پاک دامنوں پر الزام تراشی
سرکاری افسر اور عمال بھی اس سرمائے کو کسی نہ کسی طرح عوام میں بانٹتے ہیں
barq@email.com
یادداشت ہماری بہت خراب ہے یوں سمجھیے کہ فلم گجنی کے عامر خان ہیں اسے تو ایک بات پندرہ منٹ تک یاد رہتی تھی اور ہمیں اخبار کی خبر صرف دوسرے دن کے اخبار تک یاد رہتی ہے، اصل میں یہاں بھی انڈین فلموں کا ایک فارمولا چل رہا ہے کہ ہیرو یا ہیروئن کسی صدمے کی وجہ سے اپنی یادداشت کھو بیٹھتے ہیں اور پھر دوسرے صدمے سے اصل یادداشت تو واپس آ جاتی ہے لیکن یادداشت چلے جانے کے عرصے میں جو کچھ ہو چکا ہوتا ہے وہ بھول جاتا ہے، اخبار کی خبریں بھی ایک طرح سے صدمہ بلکہ صدمات ہوتی ہیں، اگلا ''صدمہ'' پچھلے صدمے کا سب کچھ بھلا دیتا ہے۔
چنانچہ ہم وہ خبر پوری تو یاد نہیں رکھ سکتے جو صدمہ تو تھی لیکن خوشی کا صدمہ تھی البتہ اس کا مفہوم نہیں بھولے ہیں ... خبر کچھ اس طرح تھی کہ اگر کرپشن کے بارے میں کسی نے کسی پر غلط الزام لگایا تو الزام لگانے والے کو اتنی قید اور اتنی جیل ہو سکتی ہے، یہ خبر نہ صرف خبر ہے بلکہ ایک تاریخی کارنامہ بھی ہے ہم بھی حیران ہیں کہ ''کرپشن'' کرنے والے بے چاروں کے خلاف تو اتنے ادارے کام کر رہے ہیں بلکہ ایک دو مرتبہ یہ اشتہار بھی ہم نے پڑھا تھا کہ کرپشن کی اطلاع دو اور نقد انعام لو ... یہ بیچارے ''معصوم کرپٹ'' لوگوں کے خلاف ایک بہت سنگدلانہ کارروائی تھی کہ بے چارے سرکاری افسر، اہلکار، وزیر اور منتخب نمایندے اتنی محنت سے ''کرپشن'' کریں اور پھر ان پر طرح طرح کے احتسابی ادارے چھوڑ دیے جائیںکیونکہ کرپشن کرنے والے پیسہ جمع کر کے عوام ہی کے اوپر لگاتے ہیں، وزیر اور منتخب نمایندے اپنا یہ سارا جمع جتھ الیکشن میں ''عوام'' کو لوٹا دیتے ہیں
کہ سپردم بتو مایۂ خویش را
تو دانی حسابِِ کم و بیش را
سرکاری افسر اور عمال بھی اس سرمائے کو کسی نہ کسی طرح عوام میں بانٹتے ہیں لوگوں کو اپنے کاروباروں میں روزگار دیتے ہیں، حج پر جاتے ہیں، مساجد اور مدرسوں کو چندہ دیتے ہیں یعنی بہرحال کسی نہ کسی راستے ''خاک'' کو وہیں پہنچاتے ہیں جہاں کا خمیر ہوتی ہے، ٹھیک ہے اپنے لیے بھی کچھ بنگلے جائیدادیں اور اکاؤنٹس بناتے ہیں لیکن اتنی محنت سے کرپشن کرنے پر ان کا اتنا حق تو بنتا ہی ہے
گرمن از باغ تو یک میوہ بہ چنیم چہ شود
پیش پائی بہ چراغ تو بہ بنیم چہ شود
