عالمی اردو کانفرنس شرعو اردو ادب منزل کی طرف رواں دواں ہے شمیم حنفی انتظار حسین
ہمارے لوگ اردو ادب اور ثقافت سے محبت کرتے ہیں.
ہندوستان سے آئے ہوئے ادیب، دانشور اور محقق شمیم حنفی نے ’’ ہندوستان میں اردو ادب، اجمالی جائزہ‘‘ اور انتظار حسین نے ’’پاکستان میں اردو ادب،اجمالی جائزہ‘‘ پر کلیدی خطبے پیش کیے. فوٹو: ایکسپریس اسلم فرخی، کشور ناہید ، احمد شاہ،محمد حسین سید،اعجاز احمد فاروقی،ڈاکٹر انور سجاد،ڈاکٹر پیر زادہ قاسم،محمد اشعر،حمایت علی شاعر،امینہ سید،پروفیسر محمدعلی و دیگر موجود ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
SIALKOT:
آرٹس کونسل آف پاکستان کے تحت 4روزہ پانچویں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز جمعرات کو ہو گیا، کانفرنس اتوار 9دسمبر تک جاری رہے گی۔
افتتاحی تقریب میں اردو ادب کی بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیات نے شرکت کی، آرٹس کونسل کا تھیٹر آڈیٹوریم مہمانوں سے بھرا ہوا تھا، افتتاحی اجلاس کی مجلس صدارت میں ڈاکٹر شمیم حنفی، فاطمہ ثریا بجیا، ڈاکٹر اسلم فرخی، انتظار حسین، حمایت علی شاعر، پیر زادہ قاسم، محمد علی صدیقی، ڈاکٹر مبارک علی، کشور ناہید، مسعود اشعر، امینہ سید، ڈاکٹر انور سجاد، درمش برگر، سعید نقوی اور ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی محمد حسین سید شامل تھے،کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے انجام دیے، آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اردو کانفرنس کے اب پوری دنیا میں چرچے ہیں۔
ہمارے لوگ اردو ادب اور ثقافت سے محبت کرتے ہیں، سب ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، ہمارے قدموںٕ کے نیچے ایک ہی زمین اور سر پر ایک ہی آسمان ہے، انھوں نے ملک کے نامور ادیبوں،شعرا، دانش وروں اور غیر ملکی مندوبین کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا، تقریب میں ہندوستان سے آئے ہوئے ادیب، دانشور اور محقق شمیم حنفی نے '' ہندوستان میں اردو ادب، اجمالی جائزہ'' اور انتظار حسین نے ''پاکستان میں اردو ادب،اجمالی جائزہ'' پر کلیدی خطبے پیش کیے، شمیم حنفی نے اپنے کلیدی خطبے میں کہا کہ یہاں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جن کے بغیر میں کچھ بھی نہیں،کبھی کبھی تاریخ اٹھا کر دیکھتا ہوں تو کچھ خیال آتا ہے، میرے لیے کوئی ایسی روایت وجود نہیں رکھتی ہے جس میں سب لوگ آباد نہ ہوں، انھوں نے کہا کہ اردو ہندوستان کی دو درجن زبانوں میں سے ایک ہے، یہ مسلمانوں کی زبان نہیں کیونکہ ہندوستان کے مسلمان اپنے اپنے صوبوں کی زبان بولتے ہیں، دنیا کو مختلف خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔
دنیا میں تاریخی فیصلے ہوتے ہیں لیکن کچھ فیصلے بصیرت سے کیے جاتے ہیں، آج ہمارا معاشرہ ادبی روایات کے مسائل سے دوچار ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سنجیدہ ادب پڑھنے والوں کا حلقہ محدودہوگیا ہے، پاکستان میں مزاحمتی ادب موجود ہے جبکہ ہندوستان میں مزاحمتی ادب کی روایت موجود نہیں، میں اس وقت سے ڈرتا ہوں جب لوگوں کے درمیان کو ئی اختلاف نہ رہ جا ئے اور وہ ایک طرح سوچنے لگیں، اختلاف ہی آگے بڑ ھنے کا راستہ دکھاتا ہے، ادب میں کتاب کی موت کا وقت آگیا ہے مگر میں پر امید ہوں کتا ب کی موجودگی ہمیشہ رہے گی، کتاب رفاقت کا جو احساس پیدا کر تی ہے وہ کوئی دوسرا ذریعہ پیدا نہیں کرتا، اردو ادب جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔
ادبی ماحول بہت سی انسانی کوششوں سے باہم ملکر بنتا ہے، لسانیت نے اردو ادب کے لیے بڑی پر یشانیاں پیدا کر دی ہیں مگر اردو ادب اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے،معروف ادیب ڈاکٹر انتظار حسین نے اپنے خطبے میں کہا کہ یہ بڑے شر ف کی بات ہے کہ ہم جیسے حقیر لوگوں کو عالمی اردو کانفرنس میں یاد رکھا جاتا ہے، اردو ادب کی روایت ایک ہی چلی آئی ہے، برصغیر میں اردو اب بھی وہی ہے جو اب دو ملکوں میں تقسیم ہوگیا ہے، ہندوستان میں تہذیب اور ان کی قومی شناخت اب بھی وہی ہے، مسئلہ صرف پاکستان کے لیے کھڑا ہوا ہے، اس حوالے سے تہذیب کے بارے میں شناخت کے حوالے سے سوال اٹھتے چلے گئے، ہمارا سوال اب کالا باغ ڈیم بنتا چلا گیا ہے جو اب بھی بڑا مسئلہ ہے، 60کی دہائی میں جب علاقائی افسانہ لکھا گیا تو کہا گیا کہ یہ مارشل لا کا کا رد عمل ہے مگر یہ ہندوستان میں کیوں لکھا جاتا ہے، یہ سو چنے کا مقام ہے۔
اردو ادب میں جو تبدیلی آئی اس کی ایک وجہ نہیں بلکہ کئی وجوہات ہیں اور یہ تبدیلی پاکستان اور ہندوستان میں بیک وقت آئی، اردو پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں پھیل گئی ہے ،آج دنیا سمٹتی ہوئی نظر آرہی ہے اور اردو پھیلتی ہوئی نظر آرہی ہے، ہمارے ملک کی خواتین نے اردو ادب میں اہم کردار ادا کیا اور وہ تیزی سے چھاگئی ہیں، پاکستان کے ادب میں یہ رجحان بھی ابھرا ہے کہ ہم خودکش حملوں کے دور سے گزر رہے ہیں اس کے اثرات تو ہمارے اردو ادب میں نظر آئیں گے، اردو ادب میں خاموشی نہیں ہے، بہت کچھ لکھا جارہا ہے،آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے تمام شرکا اور اپنے رفقائے کار کا نام لیکر ان کا بھی شکریہ ادا کیا۔
آرٹس کونسل آف پاکستان کے تحت 4روزہ پانچویں عالمی اردو کانفرنس کا آغاز جمعرات کو ہو گیا، کانفرنس اتوار 9دسمبر تک جاری رہے گی۔
افتتاحی تقریب میں اردو ادب کی بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیات نے شرکت کی، آرٹس کونسل کا تھیٹر آڈیٹوریم مہمانوں سے بھرا ہوا تھا، افتتاحی اجلاس کی مجلس صدارت میں ڈاکٹر شمیم حنفی، فاطمہ ثریا بجیا، ڈاکٹر اسلم فرخی، انتظار حسین، حمایت علی شاعر، پیر زادہ قاسم، محمد علی صدیقی، ڈاکٹر مبارک علی، کشور ناہید، مسعود اشعر، امینہ سید، ڈاکٹر انور سجاد، درمش برگر، سعید نقوی اور ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی محمد حسین سید شامل تھے،کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے انجام دیے، آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اردو کانفرنس کے اب پوری دنیا میں چرچے ہیں۔
