پاک افغان سرحدی معاملات حل کیے جائیں
پاک افغان سرحد پر کشیدگی دونوں ممالک کے عوام کے لیے مناسب نہیں
امید کی جاتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے حکام جلد کسی صائب نتیجے پر پہنچتے ہوئے تمام معاملات خوشگوار انداز میں حل کریں گے۔ فوٹو:فائل
پاک افغان حکام کے درمیان سرحدی مذاکرات اتوار کو بھی ناکام رہے، جب کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں افغانستان سے متصل پاک افغان 'باب دوستی' اتوار کو چوتھے روز بھی بند رہا۔ بندش کے باعث سرحد کے دونوں جانب ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جب کہ افغان پولیس کی جانب سے پاکستانی ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹروں پر تشدد کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
واضح رہے 'بابِ دوستی' کو پاکستانی فورسز کی جانب سے بطور احتجاج اور حفاظتی انتظامات کے تحت بند کیا گیا جب افغانستان کے سیکیورٹی حکام نے افغان سرحدی علاقے اسپین بولدک کے لوگوں کو کسی جواز کے بغیر اشتعال دلایا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں نے نہ صرف پاکستان کی جانب پتھراؤ کیا بلکہ قابل اعتراض جملوں کے اظہار کے علاوہ پاکستانی پرچم کی بے حرمتی بھی کی۔ پاک افغان مذاکرات آج بھی جاری رہنے کی توقع ہے، امید کی جاتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے حکام جلد کسی صائب نتیجے پر پہنچتے ہوئے تمام معاملات خوشگوار انداز میں حل کریں گے۔
پاک افغان سرحد پر کشیدگی دونوں ممالک کے عوام کے لیے مناسب نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاک افغان سرحد پر قائم دوستی گیٹ کے ذریعے روزانہ تقریباً 18 ہزار افراد کی آمدورفت ہوتی ہے جن میں پاکستان اور افغان تاجروں کے علاوہ عام شہری اور افغان مریضوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے لیکن افغانستان کے عاقبت نا اندیش اکابرین پاکستان مخالف قوتوں کے جھانسے میں آکر تعلقات میں سردمہری پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
افغان حکام کو اپنے عوام اور خطے کے امن کے عظیم تر مفاد میں پاکستان کی امن کاوشوں کا مثبت انداز میں خیرمقدم کرتے ہوئے بہتر تعلقات کی راہ اپنانی چاہیے۔ پاک افغان بہتر تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کی امن و ترقی کے لیے ضروری ہے، اس لیے تمام تنازعات جلد حل کیے جائیں۔
واضح رہے 'بابِ دوستی' کو پاکستانی فورسز کی جانب سے بطور احتجاج اور حفاظتی انتظامات کے تحت بند کیا گیا جب افغانستان کے سیکیورٹی حکام نے افغان سرحدی علاقے اسپین بولدک کے لوگوں کو کسی جواز کے بغیر اشتعال دلایا جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں نے نہ صرف پاکستان کی جانب پتھراؤ کیا بلکہ قابل اعتراض جملوں کے اظہار کے علاوہ پاکستانی پرچم کی بے حرمتی بھی کی۔ پاک افغان مذاکرات آج بھی جاری رہنے کی توقع ہے، امید کی جاتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے حکام جلد کسی صائب نتیجے پر پہنچتے ہوئے تمام معاملات خوشگوار انداز میں حل کریں گے۔
پاک افغان سرحد پر کشیدگی دونوں ممالک کے عوام کے لیے مناسب نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاک افغان سرحد پر قائم دوستی گیٹ کے ذریعے روزانہ تقریباً 18 ہزار افراد کی آمدورفت ہوتی ہے جن میں پاکستان اور افغان تاجروں کے علاوہ عام شہری اور افغان مریضوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے لیکن افغانستان کے عاقبت نا اندیش اکابرین پاکستان مخالف قوتوں کے جھانسے میں آکر تعلقات میں سردمہری پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
افغان حکام کو اپنے عوام اور خطے کے امن کے عظیم تر مفاد میں پاکستان کی امن کاوشوں کا مثبت انداز میں خیرمقدم کرتے ہوئے بہتر تعلقات کی راہ اپنانی چاہیے۔ پاک افغان بہتر تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کی امن و ترقی کے لیے ضروری ہے، اس لیے تمام تنازعات جلد حل کیے جائیں۔