ڈی این اے لیبارٹری کا قیام ترک کمپنی اور ڈائو یونیورسٹی میں مفاہمت
سندھ میں ڈی این اے لیب کی اشد ضرورت تھی، گورنر سندھ
گورنر سندھ نے کہا کہ ڈی این اے لیب کی صوبے میں اشد ضرورت تھی. فوٹو: فائل
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کی کوششوں سے کراچی میں صوبے کی پہلی ڈی این اے لیبارٹری کے قیام پر پیش رفت شروع ہوگئی ہے۔
گورنر ہائوس میں ڈائو یونیورسٹی اور ترک ادارے'' فارنسک پیپل آف ترکی''کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے، اس موقع پر گورنر سندھ نے کہا کہ ڈی این اے لیب کی صوبے میں اشد ضرورت تھی، بلدیہ فیکٹری سانحے کے بعد اس کی کمی محسوس کی جارہی تھی، مجرموں کی شناخت سمیت دیگر بہت سے معاملات میں ڈی این اے لیب کا اہم کردار ہوتاہے۔
ترکی کا مذکورہ ادارہ لیب کے قیام کے ضمن میں ڈائو یونیورسٹی کو تعاون فراہم کریگا، یہ لیب یونیورسٹی کے اوجھا کیمپس میں قائم کی جائے گی۔
گورنر سندھ نے اس موقع پر دونوں اداروں کے سربراہوں کو مبارکباد پیش کی، اس موقع پر مشیر برائے انسانی حقوق نادیہ گبول، مشیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی رضا ہارون ، ڈائو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمیداور ترک کمپنی کے نمائندے بھی موجود تھے۔
دریں اثنا کوآرڈی نیٹر برائے انسانی حقوق سندھ نادیہ گبول نے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کی تقریب کے بعد گفتگو میں کہا کہ صوبہ سندھ میں پہلی ڈی این اے ٹیسٹ لیبارٹری کا قیام خوش آئند ہے،محکمہ انسانی حقوق سندھ ڈی این اے ٹیسٹ لیبارٹری کے قیام کیلیے روز اول سے جدوجہد کررہا تھا لیبارٹری کے قیام سے خواتین پر ہونے والی زیادتیوں کے واقعات میں تفتیشی عمل میں تیزی ممکن ہوسکے گی۔
گورنر ہائوس میں ڈائو یونیورسٹی اور ترک ادارے'' فارنسک پیپل آف ترکی''کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے، اس موقع پر گورنر سندھ نے کہا کہ ڈی این اے لیب کی صوبے میں اشد ضرورت تھی، بلدیہ فیکٹری سانحے کے بعد اس کی کمی محسوس کی جارہی تھی، مجرموں کی شناخت سمیت دیگر بہت سے معاملات میں ڈی این اے لیب کا اہم کردار ہوتاہے۔
ترکی کا مذکورہ ادارہ لیب کے قیام کے ضمن میں ڈائو یونیورسٹی کو تعاون فراہم کریگا، یہ لیب یونیورسٹی کے اوجھا کیمپس میں قائم کی جائے گی۔
گورنر سندھ نے اس موقع پر دونوں اداروں کے سربراہوں کو مبارکباد پیش کی، اس موقع پر مشیر برائے انسانی حقوق نادیہ گبول، مشیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی رضا ہارون ، ڈائو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمیداور ترک کمپنی کے نمائندے بھی موجود تھے۔
دریں اثنا کوآرڈی نیٹر برائے انسانی حقوق سندھ نادیہ گبول نے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کی تقریب کے بعد گفتگو میں کہا کہ صوبہ سندھ میں پہلی ڈی این اے ٹیسٹ لیبارٹری کا قیام خوش آئند ہے،محکمہ انسانی حقوق سندھ ڈی این اے ٹیسٹ لیبارٹری کے قیام کیلیے روز اول سے جدوجہد کررہا تھا لیبارٹری کے قیام سے خواتین پر ہونے والی زیادتیوں کے واقعات میں تفتیشی عمل میں تیزی ممکن ہوسکے گی۔