پانچویں عالمی اردو کانفرنس آج شروع ہوگی انتظامات مکمل
کانفرنس میں منٹو اور میرا جی کے جشن کی صد سالہ تقاریب کا بھی اہتمام کیا گیا ہے.
اردو کانفرنس کا افتتاحی اجلا س آج دوپہر 3 بجے ہوگا جس میں انتظار حسین اور شمیم حنفی کلیدی خطبہ پڑھیں گے۔ فوٹو: فائل
پانچویں عالمی اردو کانفرنس آج سے شروع ہوگی کانفرنس کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تمام آنے جانے والے افراد کو آرٹس کونسل کے داخلی دروازے سے گزرتے ہوئے چیک کیا جائیگا۔
کانفرنس 4 روز تک جاری رہے گی، شہر کے طلبہ و طالبات بھرپور انداز میں شرکت کرینگے کانفرنس کے حوالے سے ادبی حلقوں میں گہماگہمی پائی جاتی ہے شرکا کانفرنس پاکستان پہنچ چکے ہیں ، اردو کانفرنس کے حوالے سے شہری حکومت نے شہر بھر میں سائن بورڈز آویزاں کیے ہیں اردوکانفرنس کا افتتاحی اجلا س آج دوپہر 3 بجے ہوگا جس میں انتظار حسین اور شمیم حنفی کلیدی خطبہ پڑھیں گے۔
کانفرنس میں منٹو اور میرا جی کے جشن کی صد سالہ تقاریب کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جبکہ معروف اداکار اور اور نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کے سر براہ ضیا محی الدین کے اعزازمیں بھی تقریب منعقد کی جائیگی،معروف افسانہ نگار انتظار حسین کا کہنا ہے کے پاکستان میں عالمی کانفرنس کے انعقاد سے دنیا میں محبت اور بھائی چارگی کا پیغام پہنچ رہا ہے۔
ہمارا بیماری کے باوجودکراچی آکر کانفرنس میں شرکت کرنا اس بات کی دلیل ہے کے یہ کوئی عام تقریب نہیں،معروف شاعرہ کشور ناہید کا کہنا ہے کے اردو کی ترقی کے لیے اس طرح کے اقدامات ضروری تھے ورنہ ہماری نئی نسل بھٹک چکی ہے اور انگریزی کو اپنامعیار سمجھ لیا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ۔
آرٹس کونسل کے صدر محمداحمد شاہ کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں بچوں میں اپنے کلچر سے دوری دیکھ کر دکھ ہوتا تھانظام تعلیم بدلنے کی ضرورت تھی مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا ہم نے معاشرے میںکچھ تبدیل کرنے کا عزم رکھتے ہوئے اس کانفرنس کے انعقاد کا سوچا اور آج ہم پانچویں کانفرنس منعقد کررہے ہیں۔
کانفرنس 4 روز تک جاری رہے گی، شہر کے طلبہ و طالبات بھرپور انداز میں شرکت کرینگے کانفرنس کے حوالے سے ادبی حلقوں میں گہماگہمی پائی جاتی ہے شرکا کانفرنس پاکستان پہنچ چکے ہیں ، اردو کانفرنس کے حوالے سے شہری حکومت نے شہر بھر میں سائن بورڈز آویزاں کیے ہیں اردوکانفرنس کا افتتاحی اجلا س آج دوپہر 3 بجے ہوگا جس میں انتظار حسین اور شمیم حنفی کلیدی خطبہ پڑھیں گے۔
کانفرنس میں منٹو اور میرا جی کے جشن کی صد سالہ تقاریب کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جبکہ معروف اداکار اور اور نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کے سر براہ ضیا محی الدین کے اعزازمیں بھی تقریب منعقد کی جائیگی،معروف افسانہ نگار انتظار حسین کا کہنا ہے کے پاکستان میں عالمی کانفرنس کے انعقاد سے دنیا میں محبت اور بھائی چارگی کا پیغام پہنچ رہا ہے۔
ہمارا بیماری کے باوجودکراچی آکر کانفرنس میں شرکت کرنا اس بات کی دلیل ہے کے یہ کوئی عام تقریب نہیں،معروف شاعرہ کشور ناہید کا کہنا ہے کے اردو کی ترقی کے لیے اس طرح کے اقدامات ضروری تھے ورنہ ہماری نئی نسل بھٹک چکی ہے اور انگریزی کو اپنامعیار سمجھ لیا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ۔
آرٹس کونسل کے صدر محمداحمد شاہ کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں بچوں میں اپنے کلچر سے دوری دیکھ کر دکھ ہوتا تھانظام تعلیم بدلنے کی ضرورت تھی مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا ہم نے معاشرے میںکچھ تبدیل کرنے کا عزم رکھتے ہوئے اس کانفرنس کے انعقاد کا سوچا اور آج ہم پانچویں کانفرنس منعقد کررہے ہیں۔