مقبوضہ کشمیر پر اوآئی سی کا بیانپاکستانی موقف کی فتح
بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کےحل کے لیے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر مسترد کر رہی ہے
اگر اقوام متحدہ اور او آئی سی حقیقی معنوں میں یہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل ہو تو انھیں بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے حقیقی معنوں میں اس پر بھرپور دباؤ ڈالنا چاہیے۔ فوٹو : فائل
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )کے سیکریٹری جنرل ایاد امین مدنی نے ہفتے کو اسلام آباد میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار اور مسئلہ کشمیر کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ او آئی سی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
مقبوضہ وادی میں صورت حال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں' انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے اور ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے' عالمی اداروں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر صرف بیانات کافی نہیں بلکہ مسئلے کے سیاسی حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے' تنازعات کو حل کرنے کی غرض سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے چاہئیں۔ ادھر اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی سے خطے میں صورت حال خراب ہو رہی ہے جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے' عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں تشدد ختم کرانے اور مذاکرات کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے' اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔
بھارتی حکومت کچھ عرصے سے یہ پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت جو صورتحال ہے وہ اس کا اندرونی معاملہ ہے لہٰذا اس کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے اس بھارتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑی ہوئی صورت حال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کا یہ بیان پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید کرتا ہے کہ کشمیر دو ممالک کے درمیان متنازع علاقہ ہے جس کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے مسئلہ کشمیر پر عالمی اداروں کی بے حسی اور بے عملی پر بھی ذکر کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال صرف بیانات سے حل نہیں ہو گی اس کے لیے ناگزیر ہے کہ عالمی قوتیں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے نام ایک خط میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر کے بھی بھارت پر یہ واضح کر دیا تھا کہ کشمیر متنازع علاقہ ہے اور اس کے حل کے لیے اقوام متحدہ قرار دادیں پیش کر چکی ہے۔
او آئی سی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا بیان پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ضرور ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں ادارے مسئلہ کشمیر کے حل اور بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اقوام متحدہ بھارتی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے جو وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی اداروں کو آگاہ کرے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں صورت حال یہ ہے کہ کرفیو کے باعث پوری وادی میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی' خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ حریت قیادت کی جانب سے آزادی روڈ شوز اور مارچ کی کال پر کٹھ پتلی انتظامیہ نے سری نگر اور دیگر بڑے قصبوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے جب کہ سڑکیں سیل کر دی گئیں' حریت رہنماؤں کو گھروں' تھانوں اور جیلوں میں مسلسل نظر بند رکھا جا رہا ہے۔
بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر مسترد کر رہی ہے اور کسی بھی طرح بات چیت کے لیے آمادہ نہیں ہو رہی۔ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وہی پرانی رٹ لگائی کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔ جب تک بھارت ہٹ دھرمی چھوڑ کر پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہیں کرتا مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا اور مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی تحریک آزادی کے باعث پوری وادی میں صورت حال خراب ہی رہے گی لیکن بھارت بخوبی جانتا ہے کہ عالمی ادارے اس پر دباؤ نہیں ڈالیں گے ان کی کارکردگی صرف بیانات تک محدود ہے۔ اگر اقوام متحدہ اور او آئی سی حقیقی معنوں میں یہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل ہو تو انھیں بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے حقیقی معنوں میں اس پر بھرپور دباؤ ڈالنا چاہیے۔
مقبوضہ وادی میں صورت حال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں' انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جائے اور ان کو سخت سے سخت سزا دی جائے' عالمی اداروں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر صرف بیانات کافی نہیں بلکہ مسئلے کے سیاسی حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے' تنازعات کو حل کرنے کی غرض سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے چاہئیں۔ ادھر اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارتی ہٹ دھرمی سے خطے میں صورت حال خراب ہو رہی ہے جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہو سکتی ہے' عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں تشدد ختم کرانے اور مذاکرات کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے' اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے۔
بھارتی حکومت کچھ عرصے سے یہ پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت جو صورتحال ہے وہ اس کا اندرونی معاملہ ہے لہٰذا اس کے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے اس بھارتی موقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑی ہوئی صورت حال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔
او آئی سی کے سیکریٹری جنرل کا یہ بیان پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید کرتا ہے کہ کشمیر دو ممالک کے درمیان متنازع علاقہ ہے جس کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ او آئی سی کے سیکریٹری جنرل نے مسئلہ کشمیر پر عالمی اداروں کی بے حسی اور بے عملی پر بھی ذکر کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال صرف بیانات سے حل نہیں ہو گی اس کے لیے ناگزیر ہے کہ عالمی قوتیں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے نام ایک خط میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کر کے بھی بھارت پر یہ واضح کر دیا تھا کہ کشمیر متنازع علاقہ ہے اور اس کے حل کے لیے اقوام متحدہ قرار دادیں پیش کر چکی ہے۔
او آئی سی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا بیان پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ضرور ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں ادارے مسئلہ کشمیر کے حل اور بھارت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اقوام متحدہ بھارتی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے جو وہاں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی اداروں کو آگاہ کرے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں صورت حال یہ ہے کہ کرفیو کے باعث پوری وادی میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی' خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ حریت قیادت کی جانب سے آزادی روڈ شوز اور مارچ کی کال پر کٹھ پتلی انتظامیہ نے سری نگر اور دیگر بڑے قصبوں میں بڑی تعداد میں بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات کر دیے جب کہ سڑکیں سیل کر دی گئیں' حریت رہنماؤں کو گھروں' تھانوں اور جیلوں میں مسلسل نظر بند رکھا جا رہا ہے۔
بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کو کوئی نہ کوئی بہانہ تراش کر مسترد کر رہی ہے اور کسی بھی طرح بات چیت کے لیے آمادہ نہیں ہو رہی۔ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وہی پرانی رٹ لگائی کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔ جب تک بھارت ہٹ دھرمی چھوڑ کر پاکستان کے ساتھ مذاکرات نہیں کرتا مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو گا اور مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی تحریک آزادی کے باعث پوری وادی میں صورت حال خراب ہی رہے گی لیکن بھارت بخوبی جانتا ہے کہ عالمی ادارے اس پر دباؤ نہیں ڈالیں گے ان کی کارکردگی صرف بیانات تک محدود ہے۔ اگر اقوام متحدہ اور او آئی سی حقیقی معنوں میں یہ چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر حل ہو تو انھیں بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے حقیقی معنوں میں اس پر بھرپور دباؤ ڈالنا چاہیے۔