جمہوری قوتوں کی بردباری
وہ دن دور نہیں جب وطن عزیز میں آمریت کا خواب دیکھنے والے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گے.
عوام کے ووٹ سے ہی حکومت آنی اور جانی چاہیے,نواز شریف ۔ فائل فوٹو
مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے پیر کو خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے ووٹ سے ہی حکومت آنی اور جانی چاہیے۔ انھوں نے واضح کیا کہ موجودہ اسمبلی کی مدت پوری کرنے میں ہمارا کردار' اصولی سیاست اور قربانی شامل ہے۔
مردان میں میاں محمد نواز شریف نے جو تقریر کی وہ ان کی انتخابی سیاست کا حصہ ہے' ممکن ہے وہ اپنے حامیوں کو خوش کرنے کے لیے یہ بات کہہ رہے ہیں تاہم تمام تر اختلافات کے باوجود ملک کے جمہوری حلقے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ موجودہ جمہوری نظام کو بچانے میں مسلم لیگ ن کا اہم کردار ہے۔ مسلم لیگ ن پنجاب میں برسر اقتدار ہے اور مرکز میں وہ اپوزیشن پارٹی ہے' یوں دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن خود بھی اس جمہوری سیٹ اپ کا حصہ ہے' شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ کو بچانے کے لیے اس نے اہم کردار ادا کیا۔
موجودہ جمہوری سیٹ اپ جب قائم ہوا تو اس وقت ایسی قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئی تھیں کہ یہ سیٹ اپ چھ ماہ میں ختم ہو جائے گا لیکن پیپلز پارٹی' مسلم لیگ ن اور دیگر جمہوری قوتوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے غیر جمہوری قوتیں فائدہ اٹھاتیں' اس سارے معاملے میں جہاں مسلم لیگ ن کا کردار مثبت رہا وہاں برسر اقتدار پیپلز پارٹی ایم کیو ایم' اے این پی اور ق لیگ کے کردار کو نہ سراہنا زیادتی ہوگی' جے یو آئی اور دیگر جماعتیں بھی موجودہ نظام کو بچانے کے حق میں رہیں' تاہم سب سے زیادہ کریڈٹ مسلم لیگ ن کو ہی جاتا ہے کیونکہ وہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار بھی وہی ادا کر رہی ہے۔
مسلم لیگ ن نے حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے اس کی مخالفت بھی کی ہے' جو اس کا جمہوری حق ہے۔ معزول ججز کی بحالی کے لیے لانگ مارچ بھی کیا۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرایا لیکن جہاں اس جماعت کے قائدین نے دیکھا کہ حالات حد سے زیادہ بگڑ سکتے ہیں جس میں غیر جمہوری قوتیں اپنا کھیل کھیل سکتی ہیں' وہاں اس نے احتجاج ختم کر دیا۔ میاں محمد نواز شریف پر فرینڈلی اپوزیشن کی پھبتی بھی کسی جاتی رہی لیکن انھوں نے وہی کیا جو جمہوری نظام کی بقا کے لیے ضروری تھا۔ یوں دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن کی قیادت نے سیاسی فہم و فراست کا مظاہرہ کیا اور موجودہ حکومت کے خلاف کوئی ایسی مہم نہیں چلائی جس کے نتیجے میں پورے نظام کی بساط لپیٹ دی جاتی حالانکہ کچھ لوگوں کی خواہش تھی کہ مسلم لیگ ن حدود کو کراس کرے لیکن مسلم لیگ ن کی قیادت نے ایسا نہیں کیا۔
