ترک اسرائیل تعلقات کی بحالی

ترکی میں ہونے والی تبدیلیوں سے ایسا لگتا ہے کہ اردگان حکومت امریکا اور اسرائیل دونوں سے تلخیاں کم کرنا چاہتی ہے

ترک رہنما فتح اللہ گولن نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ امریکا ترکی کی جانب سے باضابطہ درخواست کے باوجود انھیں بے دخل نہیں کریگا۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے ترکی کے بحری جہاز فریڈم فلوٹیلا پر اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کے حملے کے بعد منقطع ہونے والے ترکی اسرائیل تعلقات کی بحالی کا فیصلہ ترک پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد کر لیا گیا ہے جب کہ ترک پارلیمنٹ نے اس حوالے سے حکومتی پلان کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد ترک اسرائیل تعلقات میں 6 برسوں سے جاری تعطل عملی طور پر ختم ہو گیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے ترکی کو تاوان ادا کرنے کی یقین دہانی کے بعد ترکی اور اسرائیل کے مابین اس بارے میں اتفاق رائے گزشتہ ماہ ہوا تھا' توقع ہے کہ دونوں ملکوں کے سفیر جلد ہی اپنی اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں گے۔ ترکی کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات2010ء میں اپنے امدادی بحری جہاز فریڈم فلوٹیلا پر حملے کے بعد منقطع کیے تھے، دونوں ملکوں نے باقاعدہ ڈیل کے تحت سفارتی روابط بحال کیے ہیں جس کے تحت اسرائیل ترکی کو 20 ملین ڈالر تاوان ادا کرے گا۔


ادھر ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم کا کہنا ہے کہ امریکا ہمارا دشمن نہیں بلکہ اسٹرٹیجک پارٹنر ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ دوطرفہ تعلقات میں اونچ نیچ آ سکتی ہے تاہم ہمیں ان عناصر کا خاتمہ کرنا ہے جو باہمی تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو میں علی یلدرم نے تصدیق کی کہ امریکی نائب صدر جو بائیڈن اگلے ہفتے ترکی کا دورہ کرینگے جب کہ قانون سازی کے اعتبار سے امریکی تکنیکی وفد ترک جوڈیشل حکام سے ملاقات کے لیے انقرہ پہنچ گئے ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات سے ترک قوم کے ذہن میں امریکا کے حوالے سے موجود سوالات کا خاتمہ ہو گا۔ دوسری جانب اوباما انتظامیہ نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف ترک جلا وطن رہنما فتح اللہ گولن پر الزامات کی تحقیقات کے لیے ٹیم ترکی بھیجے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ ترک رہنما کی کسی غلط کاری کو ثابت کرنے کے لیے مضبوط اور قابل اعتبار شہادت کی ضرورت ہو گی۔ ادھر ترک رہنما فتح اللہ گولن نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ امریکا ترکی کی جانب سے باضابطہ درخواست کے باوجود انھیں بے دخل نہیں کریگا۔

ترکی میں ہونے والی تبدیلیوں سے ایسا لگتا ہے کہ اردگان حکومت امریکا اور اسرائیل دونوں سے تلخیاں کم کرنا چاہتی ہے، اردگان حکومت نے روس کے ساتھ اپنے کشیدہ تعلقات کو بھی بڑی حکمت عملی کے تحت درست کیا اور اب وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
Load Next Story