بغیرعشق کچھ بھی حاصل کرنا ممکن نہیں

اس تنگ دل معاشرے میں بھی خواتین کی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے موقع ملنے پر کارہائے نمایاں کر دکھائے۔

شاد بیگم کو سماجی کاموں کی وجہ سے بہادر خاتون کے بین الاقوامی ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ فوٹو : فائل

پاکستان کی تاریخ میں خواتین کے کارناموں کی ضخامت کچھ زیادہ نہیں ہے، خال خال نام سامنے آتے ہیں تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہماری خواتین صلاحیتوں اور جرأتوں کے اعتبار سے کسی سے پیچھے ہیں۔

امرِ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے دانستہ و نادانستہ کچھ ایسی فضا بنا رکھی ہے کہ جس میں خواتین کی صلاحیتیں دب کر رہ جاتی ہیں اور یہ بھی ہمیں کھلے دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم خواتین کا کسی شعبے میں آگے بڑھنا پسند بھی نہیں کرتے۔ ہم ہر ہر قدم پر عورت کی دل شکنی کرتے ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی میں بخیلی کا مظاہرہ کرتے ہیں ورنہ اس ازحد تنگ دل معاشرے میں بھی خواتین کی ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے موقع ملنے پر کارہائے نمایاں کر دکھائے۔ مردانہ غلبے اور تعصب کے اس سماج میں عورت کو ماں، بہن ، بیٹی اور بیوی تو تسلیم کر لیا جاتا ہے لیکن اس کے پنپنے کی ساری راہیں مسدود کر دی جاتی ہیں۔ عورت کے صنفِ نازک ہونے کا راگ صدیوں سے اس قدر الاپاگیا ہے کہ اب خود عورت نے بھی جیسے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ وہ کوئی دوسرے درجے کی کم زور مخلوق ہے لیکن ایسی عورت بھی کہیں کہیں نمودار ہو جاتی ہے جو اپنے باطن میں یہ محسوس کر لیتی ہے کہ صورتِ احوال جو بہ ظاہر د کھائی دے رہی ہے، دراصل ویسی نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ اسے محروم رکھا جا رہا ہے۔

شاد بیگم ایک ایسی ہی جرأت مند اور با صلاحیت خاتون کا نام ہے جس نے یوں سمجھیے اپنی جان پر کھیل کر اپنی صنف کے لیے اس کا حق طلب کیا اور نہ صرف طلب کیا بل کہ اس کے لیے ایسی جد و جہد کی کہ غاصبوں کو اس کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہی بنی۔ اس کارنامے پر ان کو ملکی سطح پر سوائے اس کے کوئی پذیرائی نہیں ملی کہ ان کا نام سو نام ور خواتین میںشامل کر لیا گیا البتہ عالمی سطح پر انہیں دنیا کی دس بہادر خواتین کی صف میں شامل کر لیا گیا ہے اور انہیں اس حوالے سے بین الاقوامی ایوارڈ پیش کیا گیا جو انہیں واشنگٹن ڈی سی میںامریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اور امریکا کی خاتون اول مشعل اوباما نے خود پیش کیا۔



لوئر دیر، خیبر پختون خوا کے چوبیس اضلاع میں سے ایک ہے۔ 1996 سے پہلے یہ ضلع دیر ہی کا حصہ تھا۔ 1996میں دیر کو اپر دیر یا دیرِ بالا اور لوئر دیر یا دیرِ پایان میں تقسیم کر دیا گیا۔ ان میں سے ثمر باغ کی نو اور تیمر گرہ کی اٹھائیس یونین کونسلیں ہیں۔ یہاں سے صوبائی اسمبلی میں چار ارکان نمائندگی کرتے ہیں۔ 1998 کی شماریاتی رپورٹ کے مطابق لوئر دیر کی آبادی 797,852 افراد پر مشتمل ہے۔ اسکول میں داخل طلباء و طالبات کی شرح ایک اندازے کے مطابق 79.59% ہے، دیر کے دیہات کی تعداد 1,023 ہے۔ 1980 کی دہائی کے بعد یہاں تعلیم کی شرح میں خوش کن اضافہ ہوا ہے تاہم اسکولوں کا احوال تقریباً ناگفتنی ہے، اکثر اسکول پانی، ٹائلٹس اور باؤنڈری دیواروں سے محروم ہیں۔

