کشمیر پر امریکی دفتر خاجہ کا روایتی بیان
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے. فوٹو: فائل
پشاور:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نوجوانوں کی شہادتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جب کہ بے گناہ افراد کو بلا دریغ جیلوں میں بھی ٹھونسا جا رہا ہے۔
حریت کیش نوجوان برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد آزادی کی تحریک میں جو نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوا ہے اس سے بھارتی لیڈروں کی نیندیں اُچاٹ ہو گئی ہیں لیکن اس حوالے سے سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ دنیا بھر کی حقوق انسانی کی تنظیمیں آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور تو اور دنیا کی سپر پاور ہونے کا دعویٰ کرنے والا ملک امریکا بھی کشمیر کا مسئلہ حل کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا بلکہ اپنی عدم دلچسپی سے ایک اعتبار سے بھارت کی خاموش حمایت کر رہا ہے۔
امریکا کی طرف سے تازہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کے بارے میں امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ امریکا کی پالیسی آخر ہے کیا جس کے تبدیل نہ ہونے کی بات کی گئی ہے تو یہ پالیسی بھی بالکل وہی ہے جس کا بھارت اپنی پالیسی ہونے کا دعویدار ہے کہ کشمیر کے مسئلہ میں کسی ثالثی کی ضرورت نہیں بلکہ یہ مسئلہ دوطرفہ مذاکرات سے حل ہو گا اور جہاں تک دو طرفہ بات چیت کا تعلق ہے تو بھارت کسی نہ کسی بہانے سے طے شدہ مذاکرات کو ہر مرتبہ منسوخ یا معطل کر دیتا ہے تو اس صورت میں یہ مذاکرات ہوں تو کیونکر ہوں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا کشمیر کے معاملے پر کنٹرول لائن پر موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے معاملے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی ترجمان نے کہا کہ امریکا یہ تسلیم کرتا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے زیرانتظام ہیں جب کہ 1972ء میں قائم لائن آف کنٹرول جس نے جموں و کشمیر کو حصوں میں تقسیم کر دیا اس کو بھی امریکا تسلیم کرتا ہے۔
یاد رہے اس کنٹرول لائن کا قیام پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور مسز اندرا گاندھی کے مابین شملہ میں ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔ امریکی ترجمان نے مزید کہا کہ کشمیر کے معاملے پر امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جب کہ ہم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ہماری پالیسی کشمیر کے معاملے میں واضح ہے۔ دونوں ممالک کشمیر پر مذاکرات کے لیے رفتار، دائرہ کار اور کردار کا تعین کریں۔ چونکہ یہ خبر بھارتی ذرائع ابلاغ نے جاری کی ہے اس لیے امریکی ترجمان سے یہ نہیں پوچھا جا سکا کہ جب بھارت دو طرفہ بات چیت سے ہر بار انکار کر دیتا ہے تو پھر دو طرفہ بات چیت کیسے ہو؟
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے نہتے کشمیریوں پر ظلم و تشدد میں کمی کے بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور نوجوانوں کی شہادتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جب کہ بے گناہ افراد کو بلا دریغ جیلوں میں بھی ٹھونسا جا رہا ہے۔
حریت کیش نوجوان برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد آزادی کی تحریک میں جو نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوا ہے اس سے بھارتی لیڈروں کی نیندیں اُچاٹ ہو گئی ہیں لیکن اس حوالے سے سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ دنیا بھر کی حقوق انسانی کی تنظیمیں آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور تو اور دنیا کی سپر پاور ہونے کا دعویٰ کرنے والا ملک امریکا بھی کشمیر کا مسئلہ حل کرانے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہا بلکہ اپنی عدم دلچسپی سے ایک اعتبار سے بھارت کی خاموش حمایت کر رہا ہے۔
امریکا کی طرف سے تازہ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کے بارے میں امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ امریکا کی پالیسی آخر ہے کیا جس کے تبدیل نہ ہونے کی بات کی گئی ہے تو یہ پالیسی بھی بالکل وہی ہے جس کا بھارت اپنی پالیسی ہونے کا دعویدار ہے کہ کشمیر کے مسئلہ میں کسی ثالثی کی ضرورت نہیں بلکہ یہ مسئلہ دوطرفہ مذاکرات سے حل ہو گا اور جہاں تک دو طرفہ بات چیت کا تعلق ہے تو بھارت کسی نہ کسی بہانے سے طے شدہ مذاکرات کو ہر مرتبہ منسوخ یا معطل کر دیتا ہے تو اس صورت میں یہ مذاکرات ہوں تو کیونکر ہوں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا کشمیر کے معاملے پر کنٹرول لائن پر موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے معاملے پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امریکی ترجمان نے کہا کہ امریکا یہ تسلیم کرتا ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کے زیرانتظام ہیں جب کہ 1972ء میں قائم لائن آف کنٹرول جس نے جموں و کشمیر کو حصوں میں تقسیم کر دیا اس کو بھی امریکا تسلیم کرتا ہے۔
یاد رہے اس کنٹرول لائن کا قیام پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور مسز اندرا گاندھی کے مابین شملہ میں ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔ امریکی ترجمان نے مزید کہا کہ کشمیر کے معاملے پر امریکا کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جب کہ ہم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ہماری پالیسی کشمیر کے معاملے میں واضح ہے۔ دونوں ممالک کشمیر پر مذاکرات کے لیے رفتار، دائرہ کار اور کردار کا تعین کریں۔ چونکہ یہ خبر بھارتی ذرائع ابلاغ نے جاری کی ہے اس لیے امریکی ترجمان سے یہ نہیں پوچھا جا سکا کہ جب بھارت دو طرفہ بات چیت سے ہر بار انکار کر دیتا ہے تو پھر دو طرفہ بات چیت کیسے ہو؟