وزیر اعظم کے احکام نظر انداز پی ٹی اے نے فرنچائز سے سمز کی فروخت روکنے کا نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا
وزیراعظم نے29نومبرکو فرنچائزومجاز ڈیلرزکےذریعے کنکشنزکی فروخت اورموبائل نمبرپورٹیبلیٹی سہولت جاری رکھنےکےاحکام دیے تھے
789 سروس یکم دسمبر سے بند، موبائل فون کمپنیوں کے ساتھ ہزاروں فرنچائز، مجاز ڈیلرز شش وپنج میں مبتلا، پی ٹی اے ٹیلی کام ڈیٹا بھی بروقت جاری کرنے میں ناکام۔ فوٹو: فائل
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے ایک ہفتہ گزرجانے کے باوجود وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کے احکامات کی روشنی میں موبائل کمپنیوں کے لیے فرنچائز اور مجاز ڈیلرز کے ذریعے نئے کنکشنز کی فروخت جاری رکھنے اور موبائل نمبر پورٹیبلیٹی(ایم این پی) کی سہولت جاری رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔
وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے 29نومبر کو موبائل کمپنیوں کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے 13نومبر کے احکامات مسترد کرتے ہوئے فرنچائز اور مجاز ڈیلرز کے ذریعے نئے کنکشنز کی فروخت بحال کرنے ایم این پی کی سہولت جاری رکھنے کے احکامات دیے تھے تاہم ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے فرنچائز، مجاز ڈیلرز اور ریٹیلرز کے ذریعے سموں کی فروخت بند کرنے اور نئے کنکشنز کوریئر سروس کے ذریعے شناختی کارڈ پر درج پتے پر ارسال کرنے کے احکامات تاحال واپس نہیں لیے جس سے موبائل فون کمپنیوں کے ساتھ ہزاروں فرنچائز، مجاز ڈیلرز شش وپنج میں مبتلا ہیں، دوسری جانب موبائل فون پورٹیبلیٹی (ایم این پی) کی سہولت 789بھی یکم دسمبر سے بند پڑی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ٹیلی کام انڈسٹری کے اعدادوشمار بھی بروقت جاری کرنے میں ناکام ہے اور مئی 2012 کے بعد 4ماہ کے وقفے کے بعد 4دسمبر کو ٹیلی کام انڈسٹری کے اعدادوشمار جاری کیے گئے ہیں، موبائل کمپنیوں کے مطابق تمام کمپنیاں اپنے اعدادوشمار ہرماہ کے پہلے 5 سے 8روز میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کو ارسال کردیتی ہیں اور ماہانہ بنیادوں پر ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا جاسکتا ہے تاہم پی ٹی اے نامعلوم وجوہ کی بنا پر اعداد و شمار کے اجرا میں بھی تاخیر کررہی ہے۔
وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے 29نومبر کو موبائل کمپنیوں کے اعلیٰ سطح کے وفد سے ملاقات میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے 13نومبر کے احکامات مسترد کرتے ہوئے فرنچائز اور مجاز ڈیلرز کے ذریعے نئے کنکشنز کی فروخت بحال کرنے ایم این پی کی سہولت جاری رکھنے کے احکامات دیے تھے تاہم ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے فرنچائز، مجاز ڈیلرز اور ریٹیلرز کے ذریعے سموں کی فروخت بند کرنے اور نئے کنکشنز کوریئر سروس کے ذریعے شناختی کارڈ پر درج پتے پر ارسال کرنے کے احکامات تاحال واپس نہیں لیے جس سے موبائل فون کمپنیوں کے ساتھ ہزاروں فرنچائز، مجاز ڈیلرز شش وپنج میں مبتلا ہیں، دوسری جانب موبائل فون پورٹیبلیٹی (ایم این پی) کی سہولت 789بھی یکم دسمبر سے بند پڑی ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ٹیلی کام انڈسٹری کے اعدادوشمار بھی بروقت جاری کرنے میں ناکام ہے اور مئی 2012 کے بعد 4ماہ کے وقفے کے بعد 4دسمبر کو ٹیلی کام انڈسٹری کے اعدادوشمار جاری کیے گئے ہیں، موبائل کمپنیوں کے مطابق تمام کمپنیاں اپنے اعدادوشمار ہرماہ کے پہلے 5 سے 8روز میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کو ارسال کردیتی ہیں اور ماہانہ بنیادوں پر ڈیٹا اپ ڈیٹ کیا جاسکتا ہے تاہم پی ٹی اے نامعلوم وجوہ کی بنا پر اعداد و شمار کے اجرا میں بھی تاخیر کررہی ہے۔