یعنی اگر میں نے تمہارے باغ کا ایک پھل توڑا تھا اور اگر تمہارے چراغ سے تھوڑی روشنی لی تو کیا، اب ایسے قوم و ملک کے خادم لوگوں کے خلاف نیب و ریب کی وہ ''آدھی تیری آدھی میری'' تو ایک طرف لیکن یہ کیا کہ عوام کو بھی دعوت عام دی جائے کہ کرپشن کی نشاندہی کرو اور انعام پاؤ ... یہ تو تحریک انصاف کی حکومت میں سراسر بے انصافی تھی، بارے اچھا ہوا کہ حکومت کو بہت جلد احساس ہو گیا کہ یہ تو سراسر ''اپنوں' سے دشمنوں کا سلوک کرنا ہے
غیروں پہ کرم، اپنوں پہ ستم
اے جان جہاں یہ ٹھیک نہیں
سو وہ خبر آئی جو تفصیلات تو ہم بھول چکے ہیں لیکن ''مغز'' اس کا یہ ہے کہ کسی پر کرپشن کا ''غلط'' الزام لگانے والوں کو پچاس سال قید اور سات روپے جرمانہ یا شاید سات سال قید اور پچاس لاکھ جرمانے کی سزا کا مژدہ سنایا گیا، اب اس پر ہم جتنا چاہیں عش عش کریں کم ہے کہ ایک تو ''انصاف'' کا بول بالا ہو گیا کچھ لوگ جو ''منفی تنقیدیے'' ہوتے ہیں وہ تو حکومتوں کے اچھے کاموں میں کیڑے نکال لیتے ہیں، بلکہ ہم تو کچھ زیادہ ہی عش عش بلکہ غش غش اس لیے کر رہے ہیں کہ اس طرح ایک ادھورا کام بطریق احسن پورا کیا گیا، ہم اور دوسرے کئی لوگ ہمیشہ شکایت کرتے تھے کہ دنیا کے پہلے مقنن بادشاہ حمورابی نے جو عظیم الشان اور تاریخ ساز مجموعہ قوانین دنیا کو دیا تھا اور جسے بقول اس کے دیوتاؤں نے اسے دیا تھا ... وہ دنیا کے تمام قوانین کی ماں کہلائی جا سکتی ہے کیونکہ انسانوں سے تعلق رکھنے والے اکثر معاملات کے لیے اس میںسے قوانین بنائے گئے ہیں، لیکن موجودہ مروج قوانین میں اکثر ایسی چیزوں کو حذف کیا گیا تھا جس کی زد حکومت پر پڑتی ہے۔
ان میں ایک تو وہ مشہور قانون ہے کہ اگر کسی معمار نے کسی کا مکان بنایا اور وہ گر گیا تو نہ صرف سارا خرچہ معمار کو ادا کرنا پڑے گا بلکہ اگر جانی نقصان ہوا تو اس کے بدلے میں معمار کی جان بھی لی جا سکتی ہے، دور جدید میں چونکہ اکثر تعمیرات حکومتی آشیرواد سے سرکاری معمار یا ٹھیکیدار بناتے ہیں اس لیے ناقص ہونے پر حکومت اور اس کے معمار زد میں آ سکتے ہیں اس لیے اس شق کو ہٹا دیا گیا ہے کیوں کہ اس میں بے مقصد اور بے فضول قسم کی یادگاریں اور عمارتیں بھی آ سکتی ہیں، لیکن اور قانون تو بڑا ہی خطرناک تھا اگر کوئی کسی پر کوئی دعویٰ کرے اور وہ دعویٰ ثابت نہ کرے تو وہ کیس الٹ کر مدعی کے خلاف پڑ جائے اور وہی سزا اس جھوٹے مدعی کو دی جائے گی جو اس زیر دعویٰ جرم کے لیے مقرر ہو گی۔
