دو مونہے سانپ باقی دنیا کے سانپوں سے قطعی مختلف ہیں، ان کا نگلنے والا منہ مملکت کے اندر ہوتا ہے اور اگلنے یا ذخیرہ کرنے والا منہ کسی اور ملک یا محفوظ بل میں ہوتا ہے،
عوام اکثر شور مچاتے رہتے ہیں کہ ان دو مونہے سانپوں نے مملکت کو چوس چوس کر اور کھا کھا کر ''پھوک'' بنا دیا ہے اور اب مملکت ناپرساں ایک سوکھے ہوئے پنجر کے سوا کچھ بھی نہیں ہے جو کسی بھی وقت بکھر کر چور چور ہو سکتا ہے، لیکن عوام کی بھلا کہاں اور کب کسی نے سنی ہے جو ناپرساں میں سنی جائے گی، چنانچہ دو مونہے سانپ بدستور یہاں نگلتے اور وہاں اگلتے رہتے ہیں، پچھلے دنوں اس مسئلے پر خاصی کہا سنی ہو گئی اور نزدیک تھا کہ دو مونہے سانپوں کو صرف ایک ''منہ'' تک محدود کر دیا جاتا لیکن دو مونہے سانپوں کا اتحاد تھا،
اس لیے بول ان کا ہی بالا رہا، مملکت ناپرساں کے ایک پاگل کے بارے میں ہم نے پہلے بھی آپ کو بتایا، اس پاگل نے شور مچا مچا کر ایک خاصی موثر تحریک چلائی اور قرار دیا کہ جن سانپوں کا منہ دو جگہوں پر ہوتا ہے، وہ مملکت ناپرساں کے آدھے سانپ ہوتے ہیں تو پھر آدھے سانپ پورے سانپوں پر حکومت کیسے کر سکتے ہیں،
گرچہ چھوٹی تھی ذات بکری کی
دل کو لگتی تھی بات بکری کی
دلیل بڑی وزن دار تھی اور عوام کو لگا جیسے اس ''دلیل'' کے آگے دو مونہے سانپوں کی نہیں چلے گی لیکن مملکت ناپرساں کے احمق ترین عوام اور وہ جاہل ترین پاگل صحافی یہ بھول گیا کہ دلیل کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو ''زور'' کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے، بھلا دو مونہے سانپ یہ کیسے ہونے دیتے کہ ان کو آدھے شہری قرار دیا جائے چنانچہ مملکت ناپرساں کے آئین اور دستور کی گرد جھاڑ کر ایک بہت بڑے پیر زادے کے حوالے کر دیا گیا کہ اس میں سے کوئی ایسا موتی نکال لاؤ جو دو مونہے سانپوں کو تحفظ دے سکے،
آپ تو جانتے ہیں کہ پیر زادے آئین اور دساتیر کے عواض ہوتے ہیں چنانچہ کچھ ہی دنوں بعد اس نے پانی سے سر باہر کر کے اور ہاتھ دکھا دکھا کر چلانا شروع کر دیا کہ مل گیا، مل گیا، دو مونہے سانپوں کو تحفظ مل گیا۔ پیر زادے کو دو مونہے سانپوں نے نہایت عزت و احترام کے ساتھ پانی سے نکالا اور پھولوں سے لاد کر سنگھاسن پر بٹھا دیا اور عرض کیا کہ اب اس گوہر مقصود کی زیادت کرا دیجیے، پیرزادے نے اپنا گلہ صاف کیا اور بولا، بات بڑی سیدھی ہے اس ملک کا نام کیا ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ لوگوں نے کہا ''مملکت بے داد ناپرساں'' اس پر پیرزادہ مسکرا کر بولا ۔۔۔ اور یہ کہاں واقع ہے،
آواز آئی آئینے میں۔۔۔۔ تب پیر زادے نے ایک فصیح و بلیغ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آئینے کے اندر کی دنیا الٹ ہوتی ہے اگر مملکت ناپرسان آئینے کے باہر ہوتا تو اس میں آئین چلتا، لیکن آئینے کے اندر آئین نہیں آئینہ ہوتا ہے اور آئینہ الٹا ہوتا ہے چنانچہ جہاں جہاں ''آئین'' کی حکمرانی ہے وہاں تو دو مونہے سانپوں کو آدھا شہری کہا جا سکتا ہے اور آدھے شہریوں کو پورے شہریوں پر حکومت کا حق نہیں ہوتا لیکن ''آئینے'' کے اندر آئین الٹ کر یہ بتاتا ہے کہ پورے شہریوں پر آدھے شہریوں ہی کی حکومت ہونی چاہیے،
گویا یہاں آدھا شہری ڈس کوالی فیکیشن نہیں بلکہ پورا شہری ہونا جرم ہے، جیسا کہ یہاں سچ جرم اور جھوٹ ثواب ہے، ایمانداری جرم اور بے ایمانی خواب ہے، حکومت لوٹ مار سے بچاتی نہیں بلکہ لوٹتی ہے، ٹھیک اسی طرح آدھی شہریت ایک خوبی ہے اور پوری شہریت گناہ، اور ٹھیک اسی طرح وطن کو لوٹنا بھی عین وصف ہے اور نہ لوٹنا غداری ہے، دو مونہے سانپ زندہ باد۔