دیر خیبر پختون خوا کا انتہائی روایت پرست علاقہ ہے۔ یہاں خواتین کی بیرونِ خانہ سرگرمیوں کو ازحد معیوب سمجھا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی خاتون بیمار بھی ہوجائے تو اسے مرد ڈاکٹر کے پاس بھی نہیں لے جایا جاتا جس کے باعث مہلک امراض میں مبتلا متعدد خواتین کی ایک قابلِ لحاظ تعداد موت کے منہ میں چلی جاتی ہے، دوسرے الفاظ میں یہ انتہائی ''مرد غالب'' (Male Dominated) سماج ہے۔ خواتین کی زیادہ تعلیم کی سخت حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہاں ایک بارطالبان راج بھی قائم رہا ہے جس کے باعث یہاں کے لوگ بڑی تعداد میں بے گھر بھی ہوئے۔ شاد بیگم کا اپنا تعلق بھی جس گھرانے سے ہے، وہ بھی مذہبی ہے اور سیاسی طور پر قومی سطح کی ایک مذہبی جماعت سے وابستہ ہے۔ اب اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے شاد بیگم کے کام کو دیکھا جائے تو ہم اسے بہ جا طور پر ایک بہادر خاتون تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ان نامساعد حالات میں جب شاد بیگم نے اپنی صنفٖ کے لیے انجمنِ بہبودِ خواتین کے نام سے کام کرنے کا ارادہ کیا تو انہیں دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں، ایک موقع پر ان کے مکان پر سنگ باری بھی کی گئی۔ یہ ان کے لیے انتہائی صبر آزما وقت تھا اور آفرین ہے ان کے بھائی شاد خان پر کہ انہوں نے اپنی بہن کا حوصلہ گرنے نہ دیا۔ شاد بیگم نے اپنی انجمن قائم کر ہی لی اور کام کا آغاز کر دیا بعد میں جب علاقے پر طالبان کا تسلط ہوا تو انہیں تنظیم کا دفتر پشاور منتقل کرنا پڑا جہاں اب یہ انجمن اے بی کے ٹی (Association for Behaviour and Knowledge Transformation) کے نام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہر چند اپنے اصل مقام سے دور رہ کر کام کرنے میں سو قباحتیں حائل ہیں تاہم شاد بیگم کا بے پناہ جذبہ کام آ رہا ہے۔

اے کے بی ٹی نے خواتین میں تعلیم کے علاوہ ان میں سیاسی شعور کو بھی بیدار کیا۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کی صحت کے حوالے سے بھی انہوں نے کام کیا، علاقے میں ترقیاتی سرگرمیاں بھی جاری رکھیں اور متعدد معلق پل (Hanging Bridges) بنوائے، پانی کی کمی دور کرنے کے لیے دستی پمپ لگوائے، کنوئیں کھدوائے، گلیاں تعمیر کرائیں اور عورتوں کے لیے چھوٹے قرضوں کی سکیمیں بھی ترتیب دیں تاکہ وہ معاشی حوالے سے بھی اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے انہوں نے اندرون اور بیرونِ ملک سے فنڈز حاصل کرنے کے لیے بہت جد و جہد کی۔ ان کارناموں کی بہ دولت انہیں دنیا کی دس بہادر ترین خواتین میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں انہیں8 مارچ 2012 کو انٹرنیشنل ویمن آف کریج ایوارڈ پیش کیا گیا۔ یہ تقریب واشنگٹن میں منعقد ہوئی اور شاد بیگم کو امریکا کی خاتونِ اوّل مشعل اوباما اور وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایوارڈ دیا۔ اس ایوارڈ کی تشہیر نہیں ہوسکی اس کی وجہ یہ ہے کہ شاد بیگم نے خود ذرائع ابلاغ سے اس کو ہائی لائیٹ نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ سب ست بڑا کریڈٹ شاد بیگم کو یہ جاتا ہے کہ انہوں نے دیر کی خواتین کے لیے سیاست میں داخل ہونے کی راہ ہم وار کی۔ ان سے پہلے یہاں کی خواتین کو ووٹ کے استعمال کا حق بھی نہیں دیا جا رہا تھا۔ انہوں نے نہ صرف یہ حق انہیں دلوایا بل کہ یونین کونسلوں کے انتخابات میں انہیں کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی دیا، ان کی ترغیب پر خواتین اِن انتخابات میں کھڑی بھی ہوئیں اور بہت سی خواتین نے نشستیں بھی حاصل کیں۔

