لال مسجد آپریشن کی تحقیقات

لال مسجد آپریشن کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے حوالے سے لرزہ خیز خبریں بھی میڈیا میں آئیں ۔

لال مسجد کے سانحے کو ملکی سیاست میں ایک اندوہ ناک واقعے کے طور پر میڈیا نے تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے، فوٹو:فائل

سپریم کورٹ نے لال مسجد آپریشن کی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کر دیا،وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس شہزاد الشیخ پر مشتمل یک رکنی کمیشن 45دن میں انکوائری مکمل کرکے رپورٹ دے گا۔جوڈیشل کمیشن 2جولائی2007کو شروع ہونے والے آپریشن کی وجوہات ،جاں بحق ہونے والوںکی تعداد،ان میں کتنے مرد،خواتین، نابالغ، سویلین اور سیکیورٹی کے لوگ شامل تھے معلوم کرے گا ۔


لال مسجد کے سانحے کو ملکی سیاست میں ایک اندوہ ناک واقعے کے طور پر میڈیا نے تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے ۔اب جب کہ عدالت عظمیٰ نے اس آپریشن کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے اس لیے یہ تقاضائے وقت ہے کہ اس حساس اور دردانگیز موضوع پر اظہار خیال اور تبصروں کا طوفان اٹھانے سے گریز کیا جائے، اس سانحے کے انسانی پہلو کے حوالے سے سپریم کورٹ ہی حقیقی صورتحال اور اس کے مختلف آئینی قانونی، سیاسی اور عسکری پہلوئوں پر اپنا فیصلہ دے گی اور اس کے اثرات و مضمرات کا احاطہ کرے گی اس لیے اس ضمن میں پیشگی کسی قسم کی تجزیہ کاری ، تبصرے و رائے زنی مناسب نہیں ۔

عدالت عظمٰی نے جوڈیشل کمیشن کو یہ بھی مینڈیٹ دیا ہے کہ اس بات کا پتہ چلایا جائے کہ کیا تمام جاں بحق افرادکی شناخت ہوئی اور انتظامیہ نے ورثاء سے رابطہ کیا اورکیا ورثاء کو معاوضہ بھی دیا گیا یا نہیں ۔جنرل پرویز مشرف کے عہد اقتدار میں ہونے والے اس آپریشن کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے حوالہ سے لرزہ خیز خبریں بھی میڈیا میں آئیں تاہم یہ استدلال سامنے آیا ہے کہ عدالت کے سامنے الزام در الزام اور مختلف النوع بیانات اور ذاتی تجزیوں کے علاوہ کوئی ٹھوس حقائق نہیں لائے گئے اس لیے اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام ناگزیر قرار دیا گیا تاکہ حقیقت سامنے لائی جاسکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔
Load Next Story