یعنی اگر قتل کا غلط کیس بنایا اور ثابت نہ کر سکا تو مدعی کو قتل کے جرم کی سزا موت یا حبس دوام دی جائے گی، لیکن چونکہ آج کل جھوٹے مقدمات اکثر حکومت اپنے مخالفین پر چلاتی ہے اور وہ اکثر جھوٹے ثابت ہو بھی جاتے ہیں اس لیے اس ''شق'' کو اڑا دیا گیا کہیں لینے کے دینے حکومت کو نہ پڑ جائیں، اس قانون کی موجودگی میں اکثر ملکوں کے وزیر، افسر اور محکمے سزا پاتے بلکہ وزیر تو تقریباً سارے جیل میں ہوتے، لیکن اب کے یہ جو خبر ہم بتا رہے ہیں اس میں لگتا ہے کرپشن جیسے معصوم جرم میں ملوث معصوم جانوروں پر حکومت کو رحم آ گیا اور آنا بھی چاہیے اگر ایسے تجربہ کار لوگ مقدمات کی مار سے کم ہوتے چلے جائیں گے تو پھر حکومت اور عوام کی ''خدمت'' کا کام کون سبنھالے گا۔ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ شریف اور جذبہ خدمت سے سرشار منتخب نمایندے وزیر امیر شہیر سرکاری خدمت سے کانوں کو ہاتھ لگا دیں اور بصد حسرت ویاس کہیں گے کہ
غم سے مرتا ہوں کہ ایسا نہیں دنیا میں کوئی
جوکرے تعزیتِ ''مہر و وفا'' میرے بعد
اگرچہ خدا رکھے اور خود ان کے علاوہ اور کوئی انھیں نہ چکھے، نیب اور دوسرے احتسابی ادارے کوشش کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو معمولی سی فیس کے عوض سرکاری واشنگ فیکٹری میں خصوصی ڈیٹرجنٹ سے خوب دھو دھلا کر صاف اور شفاف کر دیں اور کر بھی رہے ہیں لیکن پھر بھی ان بے چاروں کو کچھ نہ کچھ تکلیف تو پہنچ ہی جاتی ہے اور عوام کو یوں کھلا ان پر چھوڑ دیا گیا تو کون سا وزیر کون سا افسر اور کون سا منتخب نمایندہ ہے جن کی ''خدمات'' کا عوام کو علم نہیں، اور اگر اس علم کی بنیاد پر پکڑائی ہو تو بے چاروں کو کتنی تکلیف ہو گی کیونکہ بے سوچے بے سمجھے حکومت سے یہ غلطی سرزد ہو گئی کہ عوام کو کرپشن کی نشاندی کی ترغیب دی گئی۔
سو اس غلطی کو سدھارنے کے لیے حمورابی کے قوانین کی وہ مردہ شق دوبارہ زندہ کر دی گئی کہ اب شکایت کرنے والے کو ''ثابت'' بھی کرنا پڑے گا، صرف علم اور اطلاع ہی کافی نہیں یعنی تمام ثبوت اور شہادتیں بھی ان کے ذمے لگا دی گئیں، سرکاری تحقیقاتی اداروں کا کام صرف یہ رہ گیا کہ جب عوام پوری ڈش تیار کریں تو یہ چھری کانٹا سنبھال لیں اور اگر ڈش میں کوئی نقص پایا گیا تو ڈش کو اٹھا کر دیوار پر مارا جائے گا اور ڈش لانے اور بنانے والے کو پکڑ کر ''مدعا علیہ' کی جگہ مرغا بنا کر بٹھا دیا جائے گا کہ ناحق شرفا پر بے بنیاد الزام تراشی کر رہا ہے جب کہ وہ ... دامن نچوڑ دیں تو احتساب والے وضو کریں، اس قانون کے سامنے آتے ہی ہم نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ ہم خود بھی بال بال بچ گئے کیونکہ کم از کم اپنے علاقے کے افسروں اور منتخب نمایندوں کی خدمات کے بارے میں ہمیں بہت سارا علم حاصل ہے لیکن صرف علم سے کیا بنتا ہے ثبوت ثبوت ثبوت... ظاہر ہے کہ عوام نہ تو کیمرا ہاتھ میں لے کر ثبوت جمع کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے قبضے میں جنات ہوتے ہیں کہ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے معاملات اور ''تقسیم'' کے ثبوت پیش کر سکتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ یہ بتا سکتے ہیں کہ فلاں مقام پر سڑک وغیرہ بنائی ہی نہیں گئی لیکن یہ ثبوت نہیں دے سکتے کہ اس سڑک کو سیلاب یا چور اٹھا کر نہیں لے گئے ہیں۔
چنانچہ ہم وہ خبر پوری تو یاد نہیں رکھ سکتے جو صدمہ تو تھی لیکن خوشی کا صدمہ تھی البتہ اس کا مفہوم نہیں بھولے ہیں ... خبر کچھ اس طرح تھی کہ اگر کرپشن کے بارے میں کسی نے کسی پر غلط الزام لگایا تو الزام لگانے والے کو اتنی قید اور اتنی جیل ہو سکتی ہے، یہ خبر نہ صرف خبر ہے بلکہ ایک تاریخی کارنامہ بھی ہے ہم بھی حیران ہیں کہ ''کرپشن'' کرنے والے بے چاروں کے خلاف تو اتنے ادارے کام کر رہے ہیں بلکہ ایک دو مرتبہ یہ اشتہار بھی ہم نے پڑھا تھا کہ کرپشن کی اطلاع دو اور نقد انعام لو ... یہ بیچارے ''معصوم کرپٹ'' لوگوں کے خلاف ایک بہت سنگدلانہ کارروائی تھی کہ بے چارے سرکاری افسر، اہلکار، وزیر اور منتخب نمایندے اتنی محنت سے ''کرپشن'' کریں اور پھر ان پر طرح طرح کے احتسابی ادارے چھوڑ دیے جائیںکیونکہ کرپشن کرنے والے پیسہ جمع کر کے عوام ہی کے اوپر لگاتے ہیں، وزیر اور منتخب نمایندے اپنا یہ سارا جمع جتھ الیکشن میں ''عوام'' کو لوٹا دیتے ہیں
کہ سپردم بتو مایۂ خویش را
تو دانی حسابِِ کم و بیش را
سرکاری افسر اور عمال بھی اس سرمائے کو کسی نہ کسی طرح عوام میں بانٹتے ہیں لوگوں کو اپنے کاروباروں میں روزگار دیتے ہیں، حج پر جاتے ہیں، مساجد اور مدرسوں کو چندہ دیتے ہیں یعنی بہرحال کسی نہ کسی راستے ''خاک'' کو وہیں پہنچاتے ہیں جہاں کا خمیر ہوتی ہے، ٹھیک ہے اپنے لیے بھی کچھ بنگلے جائیدادیں اور اکاؤنٹس بناتے ہیں لیکن اتنی محنت سے کرپشن کرنے پر ان کا اتنا حق تو بنتا ہی ہے
گرمن از باغ تو یک میوہ بہ چنیم چہ شود
پیش پائی بہ چراغ تو بہ بنیم چہ شود
یعنی اگر میں نے تمہارے باغ کا ایک پھل توڑا تھا اور اگر تمہارے چراغ سے تھوڑی روشنی لی تو کیا، اب ایسے قوم و ملک کے خادم لوگوں کے خلاف نیب و ریب کی وہ ''آدھی تیری آدھی میری'' تو ایک طرف لیکن یہ کیا کہ عوام کو بھی دعوت عام دی جائے کہ کرپشن کی نشاندہی کرو اور انعام پاؤ ... یہ تو تحریک انصاف کی حکومت میں سراسر بے انصافی تھی، بارے اچھا ہوا کہ حکومت کو بہت جلد احساس ہو گیا کہ یہ تو سراسر ''اپنوں' سے دشمنوں کا سلوک کرنا ہے
غیروں پہ کرم، اپنوں پہ ستم
اے جان جہاں یہ ٹھیک نہیں