شاد بیگم 20 جنوری1979 کو نور محمدکے ہاں کلپانی تالاش دیر لوئر میں پیدا ہوئیں۔ ان کی دو بہنیں اور پانچ بھائی ہیں جن میں ان کا نمبر دوسرا ہے۔ گورنمنٹ پرائمر ی اسکول زیارت تالاش سے انہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بچپن میں لڑکیوں کے روایتی کھیل میرگاٹی اور گواٹا کھیلیں۔ مطالعے سے زیادہ لگائو تھا اسی لیے چھٹی جماعت ہی میں سیرت النبی ﷺ پڑھنے کی سعادت حاصل کر لی، فاطمہ جناح، صلاح الدین ایوبی اور ناولوں میں آخری چٹان اور چاہِ بابل کا مطالعہ کیا۔ ڈائجسٹ، سنڈے میگزین اور بچوں کے صفحات بھی شوق سے پڑھتی تھیں البتہ شعروشاعری سے کچھ خاص لگائو پیدا نہیں کر پائیں۔




عملی سیاست میں ان کی شمولیت دل چسپ انداز میں ہوئی۔2001 کے بلدیاتی انتخابات کااعلان ہوا تو اس میں حصہ لینے کے لیے انہوں نے دوسری عورتوں کو تیار کرنا شروع کردیا چوں کہ وہ پہلے ہی سے خواتین کے حقوق کے لیے کام کر رہی تھیں سو انہیں اس میں زیادہ دشواری پیش نہیں آئی، 64 خواتین کے کاغذات مختلف نشستوں کے لیے جمع کرا دیے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ دیر میں خواتین کو الیکشن لڑنے اور ووٹ ڈالنے کا حق ملا۔ الیکشن سے قبل تمام سیاسی جماعتوں نے خواتین کے الیکشن میں حصہ لینے کی بھر پور مخالفت کی، ہتک آمیزلب و لہجہ استعمال کیا اور دھمکیوں کے ساتھ یہ طعنہ بھی دیا گیا کہ شاد بیگم دوسری خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں اور خود الیکشن میں حصہ نہیں لے رہیں، اس پر انہوں نے الیکشن میں خود بھی بھر پور حصہ لیا اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے تمام امیدواروں کو شکست دے کر تحصیل کونسلر منتخب ہوگئیں۔

اس دوران مخالفین نے ان کے خلاف زبردست مہم چلائی تاہم سیاسی جماعتوں کی بھر پور مخالفت کے باوجود انہیں الیکشن میں حصہ لینے سے باز نہ رکھا جا سکا۔ ان جماعتوں کی مخالفت کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن شہید متحرمہ بے نظیر بھٹو، جماعت اسلامی کی نعیمہ کشور، اے این پی کی بیگم نسیم ولی خان اور دیگر کو اپروچ کرکے انہوں نے استفسار کیا گیا کہ ان کی جماعتیں دیر میں خواتین کے الیکشن میں حصہ لینے کی مخالفت کیوں کررہی ہیں۔ ان میں سے صرف بے نظیر بھٹو شہید نے اپنی لوکل قیادت کی سرزنش کی، باقی جماعتوں نے اپنے مفادات کی خاطر مخالفت برائے مخالفت کا سلسلہ جاری رکھا۔

ادھر جب انتخابی نتائج سامنے آئے تو دیر کی مردانہ برتری کا زعم خاک میں مل چکا تھا، شاد بیگم بھاری اکثریت سے کام یاب ہو چکی تھیں۔ اب اس کے بعد کا مرحلہ تحصیل اسمبلی میں درپیش ہوا جہاں پانچ سال تک خواتین کو مردوں سے الگ بٹھایاجاتا رہا، ایسی جگہ، جہاں وہ نہ تو اجلاس کی کارروائی سن سکتی تھیں اور نہ دیکھ سکتی تھیں حاؒل آں کہ قانونی طور پر خواتین کا حق بنتا تھا کہ وہ ہائوس کی کارروائی دیکھیں اور سنیں۔ اس پر کئی مرتبہ احتجاج بھی کیاگیا لیکن سنی اَن سنی کر دی گئی لیکن بہ ہر حال تبدیلی یہ رو نما ہوئی کہ جب اگلی بار بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا گیا تودوسری مختلف سیاسی جماعتوں نے بھی خواتین کو میدان میں اتار دیا۔ درویش صفت احمد حسن خان اس علاقے کے ایک روشن خیال سیاست دان ہیں ان دنوں وہ سینیٹر تھے جب ضلع ناظم دیر لوئر بھی منتخب ہو گئے۔ جذبے میں سچائی ہو تو از غیب بھی امداد کے آثار نکل آتے ہیں۔