پاکستان کی ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک میں مارشل لا لگا' اس میں سیاسی جماعتوں کی عاقبت نااندیشی نے اہم کردار ادا کیا۔ 1977میں پاکستان قومی اتحاد نے جو تحریک چلائی' اس کے نتیجے میں ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا' اگر اس وقت ملک کی سیاسی قیادت حدود کراس نہ کرتی اور معاملات کو جلدی طے کرنے کے لیے اپنے رویے میں لچک پیدا کر لیتی تو جمہوریت کو بچایا جا سکتا تھا لیکن افسوس ایسا نہیں ہو سکا۔ ضیاء الحق 11 برس تک اقتدار سے چمٹے رہے' اس کے بعد جو جمہوری حکومتیں بنیں' وہ اپنی مدت پوری نہ کر سکیں۔ غور کیا جائے تو اس میں بھی سیاسی جماعتوں کی باہمی محاذ آرائی تھی' پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی اس محاذ آرائی کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ اٹھاتی رہی اور جمہوری قوتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی رہیں' جنرل پرویز مشرف کا اقتدار بھی در حقیقت جمہوری قوتوں کی کمزوری کے باعث ہی مستحکم ہوا۔
جنرل پرویز مشرف نے 8 برس تک اقتدار پر قبضہ کیے رکھا' فروری 2008 کے الیکشن کے نتیجے میں جب موجودہ جمہوری سیٹ اپ قائم ہوا تو اس وقت پرویز مشرف صدر تھے' یہی وجہ تھی کہ اس وقت یہ افواہیں اور قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ چھ ماہ کے بعد ختم ہو جائے گا لیکن جمہوری قوتوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا اور بالآخر جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے نکالنے میں کامیابی حاصل کر لی' اس کے بعد بھی افواہوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا' عدلیہ اور حکومت کے درمیان بعض مقدمات کے حوالے سے تنائو پیدا ہوا' اس دوران بھی غیر جمہوری قوتوں نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ مسلم لیگ ن اپوزیشن جماعت تھی' کوشش کی گئی کہ بعض معاملات پر مسلم لیگ ن سخت ردعمل ظاہر کرے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت نے ایسے موقع پر انتہائی فہم و فراست اور سیاسی دور اندیشی کا ثبوت دیا' مسلم لیگ ن نے ردعمل تو دیا لیکن یہ جمہوری دائرے میں تھا' یوں ان غیر جمہوری قوتوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جو چاہتیں تھیں کہ ملک میں گھیرائو جلائو کا سلسلہ شروع ہو جائے اور اس کی آڑ میں جمہوری نظام کی بساط لپیٹ دی جائے۔
ادھر پیپلز پارٹی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے سپریم کورٹ کے ساتھ اپنے معاملات کو آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے طے کیا۔ حکومت اور سپریم کورٹ کے مابین تنائو ضرور رہا لیکن حکومت نے عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کو تسلیم کیا۔ اسی طرح عدالت عظمیٰ نے بھی بڑی دور اندیشی کا مظاہرہ کیا اور ایسے فیصلے صادر کیے جو آئین اور قانون کے مطابق تو تھے لیکن ایسے نہیں تھے کہ حکومت بند گلی میں داخل ہو جائے۔ اب موجودہ جمہوری سیٹ اپ اپنی مدت پوری کرنے جا رہا ہے' افواہیں اب بھی موجود ہیں۔ کہیں سے ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ کی آواز آ رہی ہے اور کہیں کوئی کسی اور غیر متوقع اقدام کی نوید سنا رہا ہے لیکن ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے حالیہ ساڑھے چار برسوں کے ٹریک ریکارڈ کو مدنظر رکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ جمہوریت اپنا سفر جاری رکھے گی۔
موجودہ سیٹ اپ کامیابی سے اپنی مدت پوری کرے گا' نگران حکومت منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے گی اور یوں پر امن انتقال اقتدار کے ذریعے نئی جمہوری حکومت اپنے سفر کا آغاز کر دے گی۔ میاں محمد نواز شریف بہت سے معاملات کو یقیناً سمجھتے ہیں۔ انھوں نے شاید اسی حقیقت کو سامنے رکھ کر کہا ہے کہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ کی مدت پوری کرنے میں ان کا بھی کردار ہے۔ سیاسی جماعتیں کسی سیاسی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتی رہیں تو وہ دن دور نہیں جب وطن عزیز میں آمریت کا خواب دیکھنے والے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گے۔
