ریو اولمپکس میں جنوبی ایشیا ئی ممالک کی مایوس کن کارکردگی

پاکستان، سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش اور افغانستان کوئی تمغہ حاصل نہیں کر سکے، بھارت ہے جو دو تین تمغے جیت سکا ہے

ہمارا قومی کھیل ہاکی جو بوجوہ عروج سے زوال کی مسافرت پر ہے، اس پر بھی ذمے داروں کی سنجیدگی سے توجہ نہیں ہے۔ فوٹو : فائل

لاطینی امریکا کے ملک برازیل کے دارالحکومت ریو ڈی جنیرو میں منعقد ہونے والے اولمپکس کھیلوں کے مقابلوں میں امریکا، برطانیہ، چین، روس اور جرمنی نے ڈھیروں تمغے جیت لیے ہیں۔ سونے کے تمغے جیتنے والوں میں امریکا سرفہرست ہے جب کہ مجموعی طور پر امریکا کے حصے میں آنے والے تمغوں کی تعداد ایک سو سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ اس کے قریبی حریفوں میں برطانیہ اور چین شامل ہیں۔ جہاں تک جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کا تعلق ہے تو وہ سب ان کھیلوں میں تمغوں کے حوالے سے تہی دست ہی نظر آتے ہیں۔


پاکستان، سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش اور افغانستان کوئی تمغہ حاصل نہیں کر سکے، بھارت ہے جو دو تین تمغے جیت سکا ہے اور ان میں بھی سونے کا کوئی میڈل نہیں ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ہاکی میں پاکستان کا سونے کا تمغہ یقینی تصور کیا جاتا تھا۔ اس کھیل میں بھارت نے بھی تمغہ حاصل کیا تھا مگر اب یہ دونوں پڑوسی جو آپس میں لڑنے میں تو بہت شیر ہیں مگر کھیلوں کے میدان میں سب سے پیچھے ہیں اس کی وجہ ظاہر ہے کہ کھیلوں کی اس انداز سے سرپرستی کا فقدان ہے جو مغربی ممالک کا خاصا ہے۔

چین کا بھی ماضی قریب میں کھیلوں میں کوئی خاص مقام نہیں تھا مگر انھوں نے دور دراز دیہی علاقوں پر توجہ مرکوز کر کے وہاں پر باصلاحیت بچوں پر خصوصی توجہ دینا شروع کی جس کے نتیجے میں چینی کھلاڑیوں نے بھی ریو اولمپکس میں نمایاں کامیابی حاصل کر لی۔ پاکستان میں ارباب بست و کشاد کی کھیلوں کی طرف کچھ سنجیدگی سے توجہ نہیں ہے سوائے کرکٹ کے جو کہ عوامی جنون کے باعث خود بخود عروج پر پہنچ چکا ہے۔ کرکٹ چونکہ کھلاڑیوں کے لیے دولت اور شہرت کا باعث بنتا ہے اس لیے ساری توجہ اسی کھیل پر ہے۔ مگر ہمارا قومی کھیل ہاکی جو بوجوہ عروج سے زوال کی مسافرت پر ہے، اس پر بھی ذمے داروں کی سنجیدگی سے توجہ نہیں ہے۔
Load Next Story