بجلی بحران ایک چشم کشا رپورٹ
اقتصادی راہداری کے فوائد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بجلی کے معاملات میں خود کفیل ہونا ضروری ہے
لوگ سوال کرتے ہیں کہ بجلی منصوبوں کی جلد تکمیل کے خوشنما وعدے کیا ہوئے،حکمرانوں کو اس کا جواب عملی طور پر دینا چاہیے۔ فوٹو: فائل
وفاقی حکومت عوام اور بجلی کے صنعتی و گھریلو صارفین ایک طرف مسلسل اس بات کا یقین دلا رہی ہے کہ بجلی کا بحران اور ملک گیر لوڈ شیڈنگ 2018 ء تک ختم ہوجائے گی تاہم دوسری جانب توانائی کے شعبے سے متعلق مختلف باتیں سامنے آرہی ہیں جب کہ ملک کے صنعتکار، سرمایہ کار ، پوری ٹیکسٹائل انڈسٹری، تاجر برادری، کسان اور عام صارفین بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے فرسودہ نظام کے ستائے ہوئے ہیں ۔
ماہرین بجلی کی پیداوار و تقسیم کے نظام کی اوورہالنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، ان کا انداز نظر معقول ہے کہ لوڈ شیڈنگ مقامی مسئلہ نہیں اور نہ ہی بجلی کے تعطل کا دورانیہ کوئی معمولی تکنیکی پرابلم ہے بلکہ ملکی ترقی اور اقتصادی استحکام کا کلی انحصار توانائی شعبہ کی مکمل فعالیت سے منسلک ہے، آج کی عالمی معاشی مسابقت میں کوئی ملک صنعتی ، سماجی ، تعلیمی اور سائنسی و تکنیکی ترقی کا توانائی کے وسائل کے بغیر سوچ بھی نہیں سکتا، اکثر ہمارے اہل دانش اور صاحبان ثروت جب دنیا کے مختلف ممالک کو لوڈ شیڈنگ کے لفظ سے نا آشنا قراردیتے ہیں تو لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں گرفتار شہری و دیہی عوام اسے عجیب خبر سے تعبیر کرتے ہیں۔
چنانچہ اس سیاق وسباق میں پاور سیکٹر سے متعلق کہاجا رہا ہے کہ توانائی شعبہ میں واجب الوصول اثاثوں کا حجم 684 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے جو ملکی تاریخ میں ریکارڈ ہے، جب کہ مقامی سطح پر بھی پیداواری لاگت میں 27 فی صد تک کمی کے باوجود پاور سیکٹر کے قابل وصول اثاثوں اور اس کے ساتھ ساتھ توانائی شعبہ کی جانب سے واجب الادا رقم کے حجم میں بھی 44 فی صد اضافہ ہوچکا ہے، جون 2016 ء تک یہ رقم 300 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ادھر صدر مملکت ممنون حسین نے گلگت بلتستان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کے فوائد عوام تک پہنچانے کے لیے بجلی پیداوار میں اضافہ اوراس کا قومی ٹرانسمیشن لائن سے منسلک ہونا ضروری ہے، اقتصادی راہداری کے فوائد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بجلی کے معاملات میں خود کفیل ہونا ضروری ہے، ادھر وزارت پانی و بجلی نے ملک میں پانی کی قلت اور سیلاب سے ممکنہ بچاؤکے لیے دیامر بھاشا اور کرم تنگی ڈیم کے علاوہ 10 نئے ڈیموں کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اطلاعات خوش آیند ہیں تاہم لوڈ شیڈنگ کا2018 ء تک جاری رہنا جب کہ ملکی ترقی و سیاسی استحکام سے عدم مطابقت مسائل کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ گزشتہ روز اتوار کی تعطیل کے باوجود کراچی ، ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں بجلی کا بدترین بحران اتوار کی سرکاری چھٹی کے روز بھی برقرار رہا ، کراچی میں پانی وبجلی کی قلت و بندش کے خلاف شہر قائد میں ہنگامے،احتجاجی اور سڑکوں کو بلاک کرنا معمول بن چکا ہے، ملک کے دیگر علاقوں میں لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ بجلی منصوبوں کی جلد تکمیل کے خوشنما وعدے کیا ہوئے،حکمرانوں کو اس کا جواب عملی طور پر دینا چاہیے۔
ماہرین بجلی کی پیداوار و تقسیم کے نظام کی اوورہالنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، ان کا انداز نظر معقول ہے کہ لوڈ شیڈنگ مقامی مسئلہ نہیں اور نہ ہی بجلی کے تعطل کا دورانیہ کوئی معمولی تکنیکی پرابلم ہے بلکہ ملکی ترقی اور اقتصادی استحکام کا کلی انحصار توانائی شعبہ کی مکمل فعالیت سے منسلک ہے، آج کی عالمی معاشی مسابقت میں کوئی ملک صنعتی ، سماجی ، تعلیمی اور سائنسی و تکنیکی ترقی کا توانائی کے وسائل کے بغیر سوچ بھی نہیں سکتا، اکثر ہمارے اہل دانش اور صاحبان ثروت جب دنیا کے مختلف ممالک کو لوڈ شیڈنگ کے لفظ سے نا آشنا قراردیتے ہیں تو لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں گرفتار شہری و دیہی عوام اسے عجیب خبر سے تعبیر کرتے ہیں۔
چنانچہ اس سیاق وسباق میں پاور سیکٹر سے متعلق کہاجا رہا ہے کہ توانائی شعبہ میں واجب الوصول اثاثوں کا حجم 684 ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے جو ملکی تاریخ میں ریکارڈ ہے، جب کہ مقامی سطح پر بھی پیداواری لاگت میں 27 فی صد تک کمی کے باوجود پاور سیکٹر کے قابل وصول اثاثوں اور اس کے ساتھ ساتھ توانائی شعبہ کی جانب سے واجب الادا رقم کے حجم میں بھی 44 فی صد اضافہ ہوچکا ہے، جون 2016 ء تک یہ رقم 300 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ادھر صدر مملکت ممنون حسین نے گلگت بلتستان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کے فوائد عوام تک پہنچانے کے لیے بجلی پیداوار میں اضافہ اوراس کا قومی ٹرانسمیشن لائن سے منسلک ہونا ضروری ہے، اقتصادی راہداری کے فوائد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بجلی کے معاملات میں خود کفیل ہونا ضروری ہے، ادھر وزارت پانی و بجلی نے ملک میں پانی کی قلت اور سیلاب سے ممکنہ بچاؤکے لیے دیامر بھاشا اور کرم تنگی ڈیم کے علاوہ 10 نئے ڈیموں کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اطلاعات خوش آیند ہیں تاہم لوڈ شیڈنگ کا2018 ء تک جاری رہنا جب کہ ملکی ترقی و سیاسی استحکام سے عدم مطابقت مسائل کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ گزشتہ روز اتوار کی تعطیل کے باوجود کراچی ، ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں بجلی کا بدترین بحران اتوار کی سرکاری چھٹی کے روز بھی برقرار رہا ، کراچی میں پانی وبجلی کی قلت و بندش کے خلاف شہر قائد میں ہنگامے،احتجاجی اور سڑکوں کو بلاک کرنا معمول بن چکا ہے، ملک کے دیگر علاقوں میں لوڈ شیڈنگ جاری ہے جس سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ بجلی منصوبوں کی جلد تکمیل کے خوشنما وعدے کیا ہوئے،حکمرانوں کو اس کا جواب عملی طور پر دینا چاہیے۔