تحریک انصاف کا کامیاب کنونشن

لاہور میں تحریک انصاف کے پرانے رہنما میاں محمود الرشید بھی تنظیمی الیکشن کے حوالے سے بہت سرگرم ہیں.

تحریک انساف کے یونٹی کنونشن میں پنجاب سے 10 ہزار کے لگ بھگ رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ فوٹو: ثناء

لاہور:
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنے نئے اور پرانے رہنماوں کے ایک ہو جانے اور اس کے نتیجہ میں لاہور میں ہونے والے کامیاب ''یونٹی کنونشن'' سے بہت خوش ہیں۔

وہ کافی عرصہ سے اپنی پارٹی کی مقبولیت کے حوالے سے کئے جانے والے پراپیگنڈہ اور پارٹی کے اندر نئے اور پرانے کی تقسیم اور باہمی تنازعات کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ کنونشن منعقد کروانے کا خیال سب سے پہلے مرکزی رہنما عبدالعلیم خان کو آیا جنہوں نے اس حوالے سے نئے اور پرانے رہنمائوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا ۔ تحریک انصاف کے بانی رکن اور سابق صدر پنجاب احسن رشید سمیت جمشید اقبال چیمہ، اشتیاق ملک اور دوسرے رہنما بھی نئے اور پرانوں کو ایک کرنے کی مہم میں علیم خان کے شانہ بشانہ آ کھڑے ہوئے۔

سیاسی سرگرمیاں بڑھ جانے کی وجہ سے علیم خان کا دفتر مال روڈ پر منتقل کیا جار ہا ہے۔ اعجاز چوہدری اور فاروق امجد میر نے بھی ان میٹنگز میں شرکت کی۔ سردار کامل عمر، نذیر چوہان، میاں جاوید علی، سردار عارف، میاں حامد معراج، شیخ عامر، فرخ جاوید مون، نصر اللہ مغل، منشاء سندھو، چوہدری طالب سدھو، عبد الرشید بھٹی، حماد اظہر، امین ذکی، مظہر ساہی، شعیب صدیقی اور جمشید اقبال چیمہ سمیت کئی لوگوں کی دن رات کی محنت نے اس کنونشن کو تحریک انصاف کے اندر ایک نیا انقلاب بنا دیا ہے۔ کامیاب کنونشن اور احسن رشید اور علیم خان کے ملاپ کے بعد تنظیمی الیکشن میں ان کی واضح اکثریت کی جیت ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

لاہور میں تحریک انصاف کے پرانے رہنما میاں محمود الرشید بھی تنظیمی الیکشن کے حوالے سے بہت سرگرم ہیں اور تمام تر ''صدمات'' کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری ہے۔ ظہیر عباس کھوکھر اور چوہدری اصغر گجر جیسے مخلص دوستوں کے سہارے وہ آئندہ چند روز میں یونین کونسل کی سطح پر تنظیمی الیکشن کے حوالے سے تربیتی ورکشاپس کا آغاز کر رہے ہیں جبکہ 25 دسمبر کو موچی گیٹ میں ورکرز کنونشن منعقد کر رہے ہیں۔