احمد حسن خان نے خواتین کو ہاؤس میں ان کے جائز اختیارات دلوانے کے لیے آگے بڑھے اور کوشش کر کے انہیں یہ اختیارات دلوا دیے۔ دیر کی تاریخ میں بلدیاتی انتخابات سے قبل کسی خاتون نے ووٹ پول نہیں کیا تھا اور نہ الیکشن میں حصہ لیا تھا، شاد بیگم کی جرأت کی بہ دولت دیر کی تاریخ میں بہت بڑی اور انقلابی تبدیلی آئی۔ شاد بیگم بلدیاتی نظام کوخواتین کے لیے اچھا نظام قرار دیتی ہیں لیکن معاشرے میں خواتین کو نظرانداز اور محروم رکھنے کی روش سے سخت شاکی بھی ہیں، بہ قول ان کے، بہت سے لوگ نہیں چاہتے کہ خواتین سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی شعبوں میں آگے آئیں۔

ان سے موسموں کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے سردی کا موسم بہت بھاتا ہے، صفائی پسند ہونے کی عادت گھر والوں کو پسند ہے، سلیقہ مند ہوں جب گھر میں صفائی نہ ہو تو پھر میری ترش مزاجی کی عادت سے گھر والے سخت نالاں ہو جاتے ہیں۔ شاد بیگم متعدد ایوارڈ حاصل کرچکی ہیں۔1994 میں فوڈ اینڈ کلچر ایوارڈ، 2006 میں صوبائی حکومت کی جانب سے بہترین سماجی کارکن کا ایوارڈ،2008 میں عالمی دن کی مناسبت سے خواتین کا ایوارڈ جنیوا ورلڈ ویمن سمٹ فائونڈیشن کی طرف سے ایوارڈ اور 8 مارچ 2012 کو شاد بیگم نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ یونائٹیڈ اسٹیٹس آف امریکا میںانٹرنیشنل ویمن آف کریج ایوارڈ امریکا کی خاتون اول مشعل اوباما اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے وصول کیا۔ فوڈ اینڈ کلچر ایوارڈ مسلم لیگ نون کے سربراہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے وصول کیا۔

متوسط طبقے سے ان کا تعلق ہے۔ بچپن بہت خوش گوار گزارا۔ ان کے سب سے اچھے دوست ان کے بڑے بھائی ہیں۔ بیڈ منٹن کی بہترین کھلاڑی رہ چکی ہیں۔ اپنے کزنز کے ساتھ مالٹوں کے باغ سے مالٹے بھی توڑکر لایاکرتی تھیں، والدہ ہائی اسکول میں پڑھاتی تھیں جب کہ والد سماجی ورکرتھے۔ شاد بیگم نے میٹرک گورنمنٹ گرلزہائی اسکول زیارت تالاش سے فرسٹ ڈویژن میں، ایف اے سوات بورڈ سے، بی اے، ایم اے ملاکنڈ یونی ورسٹی اور ایم بی اے (ایچ آر) پریسٹن یونی ورسٹی پشاور سے امتیازی نمبروں میں پاس کیا۔ پہلی فلم انمول دیکھی، ملکہ الزبتھ کے سیاسی کیریئر پر بننے والی فلم آئرن لیڈی انہیں بہت پسند ہے، ان کی خواہش ہے کہ بے نظیر بھٹو شہید کی زندگی پر بھی فلم بنائی جائے۔ عارفہ صدیقی اور ثمینہ پیرزادہ ان کی فیورٹ ٹی وی اداکارائیں ہیں۔ موسیقی سے لگائو ہے، پشتو گلوکار ہمایوں خان اور غزالہ جاوید کی آوازیں انہیں پسند ہیں۔ شادبیگم سیاحت کی بھی دل دادہ ہیں، بھارت، افغانستان، ہانگ کانگ، دبئی، بنگلہ دیش، نیپال اور امریکا کی سیر کرچکی ہیں۔ اپنے وطن سے عشق کی حد تک لگائو ہے۔ طلوع آفتاب کا منظر بہت اچھا لگتا ہے۔

1996 میں ارینجڈ میرج کی، ازدواجی زندگی ازحد مطمئن گزر رہی ہے۔ شادی سادگی سے ہوئی تھی، اب ان کے دو بیٹے ہیں جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ خوراک میں سبزیاں پسند ہیں، فارغ اوقات میں مطالعہ کرتی ہیں، سیاسی شخصیات میں ہیلری کلنٹن اور بے نظیر بھٹو شہید ان کی پسندیدہ شخصیات ہیں، ڈرامہ نگار بانو قدسیہ ان کی پسندیدہ ادیبہ ہیں۔ چوں کہ طبعِ مشکل پسند رکھتی ہیں لہٰذا پشتو میں غنی خان اور اردو میں مرزا غالب کی شاعری ہی انہیں متاثر کر پاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے ''عشق ایک انمول جذبہ ہے اور جس نے عشق نہیں کیا اس نے کچھ نہیں کیا، دنیا میں جوبندہ اپنے کام کے ساتھ عشق کرتا ہے تو وہ کبھی ناکام نہیں ہوتا بل کہ بغیرِ عشق کچھ بھی حاصل کرنا ممکن نہیں''۔ نوجوانوں کے نام اپنے پیغام میں ان کا کہنا ہے ''نوجوان نسل کو ہر کام مستقل مزاجی سے کرنا چاہیے''۔

