پھر معاملات… طے… پا گئے
سنا ہے بلکہ آپ نے بھی سنا ہی ہو گا کہ خیبر پختون خوا کی انتظامیہ میں جو ’’کھچڑی‘‘ چڑھی ہوئی تھی
barq@email.com
سنا ہے بلکہ آپ نے بھی سنا ہی ہو گا کہ خیبر پختون خوا کی انتظامیہ میں جو ''کھچڑی'' چڑھی ہوئی تھی اور جس میں بقول بھٹو مرحوم دو آلو چند پیاز اور کچھ ''مرچ'' تھی بہت زیادہ ابلنے کی وجہ سے خراب ہو گئی اور بیج چوراہے پھوٹ گئی لہٰذا اب نئی کھچڑی چڑھانے کی تیاریاں چل رہی ہیں بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان سطور کے آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی یہ ہانڈی چڑھ بھی چکی ہو، ویسے تو سیاسی + انتظامی کھچڑی پکانا اتنا مشکل کام نہیں ہے۔ یہ کوئی امیر خسرو کی کھیر نہیں ہے کہ اس کے لیے ''چرخا'' جلانا پڑے۔
کھیر پکائی جتن سے چرخا دیا جلا
آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا
لیکن یہ سرکاری انتظامی اور سیاسی کھچڑی پکانا اتنا جتن کا کام نہیں ہے کہ ''چرخا''تو عوام کی شکل میں ہمیشہ جلایاجاتا رہتا ہے چولہا بھی سرکاری ایندھن سے ہمیشہ جلتارہے اور ہانڈی بھی صوبے کی شکل میں میسر ہے لیکن بعض اوقات اس میں کچھ ''مرچیں'' پڑجاتی ہیں جو ہانڈی کا مزا کراکر کر دیتی ہیں جیسے اس سے پہلے والی کھچڑی میں حماد آغا جیسی نہایت تیز اور تیکھی مرچیں آگئی تھیں مرچوں کو نکال پھینکا بھی زیادہ مشکل نہیں ہے او ایس ڈی نام کا چمٹا تو چولہے کے پاس ہی پڑا رہتا ہے۔
کچھ اور مرچیں بھی ادھر ادھر کر دی گئیں لیکن کھچڑی کا ذائقہ اور رنگ دونوں خراب ہو چکے تھے، اگر اجازت ہو تو ایک پرانا چٹکلہ اس موقع پر چسپاں کیا جائے، پرانا ہے پر کیا کریں کہ مزیدار اور باموقع ہے زیادہ لمبا نہیں، ایک گھر میں ہانڈی چڑھی تھی، دو بیویوں کا شوہر سامنے لیٹا ہوا تھا۔ پہلے ایک بیوی آئی اور ہانڈی میں نمک ڈال کر اور دو چار بوٹیاں نکال کر چلی گئی، تھوڑی دیر بعد دوسری بیوی نے بھی آکر نمک ڈال دیا اور اچھی اچھی بوٹیاں نکال کر اپنے کمرے میں چلی گئی، اپنے حصے کی بوٹیاں ہڑپ کرنے کے بعد پہلی نکلی ہانڈی میں مرچیں ڈال بوٹیاں نکال یہ جا وہ جا... یہی عمل دوسری نے بھی دہرایا... شوہر یہ سب لیٹا ہوا دیکھ رہا تھا۔ وہ اٹھا اس وقت ہانڈی پک چکی تھی اور دونوں بیویاں بھی حاضر ناظر تھیں۔
شوہر نے ایک مٹھی بھر راکھ اٹھائی اور ہانڈی میں ڈال دی ، اس پر دونوں بیویاں ایک ساتھ چلائیں یہ کیا کیا... شوہر نے کہا ، تم دونوں نے اس کا مزہ بگاڑ دیا ، میں نے سوچا کہ رنگ میں خراب کر دوں... ایسا لگتا ہے ہمارے سارے ''پکوانی'' تجربے ریسیپز اور کھیسر شناسی اور کھچڑی پسندی دھری کی دھری رہ گئی اور صورت حال کی ''کھچڑی'' بگڑتے بگڑتے پھر بن رہی ہے، اسے علماء باور حیات ''باسی کڑھی میں ابال'' بھی کہتے ہیں کیوں کہ تازہ ترین خبر جو آئی ہے کہ چیف باورچی کی سربراہی میں ایک مرتبہ پھر ''معاملات طے پا گئے'' اور آپ کو تو پتہ ہے کہ جب پاکستان میں ''معاملات طے پا گئے'' کا مرحلہ آجاتا ہے تو راوی چین ہی چین اور جناب خیریت ہی خیریت لکھا ہے رہ گیا دریائے سندھ... تو وہ تو لٹھ ان پڑھ ہے کچھ لکھتا وکھتا نہیں صرف کرتا ہے۔
