اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قیام کی منظور سندھ میں بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنیکا فیصلہ

ایک صوبے کو 10ہزار اور سندھ کو صرف 8 سو اسکالر شپ کا اجرا

کراچی: وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو: اے پی پی

وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کے اجلاس میں سندھ اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قیام کی منظوری دیدی گئی۔

صوبے بھر کے 5تا16سال کے بچوںکو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ایک اور اجلاس میں سرکاری ملازمین کیخلاف کارروائی کے قوانین میں ترمیم پر غور کیا گیا۔ محکمہ تعلیم کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بدھ کو وزیراعلیٰ ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم صوبائی سبجیکٹ ہے جبکہ تعلیمی نصاب مرتب کرنا،اعلیٰ تعلیم، ہائیر ایجوکیشن کمیشن، دائود کالج آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی اور سندھ مدرسۃ الاسلام کالج کی ذمے داریاں صوبائی حکومت کے حوالے ہوگئی ہیں۔

اجلاس میں مختلف معاملات اور مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ سندھ ہائیرایجوکیشن کمیشن کے قیام کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی ۔ وزیراعلیٰ سندھ کمیشن کی کنٹرولنگ اتھارٹی ہوںگے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ہائیرایجوکیشن کمیشن نے 8 سے 10ہزار اسکالر شپ ایک ہی صوبے کو دی ہیں، جبکہ صوبہ سندھ کو صرف 8 سو اسکالر شپ فراہم کی گئی ہیں۔ ۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو وفاقی حکومت سے کنسالیڈیٹیڈ فنڈ مل رہا ہے، جبکہ صوبوں کو ان کے حصے کے فنڈ جاری نہیں کیے جا رہے ۔




اجلاس میں کہا گیا کہ بل کی منظوری کے بعد کمیشن اور جامعات کے تمام تر اخراجات اگلے این ایف سی ایوارڈ تک وفاقی حکومت برداشت کرے۔اس ضمن میں وعدے کے مطابق فنڈ کے اجرا کے لیے وفاقی حکومت کو سمری ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، کیونکہ وفاقی حکومت نے فنڈ روک دیے ہیں۔اجلاس میں آرٹیکل25(A)کے تحت قانون سازی کی منظوری دی گئی اور صوبے بھر کے 5تا16سال کے بچوںکو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اجلاس میں نجی اسکولوں کی انتظامیہ پر زور دیا گیا کہ وہ اپنے تعلیمی اداروںمیں داخلے لینے والے 10فیصد بچوں کو مفت تعلیم دیں۔ اجلاس میں مفت تعلیم فراہم کرنے کیلیے مجوزہ بل کو محکمہ قانون کے ذریعے سندھ اسمبلی میں پیش کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی زیر صدارت ایک اجلاس میں کسی بھی سرکاری ملازم کو نوکری سے برخاست کرنے اور سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کے قوانین سے متعلق آرڈیننس2000، ایکٹ 2010سے متعلق معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تجویز کردہ قانون سازی کو جلد سے جلد حتمی شکل دی جائے۔ اجلاس میں صوبائی وز راء پیر مظہرالحق،ایاز سومرو، شرجیل میمن، چیف سیکریٹری سندھ راجا محمد عباس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری مالیات محمد عارف خان، ایڈووکیٹ جنرل عبدالفتاح ملکاور دیگر افسران نے شرکت کی۔
Load Next Story