مردان میں میاں محمد نواز شریف نے جو تقریر کی وہ ان کی انتخابی سیاست کا حصہ ہے' ممکن ہے وہ اپنے حامیوں کو خوش کرنے کے لیے یہ بات کہہ رہے ہیں تاہم تمام تر اختلافات کے باوجود ملک کے جمہوری حلقے یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ موجودہ جمہوری نظام کو بچانے میں مسلم لیگ ن کا اہم کردار ہے۔ مسلم لیگ ن پنجاب میں برسر اقتدار ہے اور مرکز میں وہ اپوزیشن پارٹی ہے' یوں دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن خود بھی اس جمہوری سیٹ اپ کا حصہ ہے' شاید یہی وجہ ہے کہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ کو بچانے کے لیے اس نے اہم کردار ادا کیا۔
موجودہ جمہوری سیٹ اپ جب قائم ہوا تو اس وقت ایسی قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئی تھیں کہ یہ سیٹ اپ چھ ماہ میں ختم ہو جائے گا لیکن پیپلز پارٹی' مسلم لیگ ن اور دیگر جمہوری قوتوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے غیر جمہوری قوتیں فائدہ اٹھاتیں' اس سارے معاملے میں جہاں مسلم لیگ ن کا کردار مثبت رہا وہاں برسر اقتدار پیپلز پارٹی ایم کیو ایم' اے این پی اور ق لیگ کے کردار کو نہ سراہنا زیادتی ہوگی' جے یو آئی اور دیگر جماعتیں بھی موجودہ نظام کو بچانے کے حق میں رہیں' تاہم سب سے زیادہ کریڈٹ مسلم لیگ ن کو ہی جاتا ہے کیونکہ وہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار بھی وہی ادا کر رہی ہے۔
مسلم لیگ ن نے حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے اس کی مخالفت بھی کی ہے' جو اس کا جمہوری حق ہے۔ معزول ججز کی بحالی کے لیے لانگ مارچ بھی کیا۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرایا لیکن جہاں اس جماعت کے قائدین نے دیکھا کہ حالات حد سے زیادہ بگڑ سکتے ہیں جس میں غیر جمہوری قوتیں اپنا کھیل کھیل سکتی ہیں' وہاں اس نے احتجاج ختم کر دیا۔ میاں محمد نواز شریف پر فرینڈلی اپوزیشن کی پھبتی بھی کسی جاتی رہی لیکن انھوں نے وہی کیا جو جمہوری نظام کی بقا کے لیے ضروری تھا۔ یوں دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن کی قیادت نے سیاسی فہم و فراست کا مظاہرہ کیا اور موجودہ حکومت کے خلاف کوئی ایسی مہم نہیں چلائی جس کے نتیجے میں پورے نظام کی بساط لپیٹ دی جاتی حالانکہ کچھ لوگوں کی خواہش تھی کہ مسلم لیگ ن حدود کو کراس کرے لیکن مسلم لیگ ن کی قیادت نے ایسا نہیں کیا۔
پاکستان کی ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک میں مارشل لا لگا' اس میں سیاسی جماعتوں کی عاقبت نااندیشی نے اہم کردار ادا کیا۔ 1977میں پاکستان قومی اتحاد نے جو تحریک چلائی' اس کے نتیجے میں ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا' اگر اس وقت ملک کی سیاسی قیادت حدود کراس نہ کرتی اور معاملات کو جلدی طے کرنے کے لیے اپنے رویے میں لچک پیدا کر لیتی تو جمہوریت کو بچایا جا سکتا تھا لیکن افسوس ایسا نہیں ہو سکا۔ ضیاء الحق 11 برس تک اقتدار سے چمٹے رہے' اس کے بعد جو جمہوری حکومتیں بنیں' وہ اپنی مدت پوری نہ کر سکیں۔ غور کیا جائے تو اس میں بھی سیاسی جماعتوں کی باہمی محاذ آرائی تھی' پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی اس محاذ آرائی کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ اٹھاتی رہی اور جمہوری قوتوں کے ہاتھوں میں کھلونا بنی رہیں' جنرل پرویز مشرف کا اقتدار بھی در حقیقت جمہوری قوتوں کی کمزوری کے باعث ہی مستحکم ہوا۔
