ایس ایم یو کو قانونی حیثیت دی جائےطلبا و ملازمین
مظاہرین نے ایک گھنٹے تک رفیقی شہید روڈ کو بند کیے رکھا.
سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی قانونی حیثیت کیلیے طلبا اور ملازمین رفیقی شہیدروڈ پرمظاہرہ کررہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس
ISLAMABAD:
سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علموں نے بدھ کویونیورسٹی کابل سندھ اسمبلی میں پیش نہ کیے جانے کے خلاف اوراپنے مطالبات کے حق میں یونیورسٹی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پرملازمین بھی موجود تھے جوکہ ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے مظاہرین نے ایک گھنٹے تک رفیقی شہید روڈ کو بند کیے رکھا، احتجا جی طلبا اور ملازمین نے کہا کہ سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی قانونی حیثیت بحال کی جائے، حکومت ملازمین اور طلبا و طالبات کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے اب جبکہ ان کی تعلیم بھی شروع ہوگئی ہے یہ سلسلہ جاری رہا تو ان کے مستقبل کا کیا ہوگا اوراس کا ذمے دار کون ہوگا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیاکہ آج جمعرات کو سندھ اسمبلی میں سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے بل کو پیش کرکے اسے منظور کیا جائے ورنہ طالبعلم سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاج اور بھوک ہڑتال پر مجبورہوں گے ملازمین کاکہناتھاکہ ان کی تنخواہیں بھی رکی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ان میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ صدر پاکستان کی ہدایت پر گورنر سندھ نے سندھ میڈیکل کالج کو سندھ میڈیکل یونیورسٹی کار درجہ دیے جانے سے متعلق آرڈیننس جاری کیا تھا جس کی مدت 90 روز میں ختم ہوگئی ہے جس کے بعد یونیورسٹی کی قانونی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔
سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے طالب علموں نے بدھ کویونیورسٹی کابل سندھ اسمبلی میں پیش نہ کیے جانے کے خلاف اوراپنے مطالبات کے حق میں یونیورسٹی کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
اس موقع پرملازمین بھی موجود تھے جوکہ ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے مظاہرین نے ایک گھنٹے تک رفیقی شہید روڈ کو بند کیے رکھا، احتجا جی طلبا اور ملازمین نے کہا کہ سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی قانونی حیثیت بحال کی جائے، حکومت ملازمین اور طلبا و طالبات کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے اب جبکہ ان کی تعلیم بھی شروع ہوگئی ہے یہ سلسلہ جاری رہا تو ان کے مستقبل کا کیا ہوگا اوراس کا ذمے دار کون ہوگا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیاکہ آج جمعرات کو سندھ اسمبلی میں سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے بل کو پیش کرکے اسے منظور کیا جائے ورنہ طالبعلم سندھ اسمبلی کے سامنے احتجاج اور بھوک ہڑتال پر مجبورہوں گے ملازمین کاکہناتھاکہ ان کی تنخواہیں بھی رکی ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ان میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ صدر پاکستان کی ہدایت پر گورنر سندھ نے سندھ میڈیکل کالج کو سندھ میڈیکل یونیورسٹی کار درجہ دیے جانے سے متعلق آرڈیننس جاری کیا تھا جس کی مدت 90 روز میں ختم ہوگئی ہے جس کے بعد یونیورسٹی کی قانونی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