تحریکیں اور اقتدار کی تبدیلی

کنٹینر مارچ لاہور پہنچ گیا تو میاں صاحب اس دفعہ جدہ نہیں جا سکیں گے۔

tauceeph@gmail.com

کنٹینر مارچ لاہور پہنچ گیا تو میاں صاحب اس دفعہ جدہ نہیں جا سکیں گے۔ عمران خان نے پشاور سے کنٹینر مارچ اسلام آباد پہنچنے پر یہ بیان دے کر اپنے چاہنے والوں کے خون کو مزید گرما دیا۔ پانامہ لیکس کا معاملہ پارلیمنٹ میں طے نہ ہوا تو سڑکوں پر پہنچ گیا۔ اب عمران سڑکوں اور سپریم کورٹ دونوں جگہ لڑائی لڑنا چاہتے ہیں۔ چوہدری اعتزاز احسن اور چوہدری نثار علی خان کی لڑائی کی بنا پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بظاہر آمنے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ خورشید شاہ ستمبر میں تحریک چلانے کا عندیہ دے رہے ہیں۔

وزیر داخلہ نثار علی خان نے دھواں دھار تقریر میں ایل پی جی کوٹے کا پھر ذکر کیا اور الزام لگایا کہ بلاول بھٹو اور ایان علی کے ٹکٹ ایک ہی اکاؤنٹ سے جاری ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کے مقدمات کے خاتمے پر سودے بازی چاہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی وزراء اپنے ساتھی کا دفاع نہیں کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی وفاقی کابینہ کے اختلافات عیاں ہو گئے۔ عمران خان کی تحریک انصاف ہر صورت میں میاں نواز شریف کی حکومت کے خاتمے کی خواہاں ہے، مگر عمران خان کی پالیسیاں مسلم لیگ حکومت کی اقتدار کی عمر کم کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

عمران خان نے 2015ء میں لاہور سے نواز حکومت کے خاتمے کے لیے کنٹینر مارچ شروع کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ چار حلقوں میں دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، پھر اچانک یہ احتجاج کنٹینر مارچ میں تبدیل ہوا۔ عمران خان لاہور سے ایک بڑے جلوس کی صورت اسلام آباد روانہ ہوئے، ان کا جلوس خاصا بڑا تھا مگر ملک کی تاریخ کا کوئی غیر معمولی احتجاج نہیں تھا۔ عمران خان سارے راستے حکومت کے سامنے ایمپائر کے انگلی اٹھانے کا ذکر کرتے رہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری اپنے مریدوں کے ہجوم کے ساتھ اسلام آبادکی طرف چلے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا جلوس اور پھر ریڈ زون میں دھرنا عمران خان کے مقابلے میں زیادہ منظم تھا۔

عمران خان تقریباً 6 مہینے تک شاہراہ دستور پر جمے رہے۔ ایک رات ہجوم نے ایوان صدر اور پی ٹی وی کے مرکزی دفتر پر حملہ کر دیا۔ عمران خان نے آئین سے ہٹ کر ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا اور بار بار یہ نوید سنائی کہ ایمپائر کی انگلی بس اب اٹھا چاہتی ہے۔ ملک اور غیر ممالک سے کروڑوں روپے دھرنے کی کامیابی کے لیے آئے۔ کچھ لوگوں نے نواز شریف حکومت کے خاتمے اور ممکنہ حکومت میں اپنے ممکنہ مفاد کو مدنظر رکھا، کچھ لوگوں نے شفاف اور اچھی طرز حکومت کے لیے دھرنے والوں کو فنڈ دیے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یورپ اور امریکا میں ان کے مریدوں کی تعداد زیادہ ہے، اس لیے انھیں زیادہ فنڈز ملے۔ میاں نواز شریف کی حمایت میں آصف زرداری، اسفند یار ولی نے ایک اہم کردار ادا کیا۔

جنرل راحیل شریف نے غیر جانبداری کا مظاہرہ کیا۔ ان کے غیر جانبدار رویے سے ان طبقات کو مایوسی ہوئی جو عمران خان اور طاہرالقادری کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ منتخب وزیراعظم کے خلاف ان کے گھر لاہور میں گو نواز گو کے نعرے کئی مہینوں تک بلند ہوتے رہے، مگر سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی کی سرگرمیوں کی بنا پر نواز شریف حکومت مکمل طور پر محفوظ رہی۔ عمران خان کی عزت آرمی پبلک اسکول پشاور پر حملے کی بنا پر بچ گئی۔

اس دوران چیف جسٹس کی قیادت میںمنظم انتخابی دھاندلی کے مفروضے پر تحقیقات پر اتفاق رائے ہوا اور ToRS تیار ہوئے جس کی بنا پر دھرنا ختم ہوا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر مشتمل ٹریبونل نے عام انتخابات میں منظم دھاندلی کا نظریہ مسترد کیا۔ اس دھرنے سے عمران خان کو تو کچھ حاصل نہ ہوا مگر نواز شریف حکومت کمزور ہو گئی۔ مقتدرہ نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے۔ میاں صاحب کو اپنی خارجہ، داخلہ پالیسی پر سمجھوتہ کرنا پڑا۔ عوام کا مجموعی طور پر جمہوری نظام پر اعتماد مجروح ہوا، پھر بقول صدر ممنون حسین پانامہ لیکس کی صورت میں عذاب الٰہی نازل ہوا۔


پانامہ لیکس میں میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے نام تو نہیں تھے مگر میاں نواز شریف کے بچوں، بے نظیر بھٹو، رحمان ملک سمیت بہت سے سیاست دانوں، صنعتکاروں کے نام شامل تھے۔ جہانگیر ترین اور عمران خان پر آف شورکمپنیوںکے الزامات لگے۔ حکومت پانامہ لیکس کے معاملے کو سپریم کورٹ میں لے گئی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں لی، یوں معاملہ پارلیمنٹ کے ذمے لگا۔ پیپلز پارٹی کے ماہر قانون چوہدری اعتزاز احسن کی قانونی باریکیوں کی بنا پر تحقیقاتی کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس پر سمجھوتہ نہیں ہوا۔ وزیراعظم نواز شریف اپنے دل کے آپریشن کی بنا پر دو ماہ لندن میں مقیم رہے۔ یہ کہا جاتا تھا کہ میاں صاحب کی غیر موجودگی میں مسلم لیگ کوئی جرأت مندانہ فیصلہ نہ کرے گی۔

وزیراعظم کی ملک واپسی کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے ٹی او آرز تیار کرنے والی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانے کی کوشش کی مگر چوہدری اعتزاز اور شاہ محمود قریشی کے سخت رویے یا حکومتی ٹیم کی نااہلی کی بنا پر یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ مگر تحریک انصاف نے حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کی مخالفت کے باوجود تحریک چلانے کا فیصلہ کر لیا۔ 13 اگست کو وہ پشاور سے کنٹینر مارچ لے کر اسلام آباد پہنچ گئے۔ ان کی دھواں دار تقریریں ذرایع ابلاغ کی زینت بنیں۔

کوئٹہ میں وکلاء پر خود کش حملہ ہوا اور بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف سرکاری سطح پر اور غیر سرکاری سطح پر احتجاجات ہو رہے تھے۔ اس احتجاج کے پہلے مرحلے کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کے درمیان لفظوں کی لڑائی میں شدت کا ایک نیا مرحلہ شروع ہوا۔ اب بلاول، چوہدری نثار علی خان کے خلاف ہتک عزت کے مقدمات درج کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں، مگر پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری کی پالیسیوں پر نظر رکھنے والے مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ کسی قسم کی عوامی تحریک پر یقین نہیں رکھتے بلکہ جوڑ توڑ کے ذریعے مفادات کے تحفظ کرتے ہیں۔

یہ بھی وجہ ہے کہ اگلے 21 ماہ اپنی جماعت کا امیج بہتر کرنے کے لیے وہ مراد علی شاہ کو سندھ کے وزیراعلیٰ کے عہدے پر لائے ہیں۔ مراد علی شاہ نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کر کے اچھے تعلقات کے بارے میں اصولوں کو پورا کیا ہے اور سندھ کی ترقی کے لیے فنڈز مانگے ہیں۔ خورشید شاہ اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ملاقات میں احتساب کے نئے قانون پر اتفاق ہوا ہے مگر اب خورشید شاہ نے ستمبر میں سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا ہے۔ بعض مبصرین خورشید شاہ کے اعلان کو بری فوج کی اعلیٰ قیادت میں ہونے والی تبدیلیوں سے ملا رہے ہیں۔ شیخ رشید نواز حکومت کی خاتمے کی تاریخوں کے اعلان کر کے اس تاثر کو صحیح ثابت کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ نادیدہ قوتیں ان کی پشت پناہی کر رہی ہیں مگر بین الاقوامی ماحول کچھ اور بتا رہا ہے۔ اس صورت حال میں پیپلز پارٹی سندھ سمیت ملک کے کسی بھی علاقے میں تحریک چلانے کی پوزیشن میں نہیں۔

اسی طرح عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کسی قسم کی تحریک سے لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کے مرید سندھ میں خاص طور پر کراچی میں بڑی تعداد میں موجود ہیں مگر یہ مرید کسی قسم کے احتجاج کو منظم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، پھر دوسری مذہبی جماعتیں ڈاکٹر طاہرالقادری کی تحریک کی حمایت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس ساری صورتحال میں عمران خان کے کنٹینر مارچ کا اس کے علاوہ کوئی اور نتیجہ برآمد نہیں ہو گا کہ ان کے کارکن متحرک ہو جائیں گے، مگر انتخابات سے 21 ماہ پہلے کارکنوں کو متحرک کرنا کوئی بہت بڑے فائدہ کا سودا نہیں ہے۔ اسی طرح کارکن اور عام آدمی کے صورتحال سے بدظن ہونے کے امکانات زیادہ ہیں مگر عمران خان 21 ماہ کو پختونخوا میں اچھی طرز حکومت کے ماڈل پر توجہ دے کر رائے عامہ کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

کے پی کے بھی توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے میں بجلی کے پلانٹ لگا سکتے ہیں۔ عمران خان کو اس مسئلے کے حل کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ پھر کے پی کے سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کے روابط کو استعمال کرتے ہوئے یورپ اور امریکا میں سرمایہ کاروں کو نئے پروجیکٹ کے ساتھ کے پی کو مدعو کرنا چاہیے۔ اس طرح کے پی کے ترقی کا ماڈل بن سکتا ہے اور اگلے انتخابات میں عمران خان کا بھرپور تعارف بھی۔ عمران خان کو اس طرح بھی سوچنا چاہیے۔
Load Next Story