تھر میں قحط سالی سستی گندم دینے کے دعوے دھرے رہ گئے

ضلع میں خوراک کی شدید قلت، گودام خالی، دیہی عوام حکومتی گندم کے منتظر

یہی علاقوں تک گندم پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹروں سے کرائے بھی طے نہ ہوسکے۔ فوٹو: فائل

تھرپارکر کے قحط زدہ عوام کو سندھ حکومت کے اعلانات کے باوجود آدھی قیمت پر گندم ملنا خواب بن گیا۔


تھر میں گندم کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کے حکم تو جاری کر دیا گیا تاہم گودامخالی ہیں، دیہی علاقوں تک گندم پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹروں سے کرائے بھی طے نہ ہوسکے۔ ضلع میں خوراک کی شدید قلت۔ تفصیلات کے مطابق تھرپارکر میں رواں برس بارشیں نہ ہونے سے قحط کی صورتحال ہے۔ سندھ حکومت نے ضلع کو 17اگست کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر فوری طور پر آدھی قیمت پر فی خاندان 50کلو گرام گندم اور مال مویشیوں کے لیے مفت چارہ دینے کا اعلان کیا ، اس کے بعد تھرپارکر کے شہروں مٹھی، ڈیپلو، اسلام کوٹ اور دیگر کی شہری آبادی کو سستی گندم دے کر وزیراعلیٰ سندھ نے فوڈ ڈپارٹمنٹ کو گندم کی فروخت بند کرنے کا حکم دے دیا۔

جس کے بعد میڈیا میں رپورٹیں آنے کے بعد وزیراعلیٰ نے دوبارہ گندم سستے دام پر دینے کا اعلان تو کر دیا ہے مگر اس وقت تھرپارکر کے تمام گودام گندم سے خالی ہیں، ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر عبدالستار میمن کا کہنا ہے کہ گندم کی فروخت کا حکم ملا ہے لیکن ضلع کے گوداموں میں گندم موجود نہیں۔ دوسری جانب ضلعی حکومت ابھی تک دیہی علاقوں تک گندم پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹروں سے کرائے کا معاملہ طے نہیں کرسکی۔ ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ ہمارے 2012کے قحط میں 2کروڑ روپے ضلعی حکومت پر بقایاجات ہیں۔ جبکہ وہ ادا نہیں کیے گئے گندم نہیں اٹھائیں گے۔
Load Next Story