جو ''معاملات طے پا گئے'' ان کے بارے میں ہمیں پتہ نہیں کہ یہ ''معاملات'' کیا تھے لیکن عام طور پر جب ''معاملات طے'' پاتے ہیں تو ''کوآپریٹو'' بنیاد پر طے پاتے ہیں جسے عربی میں ''نصف لی و نصف لک'' اردو میں ''آدھی تیری آدھی میری'' اور انگریزی میں ''ففٹی ففٹی'' کہتے ہیں، روزمرہ کی زبان میں اسے کہتے ہیں ، تم بھی چوپو میں بھی چوپوں گا... کیوں کہ معاملات کے ساتھ اس کا جو دودھ شریک بلکہ سب کچھ شریک بھائی ''طے'' ہے اور ان سب کا والد محترم جناب ''پا گئے'' موجود ہوں تو پھر خیریت ہی خیریت رہتی ہے کیوں کہ یہ تینوں... معاملات... طے... پا گئے... جس میدان میں کھڑے ہوں اسے کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا اور پھر چھوٹی ''مرچیوں'' کی اوقات ہی کیا ہے۔ ایک ''نوالے'' کو بھی کڑوا نہیں کر سکتیں، لیکن ابھی حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا کیوں کہ صرف بیورو کریسی ہی یہاں موجود نہیں بلکہ اور بھی بہت سارے ایسے ہاتھ ہیں کہ ہانڈی کا رنگ اور ذائقہ تو کیا پوری ہانڈی کو اٹھا کر کسی چٹان پر مار کر پاش پاش بھی کر سکتے ہیں اور ''ٹکڑوں'' کو کوئی یہاں گرا کوئی وہا گرا بھی کر سکتے ہیں یعنی معاملہ طے پا گئے تک تو آپہنچے ہیں لیکن آگے ابھی ''تحفظات'' وغیرہ کے مرحلے باقی ہیں، کہہ سکتے ہیں کہ
ابھی ہوس کو میسر نہیں دلوں کا گداز
ابھی یہ لوگ مقام نظر سے گزر رہے ہیں
لیکن یہ صرف ہمارے شکوک بھی ہو سکتے ہیں کیوں کہ صوبے کے موجودہ کچن میں ایسے بہت سارے مسائل آچکے ہیں لیکن چونکہ ''چیف باورچی'' کافی تجربہ کار اور سمجھ دار آدمی ہیں اس لیے جب بھی ''کھچڑی'' میں کچھ بگاڑ کے آثار دکھائی دیتے ہیں وہ اپنے بے پناہ ذخیرہ ریسیپز میں سے کوئی ٹوٹکا ایسا استعمال کر دیتے ہیں کہ بگڑی ہوئی کھچڑی سے بدبو کے بجائے پھر خوشبو آنے لگتی ہے، غالباً وہ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
زخم پھولوں کی طرح مہکیں اگر تو آئے
ابھی جس خبر کا ہم نے ابتداء میں تذکرہ کیا تھا اس سے تو پتہ چلتا تھا کہ کھچڑی مکمل طور پر بگڑ چکی ہے اور اب اسے ہانڈی سمیت پھینکنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بلکہ نئی ہانڈیوں کے نام بھی لیے گئے تھے لیکن تازہ ترین خبر یہ ہے کہ باورچی خانے میں سارے باورچیوں نے چیف باورچی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے چپ چاپ چوپو اور چوپنے دو پر اتفاق کر لیا، خبر کچھ یوں ہے کہ ''مسائل حل، یقین دہانی چیف باورچی اور کچن باورچیوں میں معاملات طے پا گئے'' نیچے تفصیلات میں چیف باورچی کی صدارت میں چیدہ چیدہ باورچیوں کے نام لیتے ہوئے لکھا ہے کہ چیف باورچی کی طرف سے مسائل کے حل کی یقین دہانی کے لیے ان سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اس خبر میں تمام کردہ و ناکردہ گناہوں کا بار بے چاری درد کی ماری ''غلط فہمیوں'' پر ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان بخت بخت غلط فہمیوں کی وجہ سے معاملات کچھ کشیدہ ہو گئے تھے لیکن اس اجلاس تمام غلط فہمیوں کو پکڑ کر چھری پھیر دی گئی اور معاملات طے پانے پر ایک ہی ''جھنڈے'' تلے اکٹھا ہونے کے عزم کا اظہار کیا گیا، جب ''جھنڈے تلے'' کا ذکر آگیا ہے تو اس کے ساتھ کوئی ''بڑھے چلو بڑھے چلو'' یا ''تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست'' نغمہ بھی ہونا چاہیے، شاید وہاں گایا گیا ہو لیکن خبر میں گنجائش نہ ہو، بہرحال مطلب وہی کہ ''معاملات پھر طے پا گئے'' ایسا لگتا ہے کہ ہماری موجودہ صوبائی حکومت کا سارا کاروبار ہی طے پا گیا پر چل رہا ہے۔
پوری چار پارٹیوں کی حکومت کے لیے ضروری بھی ہے کہ معاملات طے پا گیا، کے اصولوں پر چلیں ورنہ اتنے جوتے کہاں سے لائے جائیں گے جن میں دال بانٹی جا سکے، اس بیورو کریسی کے باروچی خانے کے ہیڈ باورچی ہی کو لے لیجیے کس حسن و خوبی کے ساتھ کھچڑی پکاتے ہیں جب بھی کوئی تیکھی مرچ دکھائی دیتی ہے چمٹے سے پکڑ کر یا تو دور دراز والے تبادلے کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں اور یا او ایس ڈی کے ڈسٹ بن میں پھینک دیتے ہیں اور جب وہ ایک مرتبہ کسی ''مرچ'' کو او ایس ڈی ڈسٹ بن میں پھینکتے ہیں تو یوں سمجھ لیجیے کہ وہ حماد آغا ہو گیا، ایسا ہی ایک واقعہ تاریخ میں بھی درج ہے خوشحال خٹک کے بیٹے اشرف خان ہجری کو جب اورنگزیب نے ''دکن'' میں قید کیا تو اس نے اس پر دو شعر کہے تھے جسے ہم حماد آغا جیسے لوگوں کے لیے پیش کر دیں اور یاد کر کے گنگنایا کریں،
زہ پہ بند د اورنگ نہ یم چہ بہ خلاص شم
زہ بند کرے شیخ رحمکار زیڑی کا کایم
پہ دکن کنبے پاڑو نشتہ چہ مے دم کڑی
زہ خوڑلے اژدھا تورے بلایم
ترجمہ : میں اورنگ کی قید میں نہیں ہوں بلکہ شیخ رحمکار کاکا صاحب نے مجھے اسیر کر رکھا ہے (غالباً ان کی ناراضی یا بددعا کی طرف اشارہ) دکن میں کوئی سپیرا نہیں جو مجھے بچا لے مجھے کالے ناگ نے کاٹا ہوا ہے۔
کھیر پکائی جتن سے چرخا دیا جلا
آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا
لیکن یہ سرکاری انتظامی اور سیاسی کھچڑی پکانا اتنا جتن کا کام نہیں ہے کہ ''چرخا''تو عوام کی شکل میں ہمیشہ جلایاجاتا رہتا ہے چولہا بھی سرکاری ایندھن سے ہمیشہ جلتارہے اور ہانڈی بھی صوبے کی شکل میں میسر ہے لیکن بعض اوقات اس میں کچھ ''مرچیں'' پڑجاتی ہیں جو ہانڈی کا مزا کراکر کر دیتی ہیں جیسے اس سے پہلے والی کھچڑی میں حماد آغا جیسی نہایت تیز اور تیکھی مرچیں آگئی تھیں مرچوں کو نکال پھینکا بھی زیادہ مشکل نہیں ہے او ایس ڈی نام کا چمٹا تو چولہے کے پاس ہی پڑا رہتا ہے۔
کچھ اور مرچیں بھی ادھر ادھر کر دی گئیں لیکن کھچڑی کا ذائقہ اور رنگ دونوں خراب ہو چکے تھے، اگر اجازت ہو تو ایک پرانا چٹکلہ اس موقع پر چسپاں کیا جائے، پرانا ہے پر کیا کریں کہ مزیدار اور باموقع ہے زیادہ لمبا نہیں، ایک گھر میں ہانڈی چڑھی تھی، دو بیویوں کا شوہر سامنے لیٹا ہوا تھا۔ پہلے ایک بیوی آئی اور ہانڈی میں نمک ڈال کر اور دو چار بوٹیاں نکال کر چلی گئی، تھوڑی دیر بعد دوسری بیوی نے بھی آکر نمک ڈال دیا اور اچھی اچھی بوٹیاں نکال کر اپنے کمرے میں چلی گئی، اپنے حصے کی بوٹیاں ہڑپ کرنے کے بعد پہلی نکلی ہانڈی میں مرچیں ڈال بوٹیاں نکال یہ جا وہ جا... یہی عمل دوسری نے بھی دہرایا... شوہر یہ سب لیٹا ہوا دیکھ رہا تھا۔ وہ اٹھا اس وقت ہانڈی پک چکی تھی اور دونوں بیویاں بھی حاضر ناظر تھیں۔
