سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ

گزشتہ ماہ 334 نئی کمپنیاںرجسٹرہوئیں جو گزشتہ سال نومبر کی نسبت35 فی فیصد زائد ہیں

اکتوبر میں رجسٹریشن حاصل کرنے والی کمپنیوں کی کل با اختیار سرمائے کی حد ایک ارب75 کروڑ روپے رہی، ایس ای سی پی

سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان میں نومبر 2012 کے دوران مجموعی طور پر 334 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی جو نومبر2011 کی نسبت35 فی فیصد زائد ہیں.

نومبر 2012 کے دوران نئی رجسٹریشن کے بعد پاکستان میں کل رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 63236 ہوگئی ہے، ملک میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کے رجحان میں گزشتہ کئی ماہ سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اس سے قبل ایس ای سی پی نے اگست ، ستمبر اوراکتوبر کے دوران بالترتیب 274 اور 244 اور 320 کمپنیوں کی رجسٹریشن کیں، نومبر میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں میں 311 نجی کمپنیاں، سنگل ممبر کمپنیاں، چار غیر منافع بخش ایسوسی ایشنز اور ایک پبلک کمپنی شامل ہے۔

زیر تبصرہ مہینے میں امریکا اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے دو غیر ملکی کمپنیوں نے بھی پاکستان میں رجسٹریشن حاصل کی ہے، ایس ای سی پی کے مطابق اکتوبر میں رجسٹریشن حاصل کرنے والی کمپنیوں کی کل با اختیار سرمائے کی حد ایک ارب75 کروڑ روپے اور ان کمپنیوں کے اداشدہ سرمائے کی مجموعی مالیت 52 کروڑ60 لاکھ روپے ہے، ملک میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی شرح میں اضافہ سے ملک کی معیشت دستاویزی شکل اختیار کرے گی۔




روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور ٹیکسوں سے حکومتی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا۔ کمپنی رجسٹریشن کے رجحان میں اضافے کی ایک وجہ ایس ای سی پی کی جانب سے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت فراہم کرنا بھی ہے، کمپنی رجسٹریشن کے لیے تقریبا 60 فیصد درخواستیں متعارف کردہ آن لائن سروس کے ذریعے داخل کرائی جاتی ہیں، نومبر 2012 کے دوران سب سے زیادہ 55 رجسٹرڈکمپنیوں کا تعلق شعبہ خدمات سے ہے جبکہ 49 کمپنیاں تجارت، 35 سیاحت، 32 انفارمیشن ٹیکنالوج اور،20 کمپنیاں تعمیراتی شعبے میں رجسٹرڈ ہوئیں۔

پاور جنریشن سیکٹر میں بھی 16 کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی جبکہ 11 کمپنیاں ٹرانسپورٹ اور 12 کمپنیاں زراعت کے سیکٹر میں رجسٹرڈ ہوئیں، سب سے زیادہ رجسٹریشن لاہور میں ہوئی جہاں سے 113 کمپنیوں نے رجسٹریشن کرائی، نومبر کے مہینے میں بنگلہ دیش، نیدر لینڈ، ترکی، کنیڈا اور برطانیہ کے شہریوں کی جانب سے بھی تعلیم، پاور جنریشن اور خدمات کے شعبے سے تعلق رکھنے والی چار مقامی کمپنیوں میں سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی۔
Load Next Story