مشرف دور میں متحدہ نے مرضی سے حلقہ بندیاں کرائیںمنورحسن
کراچی میں13جماعتیں نئی حلقہ بندیوں پر متفق ہیں صرف ایم کیو ایم مخالفت کررہی ہے
انتخابی فہرستیں فوج کی نگرانی میں مکمل کرانیکا کام جلد شروع کیا جائے،سیاسی رہنمائوں کا ردعمل۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں انتخابی فہرستوں میں ووٹرز کے اندراج کے عمل کو فوج اور ایف سی کی نگرانی میں مکمل کرنے کے فیصلے کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بہت سراہا ہے اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں انتخابی فہرستیں فوج کی نگرانی میں مکمل کرانے کا عمل جلد سے جلد شروع کیا جائے تاکہ آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی شفاف انداز میں منعقد ہوسکیں۔
جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن نے ایک بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے بوگس ووٹوں کی درستگی ہوگی اور صاف و شفاف انتخابات میں ممد ومعاون ثابت ہوگا ۔ کراچی میں 14میں سے13جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے صرف ایم کیو ایم مخالفت کررہی ہے کیونکہ پرویزمشرف کے دور میں اس نے اپنی مرضی سے حلقہ بندیاں کرائی تھیں اور اب کی بار ووٹ بھی اپنی مرضی سے بنوائے ہیں ۔
کراچی میں الیکشن کمیشن کے ڈسٹرکٹ آفیسرز جانبدار ہیں، انہیں تبدیل کیا جانا چاہیے، ایم کیوایم فوج کی نگرانی میں ووٹر لسٹوں کی گھر گھر تصحیح کے عمل اور انتخابی حلقہ جات کی تبدیلی کی اس لیے مخالفت کررہی ہے کہ اس نے دھاندلی اور الیکشن ہائی جیک کرنے کا پورا انتظام کر رکھاہے جس کا بھانڈا پھوٹنے کا خطرہ ہے ۔ کراچی میں الیکشن کا عمل اسی طرح ماضی میں بھی ہائی جیک کیا جاتا رہا ہے ۔ شفاف الیکشن کو یقینی بنانے کیلیے ضروری ہے کہ فوج کی نگرانی میں الیکشن کرایا جائے ۔ اس حوالے سے مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل امتیاز شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اچھا ہے ، اس سے انتخابات کو شفاف بنانے میں مدد ملے گی ۔
ہم اس فیصلے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) سندھ کے جنرل سیکرٹری سلیم ضیا ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں آئندہ انتخابات فوج کی نگرانی میں ہونے چاہئیں ۔ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا کہ ہم روز اول سے یہی کہتے آرہے ہیں کہ کراچی میں جو انتخابی فہرستیں بنائی گئی تھیں وہ جعلسازی پر مبنی تھیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے مؤقف کی تائید ہے۔ سنی تحریک کے رہنما شکیل قادری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ کراچی کے امن میں معاون و مددگار ثابت ہوگا ۔
سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں انتخابی فہرستوں میں ووٹرز کے اندراج کے عمل کو فوج اور ایف سی کی نگرانی میں مکمل کرنے کے فیصلے کو سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بہت سراہا ہے اور الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں انتخابی فہرستیں فوج کی نگرانی میں مکمل کرانے کا عمل جلد سے جلد شروع کیا جائے تاکہ آئندہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی شفاف انداز میں منعقد ہوسکیں۔
جماعت اسلامی کے امیر سید منورحسن نے ایک بیان میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے بوگس ووٹوں کی درستگی ہوگی اور صاف و شفاف انتخابات میں ممد ومعاون ثابت ہوگا ۔ کراچی میں 14میں سے13جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ انتخابی حلقہ بندیوں میں تبدیلی کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہونا چاہیے صرف ایم کیو ایم مخالفت کررہی ہے کیونکہ پرویزمشرف کے دور میں اس نے اپنی مرضی سے حلقہ بندیاں کرائی تھیں اور اب کی بار ووٹ بھی اپنی مرضی سے بنوائے ہیں ۔
کراچی میں الیکشن کمیشن کے ڈسٹرکٹ آفیسرز جانبدار ہیں، انہیں تبدیل کیا جانا چاہیے، ایم کیوایم فوج کی نگرانی میں ووٹر لسٹوں کی گھر گھر تصحیح کے عمل اور انتخابی حلقہ جات کی تبدیلی کی اس لیے مخالفت کررہی ہے کہ اس نے دھاندلی اور الیکشن ہائی جیک کرنے کا پورا انتظام کر رکھاہے جس کا بھانڈا پھوٹنے کا خطرہ ہے ۔ کراچی میں الیکشن کا عمل اسی طرح ماضی میں بھی ہائی جیک کیا جاتا رہا ہے ۔ شفاف الیکشن کو یقینی بنانے کیلیے ضروری ہے کہ فوج کی نگرانی میں الیکشن کرایا جائے ۔ اس حوالے سے مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل امتیاز شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ اچھا ہے ، اس سے انتخابات کو شفاف بنانے میں مدد ملے گی ۔
ہم اس فیصلے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) سندھ کے جنرل سیکرٹری سلیم ضیا ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں آئندہ انتخابات فوج کی نگرانی میں ہونے چاہئیں ۔ عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے صدر شاہی سید نے کہا کہ ہم روز اول سے یہی کہتے آرہے ہیں کہ کراچی میں جو انتخابی فہرستیں بنائی گئی تھیں وہ جعلسازی پر مبنی تھیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے مؤقف کی تائید ہے۔ سنی تحریک کے رہنما شکیل قادری نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ کراچی کے امن میں معاون و مددگار ثابت ہوگا ۔