جنرل پرویز مشرف نے 8 برس تک اقتدار پر قبضہ کیے رکھا' فروری 2008 کے الیکشن کے نتیجے میں جب موجودہ جمہوری سیٹ اپ قائم ہوا تو اس وقت پرویز مشرف صدر تھے' یہی وجہ تھی کہ اس وقت یہ افواہیں اور قیاس آرائیاں ہوتی رہیں کہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ چھ ماہ کے بعد ختم ہو جائے گا لیکن جمہوری قوتوں نے سمجھداری کا مظاہرہ کیا اور بالآخر جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے نکالنے میں کامیابی حاصل کر لی' اس کے بعد بھی افواہوں کا سلسلہ بند نہیں ہوا' عدلیہ اور حکومت کے درمیان بعض مقدمات کے حوالے سے تنائو پیدا ہوا' اس دوران بھی غیر جمہوری قوتوں نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ مسلم لیگ ن اپوزیشن جماعت تھی' کوشش کی گئی کہ بعض معاملات پر مسلم لیگ ن سخت ردعمل ظاہر کرے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت نے ایسے موقع پر انتہائی فہم و فراست اور سیاسی دور اندیشی کا ثبوت دیا' مسلم لیگ ن نے ردعمل تو دیا لیکن یہ جمہوری دائرے میں تھا' یوں ان غیر جمہوری قوتوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جو چاہتیں تھیں کہ ملک میں گھیرائو جلائو کا سلسلہ شروع ہو جائے اور اس کی آڑ میں جمہوری نظام کی بساط لپیٹ دی جائے۔
ادھر پیپلز پارٹی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے سپریم کورٹ کے ساتھ اپنے معاملات کو آئینی اور قانونی حدود میں رہتے ہوئے طے کیا۔ حکومت اور سپریم کورٹ کے مابین تنائو ضرور رہا لیکن حکومت نے عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کو تسلیم کیا۔ اسی طرح عدالت عظمیٰ نے بھی بڑی دور اندیشی کا مظاہرہ کیا اور ایسے فیصلے صادر کیے جو آئین اور قانون کے مطابق تو تھے لیکن ایسے نہیں تھے کہ حکومت بند گلی میں داخل ہو جائے۔ اب موجودہ جمہوری سیٹ اپ اپنی مدت پوری کرنے جا رہا ہے' افواہیں اب بھی موجود ہیں۔ کہیں سے ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ کی آواز آ رہی ہے اور کہیں کوئی کسی اور غیر متوقع اقدام کی نوید سنا رہا ہے لیکن ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کے حالیہ ساڑھے چار برسوں کے ٹریک ریکارڈ کو مدنظر رکھا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ جمہوریت اپنا سفر جاری رکھے گی۔
موجودہ سیٹ اپ کامیابی سے اپنی مدت پوری کرے گا' نگران حکومت منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرائے گی اور یوں پر امن انتقال اقتدار کے ذریعے نئی جمہوری حکومت اپنے سفر کا آغاز کر دے گی۔ میاں محمد نواز شریف بہت سے معاملات کو یقیناً سمجھتے ہیں۔ انھوں نے شاید اسی حقیقت کو سامنے رکھ کر کہا ہے کہ موجودہ جمہوری سیٹ اپ کی مدت پوری کرنے میں ان کا بھی کردار ہے۔ سیاسی جماعتیں کسی سیاسی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتی رہیں تو وہ دن دور نہیں جب وطن عزیز میں آمریت کا خواب دیکھنے والے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائیں گے۔