ذوالحجّہ کے فضائل احکام اور اعمال
اس مہینے کی کچھ عبادات ایسی ہیں جو سال کے کسی اور مہینے میں نہیں کی جاسکتیں
اس مہینے کی کچھ عبادات ایسی ہیں جو سال کے کسی اور مہینے میں نہیں کی جاسکتیں۔ فوٹو: فائل
ذوالحجہ اسلامی اور قمری سال کا آخری مہینہ ہے۔ اس کی حرمت روز اوّل سے مسلم ہے۔ حرمت کے چار مہینوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ یہ مہینہ بابرکت، مبارک اور اس کی فضیلت قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اس مہینے کی کچھ عبادات ایسی ہیں جو سال کے کسی مہینے اور دن میں نہیں کی جاسکتیں، جیسے حج اور قربانی۔
٭ ذوالحجہ کے پہلے دس ایام
ذوالحجہ کے پہلے دس ایام کی فضیلت قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں ذکر ہے۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ان ایام کی قسم اٹھا کر فرماتا ہے '' فجر کی قسم اور دس راتوں کی قسم۔'' (سورہ الفجر)
صاحب جلالین فرماتے ہیں کہ دس راتوں سے ذو الحجہ کی دس راتیں مراد ہیں۔ امام قرطبی رقم طراز ہیں، ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ ذو الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ اکثر مفسرین نے ''ولیال عشرہ'' سے ذو الحجہ کی دس راتیں ہی مراد لی ہیں۔
اﷲ تعالی کاٰ قرآن مجید میں کسی چیز کا قسم کھانا اپنی کسی بات کی توثیق کے لیے نہیں ہوتا، بل کہ جس چیز کی قسم اﷲ تعالیٰ اٹھاتا ہے تو اس سے مقصود اس کی جلالت شان اور عظمت کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر بھی ذوالحجہ کی پہلی دس راتوں کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کرنا مقصود ہے۔
حضور اکرم ﷺ ان ایام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں '' ان ایام کی عبادت جہاد سے بڑھ کر ہے۔'' (بخاری)
صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے بارہا دریافت فرمانے پر یہی جواب دیا۔
ایک موقع پر فرمایا '' ان ایام کی راتوں کا ثواب لیلۃ القدر کی رات کے برابر ہے۔''
ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا
'' ان ایام کا ایک روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے'' (ترمذی )
اتنے فضائل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان ایام میں ہر عبادت کا خوب اہتمام کیا جائے۔ فرائض اور سنن کے ساتھ نفلی عبادات بھی کی جائیں۔ ان ایام کے دن اور رات عبادت میں گزریں۔ احکام خداوندی اور ارشادات نبویؐ کی کامل اطاعت اور گناہوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
٭ نو ذوالحجہ کا روزہ
نو ذوالحجہ یوم عرفہ کا دن ہے۔ اس روز حجاج کرام حج کا عظیم الشان رکن وقوف عرفہ ادا کرتے ہیں۔ آپؐ نے ایسے موقع پر بھی ان لوگوں کو یاد رکھا، جو حج کی استطاعت نہیں رکھتے اور ان کی دل جوئی کے لیے نو ذی الحجہ کا روزہ رکھ کر فرمایا '' میں اس دن اس امید سے روزہ رکھتا ہوں کہ اس سے گزشتہ سال اور آنے والے سال کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں'' (ابن ماجہ)
٭ تکبیرات تشریق
تکبیرات تشریق نو ذو الحجہ یوم عرفہ کی فجر سے لے کر تیرہ ذو الحجہ کی عصر تک جاری رہتی ہیں۔ ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ پڑھنا ہر مرد و عورت پر واجب ہے۔ مرد بلند آواز سے اور عورتیں پست آواز میں پڑھیں گی۔ اس کا پڑھنا کسی کے لیے بھی معاف نہیں ہے چاہیے مسافر ہو یا مریض۔ تکبیرات تشریق کے بارے میں بہت غفلت برتی جاتی ہے۔ تکبیرات تشریق اسلام کی شان و شوکت کی نشانی ہے۔ اسی طرح عیدالاضحی کی نماز کے لیے جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیرات پڑنی چاہییں۔
٭ حج
حج ِ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا '' جو لوگ بیت اﷲ کی طرف جانے کی استطاعت رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ بیت اﷲ کا حج کریں۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں آپؐ نے ایک دن خطبے میں فرمایا، اے لوگوں! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، لہذا اس کو ادا کرنے کی فکر کرو۔ (مسلم)
