کشمیر کا مسئلہ کیوں حل نہیں ہو رہا ہے

بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن پر ان کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر بار بار لکھنا پڑتا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

بعض مسائل ایسے ہوتے ہیں جن پر ان کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر بار بار لکھنا پڑتا ہے، ایسے خصوصی بلکہ سنگین مسائل میں مسئلہ کشمیر بھی شامل ہے، پچھلے 69 سال سے اس مسئلے پر لکھا جا رہا ہے۔ ایک حلقہ وہ ہے جو مسئلہ کشمیر پر آنکھ بند کر کے بھارتی موقف کی حمایت کرتا ہے، دوسرا طبقہ فکر وہ ہے جو آنکھ بند کر کے پاکستان کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ یہ دونوں متضاد طبقہ ہائے فکر مسئلہ کشمیر کے حل میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کر سکتے۔ اس مسئلے کے حل میں ایک ایسے تیسرے حلقہ فکر کی اہمیت اور ضرورت ہے جو نہ بھارتی فکر کا ہمنوا ہو نہ پاکستانی موقف کا، بلکہ اس حلقہ فکر کا وژن انسانیت کی اجتماعی بھلائی ہو۔ ایسے حلقہ فکر کی صرف مسئلہ کشمیر کے حوالے ہی سے ضرورت نہیں ہے بلکہ دیگر عالمی مسائل کے حل میں بھی یہ حلقہ فکر اہم اور مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

کشمیر کے مسئلے کی عمر اب لگ بھگ 69 سال ہو رہی ہے، اس دوران یہ مسئلہ کئی نشیب و فراز سے گزرا ہے، اس نشیب و فراز میں دو بڑی جنگیں بھی آئی ہیں اور دوستی اور بھائی چارے کے دور بھی آئے۔ آج مسئلہ کشمیر جس دور سے گزر رہا ہے وہ بڑا سنگین اور بڑا پرخطر دور ہے۔ پچھلے لگ بھگ دو ماہ سے کشمیر کرفیو کی زد میں ہے اور اس دوران سیکڑوں کشمیری مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔

سری نگر پر ایک پرہول سناٹا طاری ہے، اس سناٹے کو یا تو کشمیری عوام کے نعرے توڑ رہے ہیں یا بھارتی فوج کی طرف سے چلائی جانے والی گولیاں۔ ایک کشمیری نوجوان جو کشمیریوں کا ہیرو بنا ہوا تھا جب بھارتی فوجوں کی گولیوں سے جاں بحق ہوا تو کشمیر میں جیسے آگ لگ گئی۔ لاکھوں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور انھیں کنٹرول کرنے کے لیے بھارتی فوج نے گولیاں چلائیں۔ برہان وانی کی موت سیکڑوں کشمیریوں کی موت اور ہزاروں کشمیریوں کے زخمی ہونے میں بدل گئی۔ کسی بھی تحریک میں جب عوام شامل ہو جاتے ہیں تو ایسی تحریکیں خون آلود ہونے کے ساتھ فریقین کو یہ احساس بھی دلاتی ہیں کہ فیصلے کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کے فیصلے درست ہیں یا نہیں؟

اس سے قبل کہ مسئلہ کشمیر کا تیسرے حلقہ فکر کی حیثیت سے جائزہ لیا جائے، آج کے اخبارات میں شایع ہونے والی کچھ خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو روایتی (کشمیر کے حوالے سے) خبروں سے مختلف نظر آتی ہیں۔ ایک خبر کے مطابق بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں مختلف تنظیموں پر مشتمل اتحاد نے راج گھاٹ پر ایک بڑا مظاہرہ کیا، یہ مظاہرہ بھارتی فوج کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کے قتل کے خلاف کیا گیا۔ سول سوسائٹی کے گروپوں کی جانب سے جاری ایک مشترکہ بیان میں مسئلہ کشمیر کو پرامن بات چیت کے ذریعے حل کرنے اور کشمیر میں خطرناک ہتھیاروں کا استعمال بند کرنے کی اپیل کی گئی۔ کشمیری رہنما آسیہ اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اچھی بات ہے۔


ایک بھارتی سیاستدان اور بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے کہا ہے کہ ''نریندر مودی کشمیر میں تشدد کو ہوا دے رہے ہیں ان کے دور میں فرقہ پرست جماعتیں بہت مضبوط ہو گئی ہیں''۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کے رہنما مانی شنکر نے کہا ہے کہ کشمیری آزادی چاہتے ہیں۔ فوجی ایکٹ اور تشدد ان کی جدوجہد آزادی کو نہیں روک سکتے۔

انھوں نے کہا ہے کہ اب کشمیری ایک نئے عزم کے ساتھ آزادی کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ کشمیر کے اسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کے ہاتھوں پر آزادی کے نعرے درج ہیں۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ''را'' کے سابق سربراہ نے اکنامک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ برہان وانی کشمیریوں کے لیے ایک آئیکون تھا جسے بھارتی فورسز نے دہشت گرد قرار دے کر 8 جولائی کو قتل کر دیا۔ کشمیری عوام نے جب اس قتل کے خلاف احتجاج شروع کیا تو بھارتی افواج نے اس کا جواب ظالمانہ طریقے سے دیا، جس میں سیکڑوں کشمیری ہلاک ہزاروں زخمی ہو گئے۔

مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی سارک کے وزرائے داخلہ کی کانفرنس سے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ اٹھ کر چلے گئے۔ پاکستان نے بھارتی حکومت کو مذاکرات کی دعوت دی جس کے جواب میں بھارتی حکومت نے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن مذاکرات میں مسئلہ کشمیر شامل نہیں ہو گا، صرف دہشت گردی پر مذاکرات ہوں گے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ریڈیو پروگرام میں کہا ہے کہ کشمیر میں کوئی نوجوان مارا جائے یا فوجی اہلکار نقصان ہمارا ہی ہے کیونکہ ''یہ سب لوگ ہمارے ہی ہیں۔''

حکومت پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ملک کے 22 ''اکابرین'' کو ذمے داری سونپی ہے۔ جو دنیا کے ملکوں میں جا کر کشمیر کے مسئلے سے آگاہ کریں گے۔ اس حوالے سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر میں جاری جدوجہد کے جواب میں بلوچستان، گلگت بلتستان کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ صورتحال کسی بھی وقت دنیا کے ان پسماندہ ترین ملکوں کے درمیان جنگ کا باعث بن سکتی ہے چونکہ دونوں ہی ملک ایٹمی ہتھیار رکھتے ہیں لہٰذا ان کے استعمال کے خطرات کو غیر امکانی نہیں کہا جا سکتا۔

مسئلہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ اس لیے حل نہیں ہو رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے رہنما ہندو، مسلمان اور پاکستانی اور ہندوستانی بن کر اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر اس مسئلے کو انسانی مسئلہ سمجھ کر انسانیت کی سربلندی کے پس منظر میں حل کرنے کی کوشش کی جائے اور اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے کہ دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ انسان کا بچہ ہوتا ہے اسے ہم ہندو، مسلمان، آزاد کشمیری، مقبوضہ کشمیری، ہندوستانی اور پاکستانی بنا کر اسی طرح برسر پیکار کر دیتے ہیں کہ وہ دائرہ انسانیت سے باہر نکل جاتا ہے۔
Load Next Story