سو وہ خبر آئی جو تفصیلات تو ہم بھول چکے ہیں لیکن ''مغز'' اس کا یہ ہے کہ کسی پر کرپشن کا ''غلط'' الزام لگانے والوں کو پچاس سال قید اور سات روپے جرمانہ یا شاید سات سال قید اور پچاس لاکھ جرمانے کی سزا کا مژدہ سنایا گیا، اب اس پر ہم جتنا چاہیں عش عش کریں کم ہے کہ ایک تو ''انصاف'' کا بول بالا ہو گیا کچھ لوگ جو ''منفی تنقیدیے'' ہوتے ہیں وہ تو حکومتوں کے اچھے کاموں میں کیڑے نکال لیتے ہیں، بلکہ ہم تو کچھ زیادہ ہی عش عش بلکہ غش غش اس لیے کر رہے ہیں کہ اس طرح ایک ادھورا کام بطریق احسن پورا کیا گیا، ہم اور دوسرے کئی لوگ ہمیشہ شکایت کرتے تھے کہ دنیا کے پہلے مقنن بادشاہ حمورابی نے جو عظیم الشان اور تاریخ ساز مجموعہ قوانین دنیا کو دیا تھا اور جسے بقول اس کے دیوتاؤں نے اسے دیا تھا ... وہ دنیا کے تمام قوانین کی ماں کہلائی جا سکتی ہے کیونکہ انسانوں سے تعلق رکھنے والے اکثر معاملات کے لیے اس میںسے قوانین بنائے گئے ہیں، لیکن موجودہ مروج قوانین میں اکثر ایسی چیزوں کو حذف کیا گیا تھا جس کی زد حکومت پر پڑتی ہے۔
ان میں ایک تو وہ مشہور قانون ہے کہ اگر کسی معمار نے کسی کا مکان بنایا اور وہ گر گیا تو نہ صرف سارا خرچہ معمار کو ادا کرنا پڑے گا بلکہ اگر جانی نقصان ہوا تو اس کے بدلے میں معمار کی جان بھی لی جا سکتی ہے، دور جدید میں چونکہ اکثر تعمیرات حکومتی آشیرواد سے سرکاری معمار یا ٹھیکیدار بناتے ہیں اس لیے ناقص ہونے پر حکومت اور اس کے معمار زد میں آ سکتے ہیں اس لیے اس شق کو ہٹا دیا گیا ہے کیوں کہ اس میں بے مقصد اور بے فضول قسم کی یادگاریں اور عمارتیں بھی آ سکتی ہیں، لیکن اور قانون تو بڑا ہی خطرناک تھا اگر کوئی کسی پر کوئی دعویٰ کرے اور وہ دعویٰ ثابت نہ کرے تو وہ کیس الٹ کر مدعی کے خلاف پڑ جائے اور وہی سزا اس جھوٹے مدعی کو دی جائے گی جو اس زیر دعویٰ جرم کے لیے مقرر ہو گی۔
یعنی اگر قتل کا غلط کیس بنایا اور ثابت نہ کر سکا تو مدعی کو قتل کے جرم کی سزا موت یا حبس دوام دی جائے گی، لیکن چونکہ آج کل جھوٹے مقدمات اکثر حکومت اپنے مخالفین پر چلاتی ہے اور وہ اکثر جھوٹے ثابت ہو بھی جاتے ہیں اس لیے اس ''شق'' کو اڑا دیا گیا کہیں لینے کے دینے حکومت کو نہ پڑ جائیں، اس قانون کی موجودگی میں اکثر ملکوں کے وزیر، افسر اور محکمے سزا پاتے بلکہ وزیر تو تقریباً سارے جیل میں ہوتے، لیکن اب کے یہ جو خبر ہم بتا رہے ہیں اس میں لگتا ہے کرپشن جیسے معصوم جرم میں ملوث معصوم جانوروں پر حکومت کو رحم آ گیا اور آنا بھی چاہیے اگر ایسے تجربہ کار لوگ مقدمات کی مار سے کم ہوتے چلے جائیں گے تو پھر حکومت اور عوام کی ''خدمت'' کا کام کون سبنھالے گا۔ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ شریف اور جذبہ خدمت سے سرشار منتخب نمایندے وزیر امیر شہیر سرکاری خدمت سے کانوں کو ہاتھ لگا دیں اور بصد حسرت ویاس کہیں گے کہ