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ آپؐ سے پوچھا گیا کہ کیا چیز حج کو واجب کرتی ہے تو آپؐ نے فرمایا، سامان اور سواری (ترمذی)
جس مسلمان، عاقل، بالغ، صحت مند غیرمعذور کے پاس اس کی اصل اور بنیاد ی ضروریات سے زاید اور فاضل مال اتنا ہو کہ جس سے وہ بیت اﷲ تک آنے جانے اور وہاں کے قیام و طعام کا خرچ برداشت کرسکے اور اپنی واپسی تک ان اہل و عیال کے خرچ کا انتطام بھی کرسکے جن کا نان نفقہ اس کے ذمے واجب ہے اور راستہ بھی مامون ہو تو ایسے ہر مسلمان پر حج فرض ہے۔
عورت کے لیے چوں کہ بغیر محرم کے سفر کرنا شرعا جائز نہیں اس لیے وہ حج پر اس وقت قادر سمجھی جائے گی جب اس کے ساتھ کوئی محرم حج کرنے والا ہو، خواہ محرم اپنے خرچ سے حج کر رہا ہو یا عورت اس کا سفر خرچ برداشت کرے۔
حضور پاکؐ نے حج کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا '' حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں'' (مشکوۃ)
ایک دوسری حدیث میں ہے'' جو شخص حج کرے اور اس میں بے حیائی اور فسق و فجور نہ کرے تو وہ حج کرکے اس طرح گناہوں سے پاک لوٹے گا گویا آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے'' (الترغیب و الترہیب)
صحابہ کرام ؓ نے آپؐ سے پوچھا کون سا عمل افضل ہے ؟ آپؐ نے جواب دیا'' اﷲ پر ایمان لانا اور جہاد اور پھر حج مقبول جو بقیہ سارے اعمال پر اتنے درجے فضیلت رکھتا ہے جو سورج کے طلوع و غروب کے درمیان ہے ''(طبرانی، احمد، الترغیب)
حضور اکرم ﷺ نے صرف فضائل بیان کرکے اپنی امت کو اس عمل کی طرف راغب نہیں کیا بل کہ عمل کرکے بتایا۔
بہت سے لوگ اپنے اوپر عجیب و غریب شرائط عاید کرکے اور بہانے بناکر حج سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو حضور اکرمؐ کے ان فرامین کو سامنے رکھنا چاہیے۔ آپؐ نے جان بوجھ کر حج ترک کرنے والے پر وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا، جس شخص کے پاس ضروری سامان اور سواری ہو جو اسے بیت اﷲ تک پہنچا دے مگر اس کے باوجود وہ حج کو نہ جائے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہوکر۔ (ترمذی)
اﷲ تعالیٰ نے حج کو امت مسلمہ پر فرض کرکے انہیں اخوت و محبت، اجتماعیت اور اتحاد کا درس دیا ہے۔ اور بیت اﷲ کو مرکز عالم بنا دیا کہ اطراف عالم سے لوگ بلاامتیاز اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، نہ رنگ و نسل کی قید، نہ قوم و قبیلے کی پابندی اور نہ ہی کسی زبان و لہجے کی شرط۔ حج کا موسم آتے ہی مکہ میں مسلمانوںکا ایک جم غفیر ہوتا ہے ، مختلف رنگ و زبان اور مختلف النسل کے لوگ ایک ہی لباس میں ایک کام کرتے ہوئے اور یک زبان ہو کر ایک ہی صدا لگاتے ہیں۔ لبیک اللھم لبیک۔
٭ قربانی
ذوالحجہ کے احکام میں سے ایک حکم قربانی کا ہے۔ قربانی کے ایام دس گیارہ اور بارہ ہیں۔ جو شخٰص نصاب متعین کا مالک ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ جس شخص کا قربانی کا ارادہ ہو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ ذوالحجہ کے دس دن ناخن اور بال نہ کاٹے۔
حضورؐ سے جب سوال کیا گیا کہ قربانی کی حقیقت اور تاریخ کیا ہے تو آپؐ نے جواب دیا، یہ تمہارے روحانی و نسلی مورث حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے۔ صحابہؓ نے کہا اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے تو آپؐ نے فرمایا، قربانی کے ہر جانور کے بال کے عوض ایک نیکی '' (مسند احمد، سنن ابن ماجہ)
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ نے فرمایا '' یوم النحر (دس ذوالحجہ) میں ابن آدم کا کوئی عمل اﷲ کے نزدیک خون بہانے (قربانی) سے زیادہ پیارا نہیں ہے اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبولیت کو پہنچ جاتا ہے۔ لہذا اسے خوش دلی سے کرو'' (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ )
حضور اکرمؐ نے قربانی کی فضیلت و حکم بیان کرنے کے ساتھ اس پر عمل بھی کرکے دکھایا اور مدینہ کے دس سال کے عرصے میں ہر سال قربانی کی۔ (مشکوۃ)
حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ آپؐ دو مینڈھے قربان کرتے تھے۔
اﷲ کے نبیؐ نے قربانی نہ کرنے والے کے بارے میں وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا، جس میں وسعت ہو اور اس کے باوجود وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ (ابن ماجہ )
٭ ذوالحجہ کے پہلے دس ایام
ذوالحجہ کے پہلے دس ایام کی فضیلت قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں ذکر ہے۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں ان ایام کی قسم اٹھا کر فرماتا ہے '' فجر کی قسم اور دس راتوں کی قسم۔'' (سورہ الفجر)
صاحب جلالین فرماتے ہیں کہ دس راتوں سے ذو الحجہ کی دس راتیں مراد ہیں۔ امام قرطبی رقم طراز ہیں، ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ ذو الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ اکثر مفسرین نے ''ولیال عشرہ'' سے ذو الحجہ کی دس راتیں ہی مراد لی ہیں۔
اﷲ تعالی کاٰ قرآن مجید میں کسی چیز کا قسم کھانا اپنی کسی بات کی توثیق کے لیے نہیں ہوتا، بل کہ جس چیز کی قسم اﷲ تعالیٰ اٹھاتا ہے تو اس سے مقصود اس کی جلالت شان اور عظمت کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر بھی ذوالحجہ کی پہلی دس راتوں کی اہمیت اور فضیلت کو اجاگر کرنا مقصود ہے۔
حضور اکرم ﷺ ان ایام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں '' ان ایام کی عبادت جہاد سے بڑھ کر ہے۔'' (بخاری)
صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کے بارہا دریافت فرمانے پر یہی جواب دیا۔
ایک موقع پر فرمایا '' ان ایام کی راتوں کا ثواب لیلۃ القدر کی رات کے برابر ہے۔''
ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا
'' ان ایام کا ایک روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے'' (ترمذی )
اتنے فضائل بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان ایام میں ہر عبادت کا خوب اہتمام کیا جائے۔ فرائض اور سنن کے ساتھ نفلی عبادات بھی کی جائیں۔ ان ایام کے دن اور رات عبادت میں گزریں۔ احکام خداوندی اور ارشادات نبویؐ کی کامل اطاعت اور گناہوں سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
٭ نو ذوالحجہ کا روزہ
نو ذوالحجہ یوم عرفہ کا دن ہے۔ اس روز حجاج کرام حج کا عظیم الشان رکن وقوف عرفہ ادا کرتے ہیں۔ آپؐ نے ایسے موقع پر بھی ان لوگوں کو یاد رکھا، جو حج کی استطاعت نہیں رکھتے اور ان کی دل جوئی کے لیے نو ذی الحجہ کا روزہ رکھ کر فرمایا '' میں اس دن اس امید سے روزہ رکھتا ہوں کہ اس سے گزشتہ سال اور آنے والے سال کے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں'' (ابن ماجہ)
٭ تکبیرات تشریق
تکبیرات تشریق نو ذو الحجہ یوم عرفہ کی فجر سے لے کر تیرہ ذو الحجہ کی عصر تک جاری رہتی ہیں۔ ہر فرض نماز کے بعد ایک مرتبہ پڑھنا ہر مرد و عورت پر واجب ہے۔ مرد بلند آواز سے اور عورتیں پست آواز میں پڑھیں گی۔ اس کا پڑھنا کسی کے لیے بھی معاف نہیں ہے چاہیے مسافر ہو یا مریض۔ تکبیرات تشریق کے بارے میں بہت غفلت برتی جاتی ہے۔ تکبیرات تشریق اسلام کی شان و شوکت کی نشانی ہے۔ اسی طرح عیدالاضحی کی نماز کے لیے جاتے ہوئے بلند آواز سے تکبیرات پڑنی چاہییں۔
٭ حج
حج ِ اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا '' جو لوگ بیت اﷲ کی طرف جانے کی استطاعت رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ بیت اﷲ کا حج کریں۔ حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں آپؐ نے ایک دن خطبے میں فرمایا، اے لوگوں! تم پر حج فرض کردیا گیا ہے، لہذا اس کو ادا کرنے کی فکر کرو۔ (مسلم)
حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ آپؐ سے پوچھا گیا کہ کیا چیز حج کو واجب کرتی ہے تو آپؐ نے فرمایا، سامان اور سواری (ترمذی)
