بھارتی وزیرداخلہ کشمیر کے مسئلے کا جواب نہ دے سکے محبوبہ مفتی پریس کانفرنس چھوڑ پر چلی گئیں
چند ہفتوں میں پیلٹ گن کا متبادل متعارف کرائینگے، بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ
مظاہروں میں مارنے جانے والے بھی ہمارے اپنے ہی ہیں، راجناتھ سنگھ۔ فوٹو: اے ایف پی
بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دینے سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا جواب نہ سکے جب کہ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی سوالات کے دوران مشتعل ہو گئیں اور پریس کانفرنس چھوڑ کر چلی گئیں۔
بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جو لوگ کشمیر کی شورش میں مارے گئے، وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، انھوں نے اعلان کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اب چھرے نہیں چلیں گے، مقبوضہ کشمیر کے 2 روزہ دورے کے اختتام پر انھوں نے سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والی پیلٹ گن کا متبادل آئندہ چند ہفتوں میں متعارف کروائیں گے۔ انھوں نے پولیس اور نیم فوجی اداروں میں 14ہزار کشمیریوں کو بھرتی کرنے کا اعلان بھی کیا۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جو لوگ کشمیر کی شورش میں مارے گئے وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، جتنا دکھ آپ کو ہوتا ہے، اتنا ہی دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے۔
اس موقع پر کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ پچھلے 50 روز سے جاری احتجاجی تحریک میں 5 فیصد آبادی شامل ہے اور 95 فیصد آبادی پرامن ذرائع سے مسائل کا حل چاہتی ہے، ہم ان 5 فیصد لوگوں کی من مانی برداشت نہیں کریں گے۔ ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہوگی تاہم راجناتھ سنگھ نے کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دینے سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ محبوبہ مفتی سوالات کے دوران مشتعل ہوگئیں اور پریس کانفرنس چھوڑ کرچلی گئیں، راجناتھ نے سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کو کہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے وادی کشمیر میں جاری انتفادہ کے دوران بے گناہ شہریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کیلیے ہڑتال میں یکم ستمبر تک توسیع کردی ہے، سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ اگر بھارت جاری جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلیے اپنی پوری فوج بھی کشمیر بھیج دے تب بھی کشمیری عوام بھارت سے ہار نہیں مانیں گے،
دریں اثنا پابندیوں کے باوجود سرینگر، بڈگام، بانڈی پورہ، اسلام آباد، پلوامہ اور دیگر علاقوں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، انھوں نے پاکستان اور آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کیے، کشمیریوں نے پاکستانی جھنڈے بھی لہرائے، بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔
بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ جو لوگ کشمیر کی شورش میں مارے گئے، وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، انھوں نے اعلان کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اب چھرے نہیں چلیں گے، مقبوضہ کشمیر کے 2 روزہ دورے کے اختتام پر انھوں نے سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والی پیلٹ گن کا متبادل آئندہ چند ہفتوں میں متعارف کروائیں گے۔ انھوں نے پولیس اور نیم فوجی اداروں میں 14ہزار کشمیریوں کو بھرتی کرنے کا اعلان بھی کیا۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ جو لوگ کشمیر کی شورش میں مارے گئے وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، جتنا دکھ آپ کو ہوتا ہے، اتنا ہی دکھ ہمیں بھی ہوتا ہے۔
اس موقع پر کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ پچھلے 50 روز سے جاری احتجاجی تحریک میں 5 فیصد آبادی شامل ہے اور 95 فیصد آبادی پرامن ذرائع سے مسائل کا حل چاہتی ہے، ہم ان 5 فیصد لوگوں کی من مانی برداشت نہیں کریں گے۔ ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ہوگی تاہم راجناتھ سنگھ نے کشمیر کو سیاسی مسئلہ قرار دینے سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا جواب نہیں دیا۔ محبوبہ مفتی سوالات کے دوران مشتعل ہوگئیں اور پریس کانفرنس چھوڑ کرچلی گئیں، راجناتھ نے سیکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے ساتھ نرم رویہ رکھنے کو کہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے وادی کشمیر میں جاری انتفادہ کے دوران بے گناہ شہریوں کے قتل عام کے خلاف احتجاج کیلیے ہڑتال میں یکم ستمبر تک توسیع کردی ہے، سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ اگر بھارت جاری جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلیے اپنی پوری فوج بھی کشمیر بھیج دے تب بھی کشمیری عوام بھارت سے ہار نہیں مانیں گے،
دریں اثنا پابندیوں کے باوجود سرینگر، بڈگام، بانڈی پورہ، اسلام آباد، پلوامہ اور دیگر علاقوں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، انھوں نے پاکستان اور آزادی کے حق میں اور بھارت کے خلاف نعرے بلند کیے، کشمیریوں نے پاکستانی جھنڈے بھی لہرائے، بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