2 دسمبر کو ہونے والے یونٹی کنونشن میں پنجاب بھر سے 10 ہزار کے لگ بھگ رہنمائوں اور کارکنوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سابق گورنر میاں محمد اظہر، سابق وزیراعلیٰ میاں افضل حیات، سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی، معروف صنعتکار اور سیاستدان جمشید اقبال چیمہ، سابق وزیر اطلاعات خالد خان کھرل، سابق سینیٹر طارق چوہدری، ایس اے حمید، نوابزادہ منصور علی خان، سردار عارف رشید، چوہدری اعجاز اور عبدالرشید بھٹی، رانا راحیل احمد، خالد خاکوانی، عرفان چوہدری، نواب احمد خان، مختار شاہ، عمر سکھیرا، شفیق خان، حفیظ بلوچ، ریاض ارشاد نیازی، سجاد حیدر، ڈاکٹر وحید اکبر، آفتاب افگن، ڈاکٹر کاظم عاطف، سرور خان، عمران سعید، سجاد حیدر رندھاوا، خادم آدی، پی پی 96 گوجرانوالہ سے ڈاکٹر زین بھٹی، شاہنواز، میجر(ر) خلیل احمد، لیاقت رانجھا، شعیب، رائو راحت علی، ساجد کاظمی، رفیق خان نیازی، شاہ عالم خان، ملک شاہد ایڈووکیٹ، رانا سہیل احمد، ملک نعیم عالم، سہیل کمریال، رانا لال بادشاہ، اشفاق دولتانہ، زاہد حسین، اسحاق خاکوانی، جمال لغاری، رفیق حیدر لغاری، خالد خاکوانی، شوکت لالیکا، چوہدری محمد ثقلین، اسد معظم، خالد ظفر، جاوید گردیزی، عبدالستار واہلہ، چوہدری مسعود آفتاب، تنویر گل، فیصل پیرزادہ، مقصود الٰہی، اعزاز، ملک سجاد، رانا سلیم، حافظ عتیق، انصار نت، افضل گوندل، انجینئر جاوید، جبار شاہ، ساجد جیلانی، ڈاکٹر شمیم الحق، خالد، ارشاد انصاری، چوہدری ناصر، طاہر واہلہ، ریاست علی بھٹی، عبداللطیف جوئیہ، ضیاء الرحمن، مسعود طلحہ، سہیل آصف، میاں خالد، طارق سعادت، زاہد الرحمٰن، میاں رفیق، مظہر ساہی، ڈاکٹر شاہد صدیق، سیما انور، رفیق نثار، نثار حسین گوندل، نوابزادہ منصور، محمد خان جسپال، غلام اصغر لہری، اصغر حیات کلیار، سربلند خان، عمر اسلم خان، فیصل عزیز، عطاء اللہ خان، بریگیڈیئر (ر) جاوید اکرم، چوہدری اشفاق، خالد کھرل، ایس اے حمید، خواجہ صالح، اشرف بٹ، چوہدری ناصر سندھو، میاں افضل حیات، چوہدری اعجاز میانداد، چوہدری الیاس، چوہدری ناصر غفار، عمر ڈار، نعیم جاوید، جاوید صفدر کاہلوں، خضر ورک، سعید ورک، شاہد حیدر، چوہدری یعقوب، نفیس انصاری، ابراہیم خان، حسنین گردیزی، انوار الحق رامے، نوریز شکور، اورنگزیب کچھی، خالد چوہان، کرنل (ر) شفقت علی رانا، خواجہ مدثر، شیخ انوار، ظفر وریانہ، رفیق لغاری، طارق نعیم اللہ، شوکت دائود، زاہد ہاشمی، غلام سرور خان، نعیم شاہ، مجید معراج، سردار علی خان، سردار عارف، عبد الرشید بھٹی، مہر احمد گھمن، یار محمد ڈھکو، سردار اختر بلوچ، عبدالرحمٰن خان، مظہر لکھویرا، شفیق لغاری، بریگیڈیئر (ر) ٹیپو سلطان، کرنل (ر) ضیاء ملک، شاہنواز چیمہ، افضل سندھو، میاں احسان الحق، رائے عزیز، ملک امیر، سعید اللہ نیازی، ممتاز مکرانی شامل تھے۔

تحریک انصاف کے تمام ونگز کے کارکن اپنے رہنمائوں کے ساتھ پنڈال میں موجود تھے۔ ان میں محمد مدنی، شہزاد اشرف، نوشین حامد معراج، طلعت نقوی، فیروز بخت، سلمان ظفر، بابر مہدی، ناصر ملک، پروفیسر سلیم مغل، میاں سلیم، خلیل الرحمٰن، کامران پرویز، عمار سیموئل، ایس بی جان، ڈاکٹر آسٹن بھٹی و دیگر رہنما ئوں نے شرکت کی۔

کنونشن کے میزبان عبدالعلیم خان نے صدر آصف علی زرداری اور شریف برادران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا سونامی اقتدار کے روایتی بت پاش پاش کر دے گا، اب تحریک انصاف متحد ہو کر انتخابات میں اترے گی۔ سابق گورنر میاں اظہر نے کہا کہ تمام نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ این اے 124 سے جمشید اقبال چیمہ اپنے ساتھی اصغر بٹ،سلیم مغل،افتخار شاد،نعیم اللہ خان، رانا یونس،ملک شکیل، شیخ نفیس،حاجی صادق،عبید الرحمن،میاں رضوان، میاں اعظم، ملک عمران، شعیب سلطان جٹ،ذیشان جٹ، نذیر مٹھو، بی بی کلثوم اور صائمہ رحمن کے ہمراہ 21 بسوں اور درجنوں کاروں پر ایک بڑا جلوس لے کر آئے ہوئے تھے۔

سابق ایم پی اے عبدالرشید بھٹی کا جلوس بھی سینکڑوں کارکنوں پر مشتمل تھا۔این اے 127 ، پی پی 153 اور پی پی 147 سے عبدالکریم کلواڑ،نغمہ اعجاز، امجد خان اور دوسرے ساتھی بڑے جلوسوں کے ساتھ شامل ہوئے ۔ ولید اقبال کے ساتھی میاں خالد، میاں افتخار اور میاں ریاض بھی بڑی تعداد میں کارکنوں کے ساتھ موجود تھے۔
Load Next Story