جس مسلمان، عاقل، بالغ، صحت مند غیرمعذور کے پاس اس کی اصل اور بنیاد ی ضروریات سے زاید اور فاضل مال اتنا ہو کہ جس سے وہ بیت اﷲ تک آنے جانے اور وہاں کے قیام و طعام کا خرچ برداشت کرسکے اور اپنی واپسی تک ان اہل و عیال کے خرچ کا انتطام بھی کرسکے جن کا نان نفقہ اس کے ذمے واجب ہے اور راستہ بھی مامون ہو تو ایسے ہر مسلمان پر حج فرض ہے۔
عورت کے لیے چوں کہ بغیر محرم کے سفر کرنا شرعا جائز نہیں اس لیے وہ حج پر اس وقت قادر سمجھی جائے گی جب اس کے ساتھ کوئی محرم حج کرنے والا ہو، خواہ محرم اپنے خرچ سے حج کر رہا ہو یا عورت اس کا سفر خرچ برداشت کرے۔
حضور پاکؐ نے حج کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا '' حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں'' (مشکوۃ)
ایک دوسری حدیث میں ہے'' جو شخص حج کرے اور اس میں بے حیائی اور فسق و فجور نہ کرے تو وہ حج کرکے اس طرح گناہوں سے پاک لوٹے گا گویا آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے'' (الترغیب و الترہیب)
صحابہ کرام ؓ نے آپؐ سے پوچھا کون سا عمل افضل ہے ؟ آپؐ نے جواب دیا'' اﷲ پر ایمان لانا اور جہاد اور پھر حج مقبول جو بقیہ سارے اعمال پر اتنے درجے فضیلت رکھتا ہے جو سورج کے طلوع و غروب کے درمیان ہے ''(طبرانی، احمد، الترغیب)
حضور اکرم ﷺ نے صرف فضائل بیان کرکے اپنی امت کو اس عمل کی طرف راغب نہیں کیا بل کہ عمل کرکے بتایا۔
بہت سے لوگ اپنے اوپر عجیب و غریب شرائط عاید کرکے اور بہانے بناکر حج سے راہ فرار اختیار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو حضور اکرمؐ کے ان فرامین کو سامنے رکھنا چاہیے۔ آپؐ نے جان بوجھ کر حج ترک کرنے والے پر وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا، جس شخص کے پاس ضروری سامان اور سواری ہو جو اسے بیت اﷲ تک پہنچا دے مگر اس کے باوجود وہ حج کو نہ جائے تو کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہوکر۔ (ترمذی)
اﷲ تعالیٰ نے حج کو امت مسلمہ پر فرض کرکے انہیں اخوت و محبت، اجتماعیت اور اتحاد کا درس دیا ہے۔ اور بیت اﷲ کو مرکز عالم بنا دیا کہ اطراف عالم سے لوگ بلاامتیاز اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں، نہ رنگ و نسل کی قید، نہ قوم و قبیلے کی پابندی اور نہ ہی کسی زبان و لہجے کی شرط۔ حج کا موسم آتے ہی مکہ میں مسلمانوںکا ایک جم غفیر ہوتا ہے ، مختلف رنگ و زبان اور مختلف النسل کے لوگ ایک ہی لباس میں ایک کام کرتے ہوئے اور یک زبان ہو کر ایک ہی صدا لگاتے ہیں۔ لبیک اللھم لبیک۔
٭ قربانی
ذوالحجہ کے احکام میں سے ایک حکم قربانی کا ہے۔ قربانی کے ایام دس گیارہ اور بارہ ہیں۔ جو شخٰص نصاب متعین کا مالک ہو اس پر قربانی واجب ہے۔ جس شخص کا قربانی کا ارادہ ہو اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ ذوالحجہ کے دس دن ناخن اور بال نہ کاٹے۔
حضورؐ سے جب سوال کیا گیا کہ قربانی کی حقیقت اور تاریخ کیا ہے تو آپؐ نے جواب دیا، یہ تمہارے روحانی و نسلی مورث حضرت ابراہیمؑ کی سنت ہے۔ صحابہؓ نے کہا اس میں ہمارے لیے کیا اجر ہے تو آپؐ نے فرمایا، قربانی کے ہر جانور کے بال کے عوض ایک نیکی '' (مسند احمد، سنن ابن ماجہ)
حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ نے فرمایا '' یوم النحر (دس ذوالحجہ) میں ابن آدم کا کوئی عمل اﷲ کے نزدیک خون بہانے (قربانی) سے زیادہ پیارا نہیں ہے اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبولیت کو پہنچ جاتا ہے۔ لہذا اسے خوش دلی سے کرو'' (ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ )
حضور اکرمؐ نے قربانی کی فضیلت و حکم بیان کرنے کے ساتھ اس پر عمل بھی کرکے دکھایا اور مدینہ کے دس سال کے عرصے میں ہر سال قربانی کی۔ (مشکوۃ)
حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ آپؐ دو مینڈھے قربان کرتے تھے۔
اﷲ کے نبیؐ نے قربانی نہ کرنے والے کے بارے میں وعید بیان کرتے ہوئے فرمایا، جس میں وسعت ہو اور اس کے باوجود وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔ (ابن ماجہ )