کراچی کو میثاق امن کی ضرورت
شہر کو لاشوں کی سیاست کا ورثہ ملا، بدامنی و کرپشن کی سیاہی اس کے شفاف جمہوری و سیاسی کلچر کے منہ پر ملی گئی
شہر کو لاشوں کی سیاست کا ورثہ ملا، بدامنی و کرپشن کی سیاہی اس کے شفاف جمہوری و سیاسی کلچر کے منہ پر ملی گئی
سندھ اپیکس کمیٹی کے بدھ کو ہونے والے اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے انتہائی اہم اور دور رس فیصلے کیے ہیں جن کے تحت کراچی آپریشن کو منطقی انجام تک پہنچانے، شہر قائد میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے علیحدہ فورس تشکیل دینے، گاڑیوں کی چوری اور جرائم میں استعمال کو روکنے کے لیے نئی نمبر پلیٹس متعارف اور جدید ٹریکنگ سسٹم سے منسلک کرنے، غیرقانونی تارکین وطن، بالخصوص افغان مہاجرین کی واپسی اور سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت مانیٹرنگ کا عمل کراچی کے مضافاتی علاقوں تک وسیع کرنے، فرانزک لیب قائم کرنے، پولیس میں تفتیشی نظام کی بہتری اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ونگ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
جس کے تحت کرمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم) کو چلانے کے لیے 2500ء اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔ اجلاس کو آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بریفنگ دی جب کہ صوبائی وزیراطلاعات مولا بخش چانڈیو نے ایک پریس کانفرنس میں اجلاس کی تفصیل بتاتے ہوئے سندھ حکومت کے اقدامات کا حوالہ دیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں گورنر سندھ عشرت العباد، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر اور دیگر اعلیٰ حکام شر یک ہوئے۔
کراچی بلاشبہ گزشتہ کئی عشروں کے دوران غیر معمولی سیاسی، سماجی اور معاشی نشیب و فراز، سیاسی و لسانی کشیدگی اور بد انتظامی و بدامنی کے سنگین دورانیے سے گزرا ہے اور حقیقت میں ایسی ہی پیشقدمی کا متقاضی بھی ہے جس کا اظہار اپیکس کمیٹی نے اپنے اجلاس میں کیا ہے تاہم کراچی کی ایک بدنصیبی یہ بھی رہی ہے کہ ماضی میں کیے گئے کئی اہم فیصلوں پر عملدرآمد سے مصلحتاً گریز کیا جاتا رہا جس کے شہر قائد کے مکینوں کو جس میں ہر نسل، رنگ و زبان و عقیدہ اور دیگر صوبوں سے آئے ہوئے ہم وطن شامل ہیں بھیانک نتائج بھگتنا پڑے، شہر کو لاشوں کی سیاست کا ورثہ ملا، بدامنی و کرپشن کی سیاہی اس کے شفاف جمہوری و سیاسی کلچر کے منہ پر ملی گئی۔
جرائم کا خاتمہ نہیں ہو سکا، یہ انٹر نیشنل شہر مافیاؤں کی عالمی جنت بن گیا، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کراچی کے پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی نہیں، بیگناہ انسانوں کا لہو بہتا رہا، چنانچہ آج کراچی کو اس کے پر امن ٹریک پر دوبارہ لانے کے لیے اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی بڑی اہمیت ہے، ایم کیو ایم کی موجودہ سیمابی صورتحال پر پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، درست کہ آپریشن کے باعث جرائم پیشہ عناصر تتر بتر ہو چکے ہیں، مگر پھر بھی زمینی صورتحال آتش فشانی ہے، کچھ اہم فیصلے اور بھی آنے ہیں۔
