مردم شماری ضروری ہے
جب بھی مردم شماری کا عمل شروع ہو اس میں اس امر کا خیال رکھا جائے کہ آبادی کے اعدادوشمار درست درج کیے جائیں
۔فوٹو:فائل
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں ڈویژن بنچ نے مردم شماری سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی بدھ کو سماعت کرتے ہوئے آبزرویشن دی کہ انتخابی حلقہ بندیوں کے لیے مردم شماری لازم ہے' ایسے حالات میں 2018ء کے عام انتخابات ہوتے نظر نہیں آ رہے' مردم شماری کرانی ہے جنگ نہیں لڑنی کہ فوج کی ضرورت ہے۔ اٹارنی جنرل نے حکومتی رپورٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورت حال کے باعث فوج کی شمولیت ضروری ہے' جونہی فوج دستیاب ہو گی تو پراسیس شروع ہو جائے گا۔
ملک کے ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل ' قومی' صوبائی اور مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے مردم شماری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا' مردم شماری سے اصل صورت حال سامنے آتی ہے کہ عوام کی تعداد کے مطابق حکومت نے قومی منصوبے کب ' کہاں اور کس نوعیت کے تشکیل دینے ہیں۔ پاکستان میں ہر دس سال کا عرصہ مردم شماری کے لیے مقرر کیا گیا' پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951ء میں ہوئی پھر 1961ء' 1972 ' 1981ء اور 1998ء میں مردم شماری ہوئی۔ 1998ء میں ہونے والی مردم شماری کو 17سال گزر چکے ہیں مگر ابھی تک حکومت کی جانب سے اس اہم نوعیت کے کام کے لیے تیاریاں ہی شروع نہیں کی گئیں بلکہ عدالت کے نوٹس لینے کے باوجود امن وامان کو بہانہ بنا کر لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔
عدالت کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ ''حکومت کی کیا اپنی کوئی ساکھ نہیں کہ اسے فوج کی مدد کی ضرورت ہے' حکومت حساسیت کے نام پر اہم قومی اور آئینی ذمے داریاں ٹال دیتی ہے' اس نے مردم شماری کرانی ہے جنگ نہیں لڑنی کہ فوج کی ضرورت ہے ویسے بھی ملک کے اکثریتی علاقوں میں فوج تعینات کرنے کی ضرورت نہیں'' حکومت کا صرف فوج کی نگرانی میں مردم شماری کرانے کا فیصلہ ملک بھر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے تشکیل دیے گئے سول سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کے اظہار پر دلالت کرتا ہے۔ لاہور' اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں سیکیورٹی کی صورت حال بہت بہتر ہے' چند علاقوں میں امن و امان کے مسائل کو بہانہ بنا کر مردم شماری کو ٹالنا درست عمل نہیں۔ انتخابی حلقہ بندیوں کے لیے مردم شماری کرانا ناگزیر ہے کیونکہ مردم شماری کے بغیر حلقہ بندیوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کا امکان اپنی جگہ موجود ہے۔
جب بھی مردم شماری کا عمل شروع ہو اس میں اس امر کا خیال رکھا جائے کہ آبادی کے اعدادوشمار درست درج کیے جائیں کیونکہ ایسی اطلاعات بھی آ چکی ہیں کہ بعض اہلکار مخصوص قومیتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ حکومت 2018ء میں انتخابات کو یقینی بنانے اور انتخابی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے فوری طور پر مردم شماری کا عمل شروع کرے۔
ملک کے ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل ' قومی' صوبائی اور مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل کے لیے مردم شماری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا' مردم شماری سے اصل صورت حال سامنے آتی ہے کہ عوام کی تعداد کے مطابق حکومت نے قومی منصوبے کب ' کہاں اور کس نوعیت کے تشکیل دینے ہیں۔ پاکستان میں ہر دس سال کا عرصہ مردم شماری کے لیے مقرر کیا گیا' پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951ء میں ہوئی پھر 1961ء' 1972 ' 1981ء اور 1998ء میں مردم شماری ہوئی۔ 1998ء میں ہونے والی مردم شماری کو 17سال گزر چکے ہیں مگر ابھی تک حکومت کی جانب سے اس اہم نوعیت کے کام کے لیے تیاریاں ہی شروع نہیں کی گئیں بلکہ عدالت کے نوٹس لینے کے باوجود امن وامان کو بہانہ بنا کر لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے۔
عدالت کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ ''حکومت کی کیا اپنی کوئی ساکھ نہیں کہ اسے فوج کی مدد کی ضرورت ہے' حکومت حساسیت کے نام پر اہم قومی اور آئینی ذمے داریاں ٹال دیتی ہے' اس نے مردم شماری کرانی ہے جنگ نہیں لڑنی کہ فوج کی ضرورت ہے ویسے بھی ملک کے اکثریتی علاقوں میں فوج تعینات کرنے کی ضرورت نہیں'' حکومت کا صرف فوج کی نگرانی میں مردم شماری کرانے کا فیصلہ ملک بھر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے تشکیل دیے گئے سول سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کے اظہار پر دلالت کرتا ہے۔ لاہور' اسلام آباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں سیکیورٹی کی صورت حال بہت بہتر ہے' چند علاقوں میں امن و امان کے مسائل کو بہانہ بنا کر مردم شماری کو ٹالنا درست عمل نہیں۔ انتخابی حلقہ بندیوں کے لیے مردم شماری کرانا ناگزیر ہے کیونکہ مردم شماری کے بغیر حلقہ بندیوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کا امکان اپنی جگہ موجود ہے۔
جب بھی مردم شماری کا عمل شروع ہو اس میں اس امر کا خیال رکھا جائے کہ آبادی کے اعدادوشمار درست درج کیے جائیں کیونکہ ایسی اطلاعات بھی آ چکی ہیں کہ بعض اہلکار مخصوص قومیتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ حکومت 2018ء میں انتخابات کو یقینی بنانے اور انتخابی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے فوری طور پر مردم شماری کا عمل شروع کرے۔