بچوں کا اغوا کیس انسداد دہشت گردی عدالت میں چلائے جائیں

کسی بچے کا اغوا ہو جانا اس کے والدین کی روح کو مجروح کر دیتا ہے۔

کسی بچے کا اغوا ہو جانا اس کے والدین کی روح کو مجروح کر دیتا ہے۔ فوٹو؛ فائل

کسی بچے کا اغوا ہو جانا اس کے والدین کی روح کو مجروح کر دیتا ہے۔ یہ ڈراؤنا خواب اس صورت میں اور بھی زیادہ بدترین شکل اختیار کر لیتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے شہریوں کے لیے بچوں کا اغوا ایک روز مرہ کا معمول بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں بچوں کے اغوا کے بہت سے واقعات منظرعام پر آئے ہیں جس کی وجہ سے عوام کے دل درد سے بھر گئے ہیں۔ پنجاب میں ان افسوسناک واقعات کا ظہور بہت نمایاں ہے جب کہ دیگر صوبوں میں بچوں کے اغوا کے واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ نے اس مسئلے کو ایوان میں اٹھایا ہے جب کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی اس معاملے پر سماعت شروع کی ہے۔ حکومت پنجاب نے بڑی سرعت سے ایک ٹاسک آفس قائم کر دیا ہے جب کہ صوبے کے مستعد وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے بنفس نفیس ان معاملات کی نگرانی شروع کر دی ہے تاہم یہ سب کافی نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے عوام کو تشفی دینا بھی بہت ضروری ہے۔ لیکن حکومت کی طرف سے جو اقدامات کیے گئے ہیں اور کیے جا رہے ہیں انھیں صائب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس حوالے سے اغوا ہونے والے بچوں کی تعداد کا ذکر کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ جس ماں کا ایک بچہ بھی لاپتہ ہوجائے اس کے لیے وہ دنیا کا سب سے بڑا صدمہ ہوتا ہے۔


اصل سوال یہ ہے کہ اس بارے میں کون سے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں جن کے نتیجے میں اس اندوہناک مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔ موجودہ قوانین زیادہ موثر ثابت نہیں ہو رہے اور اس بارے میں یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ ان قوانین کو زیادہ موثر بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے جہاں ضروری ہو انھیں ترامیم متعارف کرائی جانی چاہیے تاکہ اس بہیمانہ جرم کا سدباب کیا جا سکے۔ پہلے اقدام کے طور پر بچوں کے اغوا کے معاملات انسداد دہشت گردی کی عدالتوں (اے ٹی سی) کے حوالے کر دیے جانے چاہئیں اور ان کی سماعت ترمیم شدہ قوانین کے تحت کی جانی چاہیے۔

اس وقت اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ عوام کے وسیع تر مفادات کے تحت اس حوالے سے موثر قانون سازی کی جائے اور ان قوانین پر نہایت سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ یہاں یہ بات بطور خاص مدنظر رہنی چاہیے کہ صرف قانون سازی سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ استغاثہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ایک مضبوط کیس تیار نہ کرے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ استغاثے کے شعبے کو زیادہ موثر اور پیشہ وارانہ بنانے پر مکمل توجہ منعطف کریں تاکہ ہمارے عدالتی نظام میں مجرموں کو بچت کا کوئی احتمال نہ رہے۔ یہ وقت نہیں ہے کہ ہم ڈر خوف اور ہیجان کا مظاہرہ کریں بلکہ اغوا کاروں کو آہنی گرفت سے پکڑنے پر زور دیں اور اس بھیانک جرم کے مرتکب افراد کو سزائے موت دی جائے۔
Load Next Story