احتساب کا آغاز

سیاستدانوں، حکمرانوں اور اپوزیشن کی بنیادی ذمے داری عوام کے مسائل کا حل ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

سیاستدانوں، حکمرانوں اور اپوزیشن کی بنیادی ذمے داری عوام کے مسائل کا حل ہے۔ اپوزیشن حکومت پر کوئی تنقید کرتی ہے تو اس کا بنیادی مقصد بھی عوامی مسائل کی طرف حکومت کی توجہ دلانا ہی ہوتا ہے لیکن ہمارے سیاستدانوں، حکمرانوں اور اپوزیشن کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو فریقین کی سرگرمیاں صرف اور صرف الزامات اور جوابی الزامات تک محدود نظر آتی ہیں۔

موجودہ حکومت جب سے برسر اقتدار ہے حزب اختلاف خصوصاً تحریک انصاف کی تنقید کا مرکز وزیراعظم نواز شریف کی ذات رہی ہے۔ نواز شریف کے بچوں کا نام جب سے آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حوالے سے لیا جا رہا ہے، پوری اپوزیشن نواز شریف پر تنقید کر رہی ہے۔ اپوزیشن کا اجتماعی مطالبہ یہ ہے کہ آف شور کمپنیوں میں جو سرمایہ لگایا گیا وہ سرمایہ کیسے بنا اور کیسے ملک سے باہر گیا، اس کے علاوہ اپوزیشن وزیراعظم سے یہ سوال بھی کر رہی ہے کہ لندن میں اربوں روپوں کے جو فلیٹ ہیں انھیں خریدنے کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا اور باہر کس طرح گیا؟

ان سوالوں کا آسان جواب یہ تھا کہ وزیراعظم یہ بتا دیتے کہ ان جائیدادوں کو خریدنے میں سرمایہ کہاں سے آیا اور ملک سے باہر کیسے بھیجا گیا۔ اگر بیرون ملک کا سرمایہ استعمال کیا گیا تو یہ سرمایہ کہاں سے آیا۔ اگر یہ وضاحت کر دی جاتی تو اپوزیشن کا منہ بند ہو جاتا لیکن شریف فیملی پہلی وضاحت یہ کر رہی ہے کہ آف شور کمپنیاں نواز شریف کی ملکیت نہیں ہیں بلکہ ان کی اولاد کی ملکیت ہیں، نواز شریف کا آف شور کمپنیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ قانوناً تو یہ جواب درست ہے لیکن اخلاقاً یہ جواب قابل قبول نہیں، کیونکہ کسی بھی ملک کے وزیراعظم کا اس قسم کا جواب قابل قبول نہیں ہوتا۔ آف شور کمپنیوں کے حوالے سے دوسرے ملکوں میں بھی اس قسم کی صورتحال موجود ہے۔ لیکن ان ملکوں کے سربراہوں نے یا تو ایوان کے سامنے قابل قبول وضاحتیں پیش کر دیں یا اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے۔

ہمارے حکمرانوں پر ہی نہیں بلکہ اپوزیشن پر بھی کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ لیکن کبھی اس حوالے سے سنجیدہ تحقیق یا ملزموں کا احتساب نہیں کیا گیا۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اپوزیشن کے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے اپوزیشن پر جوابی الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ یوں حکومت اور بعض اپوزیشن رہنماؤں پر اربوں روپوں کی کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک بھر میں ایک اضطراب کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، جس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔

تحریک انصاف نے 13 اگست سے حکومت کے خلاف احتساب تحریک شروع کر دی ہے اور طاہرالقادری 20 اگست سے تحریک شروع کر رہے ہیں۔ اگرچہ طاہرالقادری کا ہدف ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کا قصاص ہے، لیکن طاہرالقادری نہ صرف وزیراعظم پر کرپشن کے الزامات لگا رہے ہیں بلکہ ان کے احتساب کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی ماضی میں (ن) لیگ کی غیر اعلانیہ اتحادی رہی ہے لیکن اب وہ بھی آف شور کمپنیوں اور لندن کے فلیٹس کے حوالے سے نواز حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے پر تول رہی ہے اور اس کی ''نوجوان قیادت'' کا رویہ حکومت کے خلاف بہت سخت ہو گیا ہے۔


