فاٹا اصلاحات کے لیے اہم سفارشات تیار

قبائلی علاقہ فاٹا میں اصلاحات کے لیے چار مختلف آپشنز کی سفارشات کی گئی ہیں

قبائلی علاقہ فاٹا میں اصلاحات کے لیے چار مختلف آپشنز کی سفارشات کی گئی ہیں، فوٹو؛ پی آئی ڈی

قبائلی علاقہ فاٹا میں اصلاحات کے لیے چار مختلف آپشنز کی سفارشات کی گئی ہیں جسے وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں پانچ رکنی فاٹا اصلاحات کمیٹی نے وفاق کے زیر انتظام فاٹا کے ارکان پارلیمان، قبائلی عمائدین اور تمام فریقین کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد زیر غور لایا گیا ہے۔ بلاشبہ علاقہ میں قیام امن کے بعد اصلاحات کا عمل لازم ہے لیکن اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ فاٹا اصلاحات کے لیے مرحلہ وار اپروچ اختیار کی جائے تاکہ نقل مکانی کرنے والے افراد اپنے گھروں کو لوٹ سکیں اور علاقہ میں جنگ کی صورتحال کے بعد پائیدار امن کو یقینی بنایا جاسکے۔


چار مختلف آپشنز میں سے پہلا آپشن موجودہ صورتحال کو برقرار رکھتے ہوئے عدالتی اور انتظامی اصلاحات متعارف کرانے سے متعلق ہے جب کہ دوسرے آپشن گلگت بلتستان کونسل کی طرز پر فاٹا کونسل کی تجویز کو زیادہ حمایت حاصل نہیں، نیز تیسرے آپشن یعنی فاٹا کو الگ صوبے کی حیثیت دینا بھی مخصوص وجوہات کی بنا پر قابل عمل دکھائی نہیں دیتا۔ فاٹا کا جغرافیائی محل وقوع، ایجنسیوں کے درمیان کمزور مواصلاتی رابطوں اور محدود مالی وسائل کے باعث علیحدہ صوبہ بنانے کے حوالہ سے بھی حمایت موجود نہیں۔ جب کہ چوتھے آپشن یعنی فاٹا کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کے حوالہ سے وسیع تر حمایت سامنے آئی کیونکہ اس تجویز پر عمل سے بہت سے فائدے ہوسکتے ہیں اور یہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے حوالہ سے واحد معقول انتخاب ہے۔

فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے عوامی امنگوں کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے، نیز علاقہ میں امن کے بعد قبائلی عوام کی بحالی، جنگی بنیادوں پر قبائلی علاقوں کی تعمیرنو اور روزمرہ سرگرمیوں کی بحالی سب سے زیادہ قابل ترجیح ہونی چاہیے۔ نقل مکانی اور تعمیرنو کے مختلف مراحل کے لیے بہت زیادہ مالی وسائل اور سیفران، فاٹا سیکریٹریٹ، آرمی فارمیشنز اور ایف ڈبلیو او/ این ایل سی سمیت تمام وفاقی اداروں کے مابین روابط کی ضرورت ہے۔ سفارشات پر موثر اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک بہتر میکنزم بنایا جائے اور اس کے لیے کابینہ سطح کی کمیٹی قائم کرنے کے ساتھ اصلاحات کے ہر حصہ کے لیے مخصوص یونٹس اور اصلاحات و ٹرانزیشن کا خصوصی ڈائریکٹوریٹ ہونا چاہیے۔
Load Next Story