شوہر نے ایک مٹھی بھر راکھ اٹھائی اور ہانڈی میں ڈال دی ، اس پر دونوں بیویاں ایک ساتھ چلائیں یہ کیا کیا... شوہر نے کہا ، تم دونوں نے اس کا مزہ بگاڑ دیا ، میں نے سوچا کہ رنگ میں خراب کر دوں... ایسا لگتا ہے ہمارے سارے ''پکوانی'' تجربے ریسیپز اور کھیسر شناسی اور کھچڑی پسندی دھری کی دھری رہ گئی اور صورت حال کی ''کھچڑی'' بگڑتے بگڑتے پھر بن رہی ہے، اسے علماء باور حیات ''باسی کڑھی میں ابال'' بھی کہتے ہیں کیوں کہ تازہ ترین خبر جو آئی ہے کہ چیف باورچی کی سربراہی میں ایک مرتبہ پھر ''معاملات طے پا گئے'' اور آپ کو تو پتہ ہے کہ جب پاکستان میں ''معاملات طے پا گئے'' کا مرحلہ آجاتا ہے تو راوی چین ہی چین اور جناب خیریت ہی خیریت لکھا ہے رہ گیا دریائے سندھ... تو وہ تو لٹھ ان پڑھ ہے کچھ لکھتا وکھتا نہیں صرف کرتا ہے۔
جو ''معاملات طے پا گئے'' ان کے بارے میں ہمیں پتہ نہیں کہ یہ ''معاملات'' کیا تھے لیکن عام طور پر جب ''معاملات طے'' پاتے ہیں تو ''کوآپریٹو'' بنیاد پر طے پاتے ہیں جسے عربی میں ''نصف لی و نصف لک'' اردو میں ''آدھی تیری آدھی میری'' اور انگریزی میں ''ففٹی ففٹی'' کہتے ہیں، روزمرہ کی زبان میں اسے کہتے ہیں ، تم بھی چوپو میں بھی چوپوں گا... کیوں کہ معاملات کے ساتھ اس کا جو دودھ شریک بلکہ سب کچھ شریک بھائی ''طے'' ہے اور ان سب کا والد محترم جناب ''پا گئے'' موجود ہوں تو پھر خیریت ہی خیریت رہتی ہے کیوں کہ یہ تینوں... معاملات... طے... پا گئے... جس میدان میں کھڑے ہوں اسے کوئی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا اور پھر چھوٹی ''مرچیوں'' کی اوقات ہی کیا ہے۔ ایک ''نوالے'' کو بھی کڑوا نہیں کر سکتیں، لیکن ابھی حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جا سکتا کیوں کہ صرف بیورو کریسی ہی یہاں موجود نہیں بلکہ اور بھی بہت سارے ایسے ہاتھ ہیں کہ ہانڈی کا رنگ اور ذائقہ تو کیا پوری ہانڈی کو اٹھا کر کسی چٹان پر مار کر پاش پاش بھی کر سکتے ہیں اور ''ٹکڑوں'' کو کوئی یہاں گرا کوئی وہا گرا بھی کر سکتے ہیں یعنی معاملہ طے پا گئے تک تو آپہنچے ہیں لیکن آگے ابھی ''تحفظات'' وغیرہ کے مرحلے باقی ہیں، کہہ سکتے ہیں کہ
ابھی ہوس کو میسر نہیں دلوں کا گداز
ابھی یہ لوگ مقام نظر سے گزر رہے ہیں
لیکن یہ صرف ہمارے شکوک بھی ہو سکتے ہیں کیوں کہ صوبے کے موجودہ کچن میں ایسے بہت سارے مسائل آچکے ہیں لیکن چونکہ ''چیف باورچی'' کافی تجربہ کار اور سمجھ دار آدمی ہیں اس لیے جب بھی ''کھچڑی'' میں کچھ بگاڑ کے آثار دکھائی دیتے ہیں وہ اپنے بے پناہ ذخیرہ ریسیپز میں سے کوئی ٹوٹکا ایسا استعمال کر دیتے ہیں کہ بگڑی ہوئی کھچڑی سے بدبو کے بجائے پھر خوشبو آنے لگتی ہے، غالباً وہ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ
رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے
زخم پھولوں کی طرح مہکیں اگر تو آئے
ابھی جس خبر کا ہم نے ابتداء میں تذکرہ کیا تھا اس سے تو پتہ چلتا تھا کہ کھچڑی مکمل طور پر بگڑ چکی ہے اور اب اسے ہانڈی سمیت پھینکنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں بلکہ نئی ہانڈیوں کے نام بھی لیے گئے تھے لیکن تازہ ترین خبر یہ ہے کہ باورچی خانے میں سارے باورچیوں نے چیف باورچی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے چپ چاپ چوپو اور چوپنے دو پر اتفاق کر لیا، خبر کچھ یوں ہے کہ ''مسائل حل، یقین دہانی چیف باورچی اور کچن باورچیوں میں معاملات طے پا گئے'' نیچے تفصیلات میں چیف باورچی کی صدارت میں چیدہ چیدہ باورچیوں کے نام لیتے ہوئے لکھا ہے کہ چیف باورچی کی طرف سے مسائل کے حل کی یقین دہانی کے لیے ان سے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اس خبر میں تمام کردہ و ناکردہ گناہوں کا بار بے چاری درد کی ماری ''غلط فہمیوں'' پر ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان بخت بخت غلط فہمیوں کی وجہ سے معاملات کچھ کشیدہ ہو گئے تھے لیکن اس اجلاس تمام غلط فہمیوں کو پکڑ کر چھری پھیر دی گئی اور معاملات طے پانے پر ایک ہی ''جھنڈے'' تلے اکٹھا ہونے کے عزم کا اظہار کیا گیا، جب ''جھنڈے تلے'' کا ذکر آگیا ہے تو اس کے ساتھ کوئی ''بڑھے چلو بڑھے چلو'' یا ''تیز ترک گامزن منزل ما دور نیست'' نغمہ بھی ہونا چاہیے، شاید وہاں گایا گیا ہو لیکن خبر میں گنجائش نہ ہو، بہرحال مطلب وہی کہ ''معاملات پھر طے پا گئے'' ایسا لگتا ہے کہ ہماری موجودہ صوبائی حکومت کا سارا کاروبار ہی طے پا گیا پر چل رہا ہے۔
پوری چار پارٹیوں کی حکومت کے لیے ضروری بھی ہے کہ معاملات طے پا گیا، کے اصولوں پر چلیں ورنہ اتنے جوتے کہاں سے لائے جائیں گے جن میں دال بانٹی جا سکے، اس بیورو کریسی کے باروچی خانے کے ہیڈ باورچی ہی کو لے لیجیے کس حسن و خوبی کے ساتھ کھچڑی پکاتے ہیں جب بھی کوئی تیکھی مرچ دکھائی دیتی ہے چمٹے سے پکڑ کر یا تو دور دراز والے تبادلے کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں اور یا او ایس ڈی کے ڈسٹ بن میں پھینک دیتے ہیں اور جب وہ ایک مرتبہ کسی ''مرچ'' کو او ایس ڈی ڈسٹ بن میں پھینکتے ہیں تو یوں سمجھ لیجیے کہ وہ حماد آغا ہو گیا، ایسا ہی ایک واقعہ تاریخ میں بھی درج ہے خوشحال خٹک کے بیٹے اشرف خان ہجری کو جب اورنگزیب نے ''دکن'' میں قید کیا تو اس نے اس پر دو شعر کہے تھے جسے ہم حماد آغا جیسے لوگوں کے لیے پیش کر دیں اور یاد کر کے گنگنایا کریں،
زہ پہ بند د اورنگ نہ یم چہ بہ خلاص شم
زہ بند کرے شیخ رحمکار زیڑی کا کایم
پہ دکن کنبے پاڑو نشتہ چہ مے دم کڑی
زہ خوڑلے اژدھا تورے بلایم
ترجمہ : میں اورنگ کی قید میں نہیں ہوں بلکہ شیخ رحمکار کاکا صاحب نے مجھے اسیر کر رکھا ہے (غالباً ان کی ناراضی یا بددعا کی طرف اشارہ) دکن میں کوئی سپیرا نہیں جو مجھے بچا لے مجھے کالے ناگ نے کاٹا ہوا ہے۔