وہ کہتی ہیں ''میرا تعلق جس علاقے سے ہے وہاں مجھے کوئی راستہ دکھائی بھی نہیں دے رہا تھا اور دکھانے والا بھی کوئی نہیں تھا، ہر طرف اندھیرا تھا مگر جب مستقل مزاجی اور جہد مسلسل سے کا م کیا تو ہر راستے خود بہ خود بنتے چلے گئے۔ تمام مسائل مستقل مزاجی اور عزم وجہد کی بہ دولت حل ہوتے ہیں''۔ ملکی حالات سے شادبیگم مطمئن نہیں لیکن مستقبل کے حوالے سے پرامید ضرور ہیں، بہ قول ان کے ''پاکستانی قوم میں برے حالات پر قابو پانے کی صلاحیت بہ درجۂِ اتم موجود ہے اور انشاء اللہ ہم ملک کو درست سمت پر گام زن کرلیں گے''۔ وہ پاکستان کے مستحکم اور درخشندہ مستقبل کی تمنائی ہیں۔ بلدیاتی الیکشن میں جیت اور واشنگٹن ڈی سی میں اٹھارہ کروڑ عوام کی نمائندگی کا ایوارڈوصول کرنے کووہ زندگی کا یادگار لمحہ قراردیتی ہیں ، ان کا کہنا ہے ''جب تک کوئی قوم عورتوں کی صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کرتی وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائنس سے کلچر کو کسی قسم کا خطرہ نہیں، بس دورِ جدید کے بدلتے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر اسے مثبت انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کاکمال یہ ہے کہ چند لمحوںمیںآپ دنیا کے حالات و واقعات سے باخبر ہو سکتے ہیں تاہم ایک بات طے ہے کہ اس سے کتابیں پڑھنے، لکھنے اور خریدنے پر بہت زیادہ منفی اثر پڑا ہے''۔

''تعلیم کی کمی، عدم برداشت اور مخلص لیڈر شپ کا فقدان ہماری پس ماندگی کی اصل وجوہات ہیں۔ آبادی میں اضافہ اور وسائل میں کمی کے علاوہ قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال بھی پس ماندگی کی وجہ ہے''۔ ان کا کہنا ہے '' بچپن میں مختلف سوانح حیات پڑھنے کی وجہ سے لیڈر بننے کا شوق چرایا تھا']۔ اپنی تمنا کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں ''کچھ ایسا کام کرجاؤں کہ لوگ یاد رکھیں''۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا ''ایسوسی ایشن فار بی ہیویئر اینڈ نالج ٹرانسفرمیشن (اے بی کے ٹی) کی میں پہلے ممبر تھی، پھر جنرل سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئی اور اب اس کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہوں۔ قومی اور بین الاقوامی نیٹ ورک اور فورمز پر بہ حیثیت کوارڈی نیٹر بھی کام کیا''۔ شاد بیگم نے بتایا کہ ان کے عزم اور اعتماد کے پیچھے ان کے شوہر اوروالد کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ وہ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہونے کے سبب 38 ارکان کی ٹیم کو لیڈ کررہی ہیں اس کے علاوہ بھی مختلف منصو بوں پر کام کر رہی ہیں۔ ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹ گرام ، کوہستان، مردان، چارسدہ ، ہزارہ ڈویژن اور خصوصاً ملاکنڈ میں خواتین کے حقوق کے نام پر مختلف منصوبوں پر کام کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا '' موجودہ بحرانوں سے نکلنے کا واحد راستہ میرے نزدیک خاندانی اور موروثی سیاست کا خاتمہ ہے، ضروری ہے کہ لوگ پارٹی لیڈر شپ کو نہیں بل کہ امیدوار کو دیکھ، جانچ کر ووٹ دیں، گروہ بندیوں کے بہ جائے ایسے سیاسی ادارے تشکیل دیے جائیں جن سے صالح لیڈرشپ سامنے آئے، موجودہ مسائل کو مدِنظر رکھتے ہوئے سیاسی پارٹیاں اپنے منشور پر نظر ثانی کریں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی ایک خوش حال، مستحکم اور مضبوط ملک بن جائے گا، میری دعا ہے کہ پاکستان دن دو گنی اور رات چو گنی ترقی کرے۔

 
Load Next Story