غیر قانونی تقرریاں سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنس کی سماعت سے روک دیا
ملک قیوم کے معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا گیا کہ ان کیخلاف کیس نہیں بنتا اس لیے انکا مقدمہ نمٹا دیا جائے ۔
ملک قیوم کے معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا گیا کہ ان کیخلاف کیس نہیں بنتا اس لیے انکا مقدمہ نمٹا دیا جائے ۔
KARACHI:
سپریم کورٹ نے سزا یافتہ افرادکی غیر قانونی تقرری کے مبینہ ذمہ داروں کیخلاف احتساب عدالت کو اگلے حکم تک ریفرنس کی سماعت سے روک دیا اورنیب کو حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نیب نے بتایا کہ عدنان خواجہ کی تقرری کے معاملے پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو طلب کیا گیاہے۔ این آر او عملدرآمدکیس کی سماعت جسٹس انور ظہیر جمالی،جسٹس طارق پرویز اورجسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل بنچ نے کی۔
پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے بتایا کہ عدنان خواجہ کی غیر قانونی تقرری میں اسماعیل قریشی سمیت تین سرکاری افسران کیخلاف ریفرنس دوبارہ دائرکر دیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کو متعدد سوالات کا جواب دینے کیلیے نیب نے طلب کیا ہے، اس بارے میں وضاحت آنے کے بعد فیصلہ کیا جائیگا۔ عدنان خواجہ تقرری کے سات دن بعد برطرف ہوئے چونکہ انھوں نے مالی فائدہ نہیں اٹھایا اس لیے نیب قانون کے تحت ان کیخلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔ ملک قیوم کے معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا گیا کہ ان کیخلاف کیس نہیں بنتا اس لیے انکا مقدمہ نمٹا دیا جائے ۔
جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ فیصلہ ایک ساتھ کیا جائے گا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت اس بات کو بھی دیکھے گے کہ نیب نے شفاف طریقے سے جائزہ لیا یا نہیں۔ مزید سماعت فروری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔
سپریم کورٹ نے سزا یافتہ افرادکی غیر قانونی تقرری کے مبینہ ذمہ داروں کیخلاف احتساب عدالت کو اگلے حکم تک ریفرنس کی سماعت سے روک دیا اورنیب کو حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نیب نے بتایا کہ عدنان خواجہ کی تقرری کے معاملے پر سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو طلب کیا گیاہے۔ این آر او عملدرآمدکیس کی سماعت جسٹس انور ظہیر جمالی،جسٹس طارق پرویز اورجسٹس اعجاز افضل خان پر مشتمل بنچ نے کی۔
پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے بتایا کہ عدنان خواجہ کی غیر قانونی تقرری میں اسماعیل قریشی سمیت تین سرکاری افسران کیخلاف ریفرنس دوبارہ دائرکر دیا گیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کو متعدد سوالات کا جواب دینے کیلیے نیب نے طلب کیا ہے، اس بارے میں وضاحت آنے کے بعد فیصلہ کیا جائیگا۔ عدنان خواجہ تقرری کے سات دن بعد برطرف ہوئے چونکہ انھوں نے مالی فائدہ نہیں اٹھایا اس لیے نیب قانون کے تحت ان کیخلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔ ملک قیوم کے معاملے کا دوبارہ جائزہ لیا گیا کہ ان کیخلاف کیس نہیں بنتا اس لیے انکا مقدمہ نمٹا دیا جائے ۔
جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ فیصلہ ایک ساتھ کیا جائے گا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ عدالت اس بات کو بھی دیکھے گے کہ نیب نے شفاف طریقے سے جائزہ لیا یا نہیں۔ مزید سماعت فروری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