غم سے مرتا ہوں کہ ایسا نہیں دنیا میں کوئی
جوکرے تعزیتِ ''مہر و وفا'' میرے بعد
اگرچہ خدا رکھے اور خود ان کے علاوہ اور کوئی انھیں نہ چکھے، نیب اور دوسرے احتسابی ادارے کوشش کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو معمولی سی فیس کے عوض سرکاری واشنگ فیکٹری میں خصوصی ڈیٹرجنٹ سے خوب دھو دھلا کر صاف اور شفاف کر دیں اور کر بھی رہے ہیں لیکن پھر بھی ان بے چاروں کو کچھ نہ کچھ تکلیف تو پہنچ ہی جاتی ہے اور عوام کو یوں کھلا ان پر چھوڑ دیا گیا تو کون سا وزیر کون سا افسر اور کون سا منتخب نمایندہ ہے جن کی ''خدمات'' کا عوام کو علم نہیں، اور اگر اس علم کی بنیاد پر پکڑائی ہو تو بے چاروں کو کتنی تکلیف ہو گی کیونکہ بے سوچے بے سمجھے حکومت سے یہ غلطی سرزد ہو گئی کہ عوام کو کرپشن کی نشاندی کی ترغیب دی گئی۔
سو اس غلطی کو سدھارنے کے لیے حمورابی کے قوانین کی وہ مردہ شق دوبارہ زندہ کر دی گئی کہ اب شکایت کرنے والے کو ''ثابت'' بھی کرنا پڑے گا، صرف علم اور اطلاع ہی کافی نہیں یعنی تمام ثبوت اور شہادتیں بھی ان کے ذمے لگا دی گئیں، سرکاری تحقیقاتی اداروں کا کام صرف یہ رہ گیا کہ جب عوام پوری ڈش تیار کریں تو یہ چھری کانٹا سنبھال لیں اور اگر ڈش میں کوئی نقص پایا گیا تو ڈش کو اٹھا کر دیوار پر مارا جائے گا اور ڈش لانے اور بنانے والے کو پکڑ کر ''مدعا علیہ' کی جگہ مرغا بنا کر بٹھا دیا جائے گا کہ ناحق شرفا پر بے بنیاد الزام تراشی کر رہا ہے جب کہ وہ ... دامن نچوڑ دیں تو احتساب والے وضو کریں، اس قانون کے سامنے آتے ہی ہم نے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ ہم خود بھی بال بال بچ گئے کیونکہ کم از کم اپنے علاقے کے افسروں اور منتخب نمایندوں کی خدمات کے بارے میں ہمیں بہت سارا علم حاصل ہے لیکن صرف علم سے کیا بنتا ہے ثبوت ثبوت ثبوت... ظاہر ہے کہ عوام نہ تو کیمرا ہاتھ میں لے کر ثبوت جمع کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے قبضے میں جنات ہوتے ہیں کہ بند دروازوں کے پیچھے ہونے والے معاملات اور ''تقسیم'' کے ثبوت پیش کر سکتے ہیں وہ زیادہ سے زیادہ یہ بتا سکتے ہیں کہ فلاں مقام پر سڑک وغیرہ بنائی ہی نہیں گئی لیکن یہ ثبوت نہیں دے سکتے کہ اس سڑک کو سیلاب یا چور اٹھا کر نہیں لے گئے ہیں۔