احتساب کے حوالے سے تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتیں تحریک انصاف کی حلیف تو نظر آ رہی ہیں لیکن یہ جماعتیں احتساب تحریک کو اس حد تک لے جانے کے لیے قطعی تیار نہیں جہاں سے ''جمہوریت کو خطرہ'' لاحق ہو سکتا ہے۔ اس تقسیم کی وجہ سے اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر تحریک حکومت کے لیے خطرہ ثابت ہونے لگے تو تحریک انصاف اور قادری کے سوا میدان میں شاید کوئی اور نہ رہے، البتہ پیپلز پارٹی جو اس موقع کو عوام میں اپنی جگہ بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے حکومت کے خلاف عمران اور قادری کے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ ایم کیو ایم بھی احتساب کی بات کر رہی ہے، وہ بھی ''بوجوہ'' احتساب تحریک کا حصہ بن سکتی ہے۔

ہمارے ملک میں 53 فیصد عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ آبادی کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ محض دو وقت کی روٹی کے لیے اپنی ساری توانائیاں لگا رہا ہے۔ اس انتہائی توجہ طلب مسئلے کو بیانات اور خوش کن تقاریر سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن دنیا کی تاریخ میں غربت کا علاج نہ سرکاری بیانات سے کیا جا سکا ہے نہ حکمرانوں کی پرفریب تقاریر سے یہ مسئلہ حل ہو سکا۔

غربت کے اسباب میں سب سے بڑا سبب وہ معاشی نظام ہے جو انسانوں کو طبقات میں بانٹتا ہے اور 90 فیصد غریب پیدا کرتا ہے اور لگ بھگ 10 فیصد کو زندگی کی تمام آسائشیں فراہم کرتا ہے۔ اس 10 فیصد میں وہ 2 فیصد بھی شامل ہے جو ملک کی 80 فیصد دولت پر قابض ہے، یہ دولت نہ محنت کی کمائی ہوتی ہے نہ اسے جائز اور قانونی کہا جا سکتا ہے۔ یہ دولت ناجائز طریقوں سے کمائی جاتی ہے، ان ناجائز طریقوں کا نام ہے کرپشن، سوئس بینک، آف شور کمپنیاں اور ترقی یافتہ ملکوں میں اربوں کی جائیداد کرپشن کے کارنامے ہیں۔

ہماری اپوزیشن حکمران خاندان پر کرپشن کا الزام لگا رہی ہے اور ہمارا حکمران طبقہ جواباً اپوزیشن رہنماؤں پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے اور اس حوالے سے اپوزیشن کے رہنما عدالتوں اور قانون ساز اداروں میں ریفرنس بھی جمع کر رہے ہیں، اور اس حوالے سے تحریکوں اور جوابی تحریکوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے، جسے ہم جمہوریت کا اصلی حسن بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس حوالے سے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ بھاری کرپشن کی وجہ غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اقتصادی راہداری کے منصوبے کو پاکستان کے عوام کی تقدیر بدلنے کا منصوبہ کہا جا رہا ہے، لیکن کیا اس کے ثمرات غریب عوام تک پہنچ پائیں گے؟ کرپشن نے غریب عوام سے ان کی معاشی خوشحالی چھین لی ہے۔ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ میرا اور نواز شریف کا احتساب ایک ساتھ شروع کیا جائے۔ یہ ایک متفقہ اخلاقی آفر ہے اگر یہاں سے احتساب کا عمل شروع کیا جائے تو آسانی سے یہ عمل کرپشن کے تمام مجرموں کی گردنوں تک پہنچ سکتا ہے۔
Load Next Story