ہمارے لوگ اردو ادب اور ثقافت سے محبت کرتے ہیں، سب ہمارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، ہمارے قدموںٕ کے نیچے ایک ہی زمین اور سر پر ایک ہی آسمان ہے، انھوں نے ملک کے نامور ادیبوں،شعرا، دانش وروں اور غیر ملکی مندوبین کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا، تقریب میں ہندوستان سے آئے ہوئے ادیب، دانشور اور محقق شمیم حنفی نے '' ہندوستان میں اردو ادب، اجمالی جائزہ'' اور انتظار حسین نے ''پاکستان میں اردو ادب،اجمالی جائزہ'' پر کلیدی خطبے پیش کیے، شمیم حنفی نے اپنے کلیدی خطبے میں کہا کہ یہاں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جن کے بغیر میں کچھ بھی نہیں،کبھی کبھی تاریخ اٹھا کر دیکھتا ہوں تو کچھ خیال آتا ہے، میرے لیے کوئی ایسی روایت وجود نہیں رکھتی ہے جس میں سب لوگ آباد نہ ہوں، انھوں نے کہا کہ اردو ہندوستان کی دو درجن زبانوں میں سے ایک ہے، یہ مسلمانوں کی زبان نہیں کیونکہ ہندوستان کے مسلمان اپنے اپنے صوبوں کی زبان بولتے ہیں، دنیا کو مختلف خانوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔
دنیا میں تاریخی فیصلے ہوتے ہیں لیکن کچھ فیصلے بصیرت سے کیے جاتے ہیں، آج ہمارا معاشرہ ادبی روایات کے مسائل سے دوچار ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سنجیدہ ادب پڑھنے والوں کا حلقہ محدودہوگیا ہے، پاکستان میں مزاحمتی ادب موجود ہے جبکہ ہندوستان میں مزاحمتی ادب کی روایت موجود نہیں، میں اس وقت سے ڈرتا ہوں جب لوگوں کے درمیان کو ئی اختلاف نہ رہ جا ئے اور وہ ایک طرح سوچنے لگیں، اختلاف ہی آگے بڑ ھنے کا راستہ دکھاتا ہے، ادب میں کتاب کی موت کا وقت آگیا ہے مگر میں پر امید ہوں کتا ب کی موجودگی ہمیشہ رہے گی، کتاب رفاقت کا جو احساس پیدا کر تی ہے وہ کوئی دوسرا ذریعہ پیدا نہیں کرتا، اردو ادب جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔
ادبی ماحول بہت سی انسانی کوششوں سے باہم ملکر بنتا ہے، لسانیت نے اردو ادب کے لیے بڑی پر یشانیاں پیدا کر دی ہیں مگر اردو ادب اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے،معروف ادیب ڈاکٹر انتظار حسین نے اپنے خطبے میں کہا کہ یہ بڑے شر ف کی بات ہے کہ ہم جیسے حقیر لوگوں کو عالمی اردو کانفرنس میں یاد رکھا جاتا ہے، اردو ادب کی روایت ایک ہی چلی آئی ہے، برصغیر میں اردو اب بھی وہی ہے جو اب دو ملکوں میں تقسیم ہوگیا ہے، ہندوستان میں تہذیب اور ان کی قومی شناخت اب بھی وہی ہے، مسئلہ صرف پاکستان کے لیے کھڑا ہوا ہے، اس حوالے سے تہذیب کے بارے میں شناخت کے حوالے سے سوال اٹھتے چلے گئے، ہمارا سوال اب کالا باغ ڈیم بنتا چلا گیا ہے جو اب بھی بڑا مسئلہ ہے، 60کی دہائی میں جب علاقائی افسانہ لکھا گیا تو کہا گیا کہ یہ مارشل لا کا کا رد عمل ہے مگر یہ ہندوستان میں کیوں لکھا جاتا ہے، یہ سو چنے کا مقام ہے۔
اردو ادب میں جو تبدیلی آئی اس کی ایک وجہ نہیں بلکہ کئی وجوہات ہیں اور یہ تبدیلی پاکستان اور ہندوستان میں بیک وقت آئی، اردو پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں پھیل گئی ہے ،آج دنیا سمٹتی ہوئی نظر آرہی ہے اور اردو پھیلتی ہوئی نظر آرہی ہے، ہمارے ملک کی خواتین نے اردو ادب میں اہم کردار ادا کیا اور وہ تیزی سے چھاگئی ہیں، پاکستان کے ادب میں یہ رجحان بھی ابھرا ہے کہ ہم خودکش حملوں کے دور سے گزر رہے ہیں اس کے اثرات تو ہمارے اردو ادب میں نظر آئیں گے، اردو ادب میں خاموشی نہیں ہے، بہت کچھ لکھا جارہا ہے،آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے تمام شرکا اور اپنے رفقائے کار کا نام لیکر ان کا بھی شکریہ ادا کیا۔