پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی ’’ربڑ اسٹیمپ‘‘ بن گئی
گراؤنڈز اور قوانین ہی کرکٹ کمیٹی کے دائرہ اختیار میں شامل ہیں۔
گراؤنڈز اور قوانین ہی کرکٹ کمیٹی کے دائرہ اختیار میں شامل ہیں۔ فوٹو: فائل
RAWALPINDI/ISLAMABAD:
پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی ''ربڑ اسٹیمپ'' بن گئی، سابق کھلاڑیوں کی گذشتہ کمیٹی میں عدم شمولیت کا تاثر غلط ثابت کرنے کیلیے اسے بنایا گیا۔
کرکٹ بورڈ نے مئی میں سابق ٹیسٹ آل راؤنڈر و ڈائریکٹر نیشنل کرکٹ کمیٹی مدثر نذر کی زیرسربراہی میں کرکٹ کمیٹی قائم کی،اقبال قاسم، ندیم خان، عروج ممتاز اور عدنان مظفر اس کے ارکان ہیں، دنیا بھر میں کرکٹ کمیٹیز تمام اہم معاملات دیکھتی ہیں مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں صرف گراؤنڈز اور قوانین اس کے دائرہ اختیار میں شامل ہیں، اسی کے ساتھ شکیل شیخ کی سربراہی میں ڈومیسٹک افیئرز کمیٹی بنائی گئی جو خاصی فعال دکھائی دیتی ہے،اس نے گذشتہ دنوں پہلی بار ایک ساتھ پورے سیزن کے ایونٹس شیڈول کا اجرا بھی کیا، دوسری جانب اختیارات کے بغیر کرکٹ کمیٹی غیرفعال نظر آتی ہے۔
گذشتہ دنوں پہلے اجلاس میں ممبران صرف چائے نوش کر کے واپس آ گئے اور کوئی خاص فیصلہ نہیں ہوا،انھیں ڈومیسٹک سیزن کے شیڈول کی کاپی دی گئی جس کی منظوری یا اعتراض کا اسے کوئی اختیار نہیں،اب منگل کو ایک اور میٹنگ طلب کی گئی ہے جس میں ڈومیسٹک چار روزہ میچز میں استعمال ہونے والی پنک گیند پر بات ہوگی، منظور شدہ گیند ویسٹ انڈیز کے خلاف نائٹ ٹیسٹ میں بھی استعمال ہوگی، کمیٹی ممبران بغیر اختیارات بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے صرف سابقہ کمیٹی میں کرکٹرز کی شمولیت کا تاثر ختم کرنے کیلیے موجودہ کمیٹی بنائی ، حقیقت میں اس کے پاس کوئی اختیارات نہیں اور تمام فیصلے حکام خود ہی کر رہے ہیں۔
پی سی بی کی کرکٹ کمیٹی ''ربڑ اسٹیمپ'' بن گئی، سابق کھلاڑیوں کی گذشتہ کمیٹی میں عدم شمولیت کا تاثر غلط ثابت کرنے کیلیے اسے بنایا گیا۔
کرکٹ بورڈ نے مئی میں سابق ٹیسٹ آل راؤنڈر و ڈائریکٹر نیشنل کرکٹ کمیٹی مدثر نذر کی زیرسربراہی میں کرکٹ کمیٹی قائم کی،اقبال قاسم، ندیم خان، عروج ممتاز اور عدنان مظفر اس کے ارکان ہیں، دنیا بھر میں کرکٹ کمیٹیز تمام اہم معاملات دیکھتی ہیں مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں صرف گراؤنڈز اور قوانین اس کے دائرہ اختیار میں شامل ہیں، اسی کے ساتھ شکیل شیخ کی سربراہی میں ڈومیسٹک افیئرز کمیٹی بنائی گئی جو خاصی فعال دکھائی دیتی ہے،اس نے گذشتہ دنوں پہلی بار ایک ساتھ پورے سیزن کے ایونٹس شیڈول کا اجرا بھی کیا، دوسری جانب اختیارات کے بغیر کرکٹ کمیٹی غیرفعال نظر آتی ہے۔
گذشتہ دنوں پہلے اجلاس میں ممبران صرف چائے نوش کر کے واپس آ گئے اور کوئی خاص فیصلہ نہیں ہوا،انھیں ڈومیسٹک سیزن کے شیڈول کی کاپی دی گئی جس کی منظوری یا اعتراض کا اسے کوئی اختیار نہیں،اب منگل کو ایک اور میٹنگ طلب کی گئی ہے جس میں ڈومیسٹک چار روزہ میچز میں استعمال ہونے والی پنک گیند پر بات ہوگی، منظور شدہ گیند ویسٹ انڈیز کے خلاف نائٹ ٹیسٹ میں بھی استعمال ہوگی، کمیٹی ممبران بغیر اختیارات بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے صرف سابقہ کمیٹی میں کرکٹرز کی شمولیت کا تاثر ختم کرنے کیلیے موجودہ کمیٹی بنائی ، حقیقت میں اس کے پاس کوئی اختیارات نہیں اور تمام فیصلے حکام خود ہی کر رہے ہیں۔