اس لیے شہر قائد میں سیاسی کشمکش اور شہر میں امن و امان کی مکمل اور مستقل بحالی سیاسی و عسکری قیادت کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں، کراچی روتا ہے تو اس کی حالت پر دل گرفتہ ہونے والے محنت کش وطن عزیز کے چپہ چپہ میں ملیں گے، یہ منی پاکستان بندہ نوازی کا سر چشمہ ہے جس سے سیراب ہونے والوں کو اب سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر بھائی چارے، جمہوری رویے اور خیر سگالی کے ساتھ اشتراک عمل کرنا چاہیے۔ امن کے قیام کے لیے فورسز سے تعاون شرط ہے، کراچی کو میثاق امن کی ضرورت ہے، اپیکس کمیٹی کے فیصلے اس سمت میں ایک نمایاں پیشرفت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ عزم کہ نتائج کے حصول تک کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری رکھا جائے گا۔
شہر قائد میں فسادی عناصر کو زبردستی اپنی مرضی عوام پر مسلط کرنے اور فلاحی کاموں کی آڑ میں کسی کو بھتہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی نیشنل ایکشن پلان سے مربوط ہے۔ ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلا ل اکبر نے اجلاس میں بیش قیمت تجاویز پیش کیں، انھوں نے شہری علاقوں کا احساس محرومی ختم کرنے کے لیے سندھ میں رائج کوٹہ سسٹم کا ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جرائم سے بیزاری کے لیے احساس محرومی کو ختم کرنا ہو گا، صرف آپریشن سے پرامن سندھ کا خواب پورا نہیں ہو گا بلکہ ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں میرٹ پر عمل کرنا ہو گا۔ انھوں نے اجلاس کو ستمبر 2013ء میں کراچی میں شروع کیے گئے آپریشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی جب کہ مشیر قانون سندھ مرتضیٰ وہاب نے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے سندھ حکومت کا تیار کردہ مسودہ پیش کیا جس کے تحت دینی مدارس کو 3 اداروں سے رجسٹریشن کرانی ہو گی۔ اسلحہ کی نمائش پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ عید الاضحی کے موقع پر جو تنظیمیں کھالیں جمع کرنا چاہتی ہیں ان کو ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ہو گی اور کھالیں جمع کرنے والوں کو آڈٹ بھی کرانا ہو گا تاہم اس شعبہ میں مانیٹرنگ شفاف اور فالٹ فری ہو۔
لہٰذا امید کی جانی چاہیے کہ اپیکس کمیٹی اپنے آیندہ کے لائحہ عمل میں سندھ کی سیاست اور جرائم کے درمیان ایک ناقابل تقسیم لکیر کھینچنے میں کامیاب ہو گی تاکہ ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز میں امن ، ترقی اور آسودگی کا نیا دور شروع ہو اور سوگوار کراچی کے لب پر مصطفی زیدی کا یہ شعر آ جائے،
شہر در شہر پھری میرے گناہوں کی بیاض
بعض نظروں پہ میرا سوزِ حکیمانہ کھلا
جس کے تحت کرمنل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم) کو چلانے کے لیے 2500ء اہلکار بھرتی کیے جائیں گے۔ اجلاس کو آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بریفنگ دی جب کہ صوبائی وزیراطلاعات مولا بخش چانڈیو نے ایک پریس کانفرنس میں اجلاس کی تفصیل بتاتے ہوئے سندھ حکومت کے اقدامات کا حوالہ دیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں گورنر سندھ عشرت العباد، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبر اور دیگر اعلیٰ حکام شر یک ہوئے۔
کراچی بلاشبہ گزشتہ کئی عشروں کے دوران غیر معمولی سیاسی، سماجی اور معاشی نشیب و فراز، سیاسی و لسانی کشیدگی اور بد انتظامی و بدامنی کے سنگین دورانیے سے گزرا ہے اور حقیقت میں ایسی ہی پیشقدمی کا متقاضی بھی ہے جس کا اظہار اپیکس کمیٹی نے اپنے اجلاس میں کیا ہے تاہم کراچی کی ایک بدنصیبی یہ بھی رہی ہے کہ ماضی میں کیے گئے کئی اہم فیصلوں پر عملدرآمد سے مصلحتاً گریز کیا جاتا رہا جس کے شہر قائد کے مکینوں کو جس میں ہر نسل، رنگ و زبان و عقیدہ اور دیگر صوبوں سے آئے ہوئے ہم وطن شامل ہیں بھیانک نتائج بھگتنا پڑے، شہر کو لاشوں کی سیاست کا ورثہ ملا، بدامنی و کرپشن کی سیاہی اس کے شفاف جمہوری و سیاسی کلچر کے منہ پر ملی گئی۔
