توانا پاکستان پروگرام میں کروڑوں روپے کی خوردبرد کا انکشاف
پی اے سی نے رپورٹ طلب کرلی،منصوبے میں سیکریٹری بھی ملوث ہے،نیب حکام
پی اے سی نے رپورٹ طلب کرلی،منصوبے میں سیکریٹری بھی ملوث ہے،نیب حکام فوٹو: فائل
قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں تواناپاکستان پروگرام میں کروڑوں روپے کی خوردبرداوراسلام آبادمیںانتظامیہ کی ملی بھگت سے اسکولوں کی کینٹینوں کے انتہائی کم ریٹس پر ٹھیکے دیے جانے کاانکشاف ہواہے اورکمیٹی نے تمام ٹھیکے منسوخ کرکے قواعدکے تحت دوبارہ ٹھیکے دینے اورقواعدکی خلاف ورزی کرنے والوںکے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کردی۔
بدھ کو پی اے اسی کا اجلاس چیئرمین ندیم افضل گوندل کی زیرصدارت ہواجس میں وزارت کیڈکے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیاکمیٹی کوبتایاگیاکہ توانا پاکستان منصوبے کی کل لاگت تین ارب ساٹھ کروڑ روپے تھی جس کامقصد غریب بچوں کو اسکولوں میںدودھ فراہم کرنا تھا۔
نیب حکام نے بتایاکہ اس منصوبے میں اب تک16 کروڑ 70 لاکھ خورد برد ثابت ہوچکی ہے،اس میں سیکریٹری سمیت بہت سے لوگ ملوث ہیں۔اس پروگرام میں11کروڑکی جعلی خریداری کی رسیدیں ڈالی گئیں،15دن میں ریفرنس دائرکرنے سے متعلق کارروائی مکمل کرلی جائے گی۔پی اے سی نے معاملہ ایک ماہ میں نمٹاکررپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
پی اے سی نے پمزاور پولی کلینک میں غیرمعیاری دوائوں کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت کیڈ کو ہدایت کی کہ پمزاور پولی کلینک انتظامیہ سے مل کردوائوں کی خریداری کے حوالے سے پندرہ دن میں پالیسی ازسرنوبنائی جائے۔
آڈٹ حکام نے بتایاکہ کینٹینوں کا بلوں سمیت 3500 روپے کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ وزارت کیڈنے تسلیم کیاکہ یہ ٹھیکے قواعدکے خلاف دیے گئے۔کمیٹی نے تمام ٹھیکے منسوخ اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔
بدھ کو پی اے اسی کا اجلاس چیئرمین ندیم افضل گوندل کی زیرصدارت ہواجس میں وزارت کیڈکے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیاکمیٹی کوبتایاگیاکہ توانا پاکستان منصوبے کی کل لاگت تین ارب ساٹھ کروڑ روپے تھی جس کامقصد غریب بچوں کو اسکولوں میںدودھ فراہم کرنا تھا۔
نیب حکام نے بتایاکہ اس منصوبے میں اب تک16 کروڑ 70 لاکھ خورد برد ثابت ہوچکی ہے،اس میں سیکریٹری سمیت بہت سے لوگ ملوث ہیں۔اس پروگرام میں11کروڑکی جعلی خریداری کی رسیدیں ڈالی گئیں،15دن میں ریفرنس دائرکرنے سے متعلق کارروائی مکمل کرلی جائے گی۔پی اے سی نے معاملہ ایک ماہ میں نمٹاکررپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔
پی اے سی نے پمزاور پولی کلینک میں غیرمعیاری دوائوں کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت کیڈ کو ہدایت کی کہ پمزاور پولی کلینک انتظامیہ سے مل کردوائوں کی خریداری کے حوالے سے پندرہ دن میں پالیسی ازسرنوبنائی جائے۔
آڈٹ حکام نے بتایاکہ کینٹینوں کا بلوں سمیت 3500 روپے کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ وزارت کیڈنے تسلیم کیاکہ یہ ٹھیکے قواعدکے خلاف دیے گئے۔کمیٹی نے تمام ٹھیکے منسوخ اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