جنوبی افریقی کرکٹ کالے اور گورے پلیئرز کی بحث زورپکڑ گئی
سیاہ فام کو فٹبال زیادہ متاثر کرتی ہے، کرونیے کے ساتھ فکسڈ میچ کھیلنے کا افسوس ہے، کولینن
سیاہ فام کو فٹبال زیادہ متاثر کرتی ہے، کرونیے کے ساتھ فکسڈ میچ کھیلنے کا افسوس ہے، کولینن۔ فوٹو: فائل
جنوبی افریقا میں کالے اور گورے کرکٹرز کی بحث پھر زور پکڑنے لگی، سابق ٹیسٹ کرکٹر ڈیرل کولینن کہتے ہیں کہ جنوبی افریقہ میں کرکٹ سیاہ فام لوگوں کا کھیل نہیں ہے، انھیں فٹبال زیادہ متاثر کرتی ہے، مکھایا این تینی نے اپنی صلاحیتوں سے جگہ بنائی، ہنسی کرونیے کے ساتھ ایک فکسڈ چیریٹی میچ کھیلنے کا افسوس ہے۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقی حکومت کی جانب سے کھیلوں کی تمام فیڈریشنز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مقامی اور انٹرنیشنل ٹیموں میں سیاہ فام باشندوں کو مناسب نمائندگی دیں، یہی دباؤ کرکٹ جنوبی افریقہ پر بھی ہے جس نے ایک بار پھر غیراعلانیہ کوٹہ سسٹم بھی نافذ کردیا ہے جہاں ڈومیسٹک ٹیموں میں ایک مخصوص تعداد میں سیاہ فام باشندوں کو کھلانے کا پابندکیا گیا ہے، اس حوالے سے ایک بار پھر بحث جنم لے رہی کہ یہ پالیسی کسی حد تک مفید ہے، سابق ٹیسٹ کرکٹر ڈیرل کولینن کہتے ہیں کہ ماضی میںمکھایا این تینی نے دھوم مچائی اور اب ہم کاگیسو ربادا کو دیکھ رہے ہیں مگر میرا سوال یہ ہے کہ بڑی تعداد میں جنوبی افریقی سیاہ فام کرکٹ میں مقام کیوں نہیں بناپاتے، اس کی بڑی وجہ ملک میں فٹبال کا بڑھتا ہوا اثر رسوخ ہے۔
نوجوان تیزی سے اس کی جانب راغب ہورہے ہیں، میرے خیال میں جنوبی افریقہ میں کرکٹ سیاہ فاموں کا کھیل ہے ہی نہیں، اگر ہمیں انھیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں کرکٹ کی جانب راغب کرنا ہے تو پھر گراس روٹ لیول پر کرکٹ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا اور سہولیات فراہم کرنا ہوںگی۔ ایک سوال پر کولینن کا کہنا تھا کہ مکھایا این تینی انتہائی باصلاحیت تھے، اگرچہ انھیں ٹیسٹ ٹیم میں جلدبازی میںشامل کیا گیا مگر انھوں نے اپنی جگہ بنائی، وہ ایسے کرکٹر ہیں جن پر فلم بنائی جاسکتی ہے۔ اپنے ماضی کے کپتان ہنسی کرونیے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ایک چیریٹی میچ میں انھوں نے ہمیں کھلایا اور میٹنگ میں ہی واضح کردیا تھاکہ وہ یہ میچ ہارنے کے لیے کھیل رہے ہیں، مجھے اس کا حصہ بننے پر اب تک افسوس ہے۔
تفصیلات کے مطابق جنوبی افریقی حکومت کی جانب سے کھیلوں کی تمام فیڈریشنز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مقامی اور انٹرنیشنل ٹیموں میں سیاہ فام باشندوں کو مناسب نمائندگی دیں، یہی دباؤ کرکٹ جنوبی افریقہ پر بھی ہے جس نے ایک بار پھر غیراعلانیہ کوٹہ سسٹم بھی نافذ کردیا ہے جہاں ڈومیسٹک ٹیموں میں ایک مخصوص تعداد میں سیاہ فام باشندوں کو کھلانے کا پابندکیا گیا ہے، اس حوالے سے ایک بار پھر بحث جنم لے رہی کہ یہ پالیسی کسی حد تک مفید ہے، سابق ٹیسٹ کرکٹر ڈیرل کولینن کہتے ہیں کہ ماضی میںمکھایا این تینی نے دھوم مچائی اور اب ہم کاگیسو ربادا کو دیکھ رہے ہیں مگر میرا سوال یہ ہے کہ بڑی تعداد میں جنوبی افریقی سیاہ فام کرکٹ میں مقام کیوں نہیں بناپاتے، اس کی بڑی وجہ ملک میں فٹبال کا بڑھتا ہوا اثر رسوخ ہے۔
نوجوان تیزی سے اس کی جانب راغب ہورہے ہیں، میرے خیال میں جنوبی افریقہ میں کرکٹ سیاہ فاموں کا کھیل ہے ہی نہیں، اگر ہمیں انھیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں کرکٹ کی جانب راغب کرنا ہے تو پھر گراس روٹ لیول پر کرکٹ کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا اور سہولیات فراہم کرنا ہوںگی۔ ایک سوال پر کولینن کا کہنا تھا کہ مکھایا این تینی انتہائی باصلاحیت تھے، اگرچہ انھیں ٹیسٹ ٹیم میں جلدبازی میںشامل کیا گیا مگر انھوں نے اپنی جگہ بنائی، وہ ایسے کرکٹر ہیں جن پر فلم بنائی جاسکتی ہے۔ اپنے ماضی کے کپتان ہنسی کرونیے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ایک چیریٹی میچ میں انھوں نے ہمیں کھلایا اور میٹنگ میں ہی واضح کردیا تھاکہ وہ یہ میچ ہارنے کے لیے کھیل رہے ہیں، مجھے اس کا حصہ بننے پر اب تک افسوس ہے۔