جرائم کا خاتمہ نہیں ہو سکا، یہ انٹر نیشنل شہر مافیاؤں کی عالمی جنت بن گیا، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ کراچی کے پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی نہیں، بیگناہ انسانوں کا لہو بہتا رہا، چنانچہ آج کراچی کو اس کے پر امن ٹریک پر دوبارہ لانے کے لیے اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی بڑی اہمیت ہے، ایم کیو ایم کی موجودہ سیمابی صورتحال پر پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، درست کہ آپریشن کے باعث جرائم پیشہ عناصر تتر بتر ہو چکے ہیں، مگر پھر بھی زمینی صورتحال آتش فشانی ہے، کچھ اہم فیصلے اور بھی آنے ہیں۔
اس لیے شہر قائد میں سیاسی کشمکش اور شہر میں امن و امان کی مکمل اور مستقل بحالی سیاسی و عسکری قیادت کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں، کراچی روتا ہے تو اس کی حالت پر دل گرفتہ ہونے والے محنت کش وطن عزیز کے چپہ چپہ میں ملیں گے، یہ منی پاکستان بندہ نوازی کا سر چشمہ ہے جس سے سیراب ہونے والوں کو اب سیاسی، سماجی اور معاشی طور پر بھائی چارے، جمہوری رویے اور خیر سگالی کے ساتھ اشتراک عمل کرنا چاہیے۔ امن کے قیام کے لیے فورسز سے تعاون شرط ہے، کراچی کو میثاق امن کی ضرورت ہے، اپیکس کمیٹی کے فیصلے اس سمت میں ایک نمایاں پیشرفت کی عکاسی کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ عزم کہ نتائج کے حصول تک کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری رکھا جائے گا۔
شہر قائد میں فسادی عناصر کو زبردستی اپنی مرضی عوام پر مسلط کرنے اور فلاحی کاموں کی آڑ میں کسی کو بھتہ وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی نیشنل ایکشن پلان سے مربوط ہے۔ ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلا ل اکبر نے اجلاس میں بیش قیمت تجاویز پیش کیں، انھوں نے شہری علاقوں کا احساس محرومی ختم کرنے کے لیے سندھ میں رائج کوٹہ سسٹم کا ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جرائم سے بیزاری کے لیے احساس محرومی کو ختم کرنا ہو گا، صرف آپریشن سے پرامن سندھ کا خواب پورا نہیں ہو گا بلکہ ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں میرٹ پر عمل کرنا ہو گا۔ انھوں نے اجلاس کو ستمبر 2013ء میں کراچی میں شروع کیے گئے آپریشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی دی جب کہ مشیر قانون سندھ مرتضیٰ وہاب نے دینی مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے سندھ حکومت کا تیار کردہ مسودہ پیش کیا جس کے تحت دینی مدارس کو 3 اداروں سے رجسٹریشن کرانی ہو گی۔ اسلحہ کی نمائش پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ عید الاضحی کے موقع پر جو تنظیمیں کھالیں جمع کرنا چاہتی ہیں ان کو ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا ہو گی اور کھالیں جمع کرنے والوں کو آڈٹ بھی کرانا ہو گا تاہم اس شعبہ میں مانیٹرنگ شفاف اور فالٹ فری ہو۔
لہٰذا امید کی جانی چاہیے کہ اپیکس کمیٹی اپنے آیندہ کے لائحہ عمل میں سندھ کی سیاست اور جرائم کے درمیان ایک ناقابل تقسیم لکیر کھینچنے میں کامیاب ہو گی تاکہ ملک کے سب سے بڑے معاشی مرکز میں امن ، ترقی اور آسودگی کا نیا دور شروع ہو اور سوگوار کراچی کے لب پر مصطفی زیدی کا یہ شعر آ جائے،
شہر در شہر پھری میرے گناہوں کی بیاض
بعض نظروں پہ میرا سوزِ حکیمانہ کھلا