اے سی ایل سی کا پولیس انسپکٹر 2 ملزم سمیت گرفتار مسروقہ کار برآمد

ملزم کوگاڑیاں چھین کر چلانے کا شوق ہے ، عہدے کا فائدہ اٹھا کر بچ نکلتا تھا

ملزم کوگاڑیاں چھین کر چلانے کا شوق ہے ، عہدے کا فائدہ اٹھا کر بچ نکلتا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

اینٹی کارلفٹنگ سیل کے پولیس انسپکٹر کو دیگر 2 ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کر کے چھینی گئی کار برآمد کرلی گئی۔

اے سی ایل سی پولیس نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کو انتہائی پوشیدہ رکھ اسے عدالت میں پیش کر کے جیل بھیج دیا ۔ تفصیلات کے مطابق اینٹی کارلفٹینگ سیل نے خفیہ اطلاع ملنے پر انسپکٹر ناصر شیخ اور اس کے دیگر 2 ساتھیوں قربان علی اور محمود کو گرفتار کر کے لائٹ ہاؤس کے قریب سے یکم اگست کو چھینی گئی ٹویوٹا کرولا کار برآمد کرلی جس کا مقدمہ نمبر 319/12 آرام باغ تھانے میں مدعی عبدالرحمٰن کی مدعیت میں درج تھا ۔




پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نے چھینی گئی کار پر راولپنڈی کی نمبر پلیٹ لگائی ہوئی تھی جبکہ کار کے مالک نے بھی ملزم کو عدالت میں شناخت کرلیا تھا ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم ناصر شیخ ایسٹ ہیڈ کوارٹرز میں تعینات اور کورنگی کا رہائشی ہے جبکہ وہ نئی گاڑیاں چھین کر چلانے کا شوقین ہے اور پولیس انسپکٹر کے عہدے کا فائدہ اٹھا کر چیکنگ کے دوران بچ کر نکل جاتا تھا ۔

ذرائع کا مزیدکہنا ہے کہ ملزم پولیس انسپکٹر اس سے قبل بھی جرائم کی وارداتوں میں ملوث رہا ہے اور اسے نوکری سے نکال دیا گیا تھا، تاہم بعدمیں اپنے تعلقات استعمال کر کے دوبارہ بحال ہوگیا تھا ۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے بعد اعلیٰ افسران کی جانب سے بھی اینٹی کارلفٹنگ سیل پر شدید دباؤ ڈالا گیا تھا کہ ملزم کی گرفتاری کو خفیہ رکھا جائے تاکہ محکمہ پولیس کو بدنامی سے بچایا جا سکے ۔
Load Next Story