زیکا وائرس… چوکنا رہنے کی ضرورت

ایشیا اورافریقا میں 2.6 ارب انسانوں کوجودنیا کی مجموعی آبادی کےایک تہائی سےزیادہ ہیں، زیکا وائرس سےشدید خطرہ لاحق ہے

ایشیا اورافریقا میں 2.6 ارب انسانوں کوجودنیا کی مجموعی آبادی کےایک تہائی سےزیادہ ہیں، زیکا وائرس سےشدید خطرہ لاحق ہے۔ فوٹو: فائل

اقوام متحدہ کے ادارہ صحت کے زیراہتمام کی جانے والی ایک اسٹڈی میں یہ ہولناک انکشاف کیا گیا ہے کہ ایشیا اور افریقہ میں 2.6 ارب انسانوں کو جو دنیا کی مجموعی آبادی کے ایک تہائی سے زیادہ ہیں، زیکا وائرس سے شدید خطرہ لاحق ہے جب کہ صرف بھارت میں 1.2 ارب افراد اس خطرے کی زد میں ہیں۔

امریکا اور کیربیئن کے علاقے جو اب تک اس وائرس سے محفوظ تصور کیے جاتے ہیں لیکن وہاں بھی مکمل حفاظتی انتظامات نہیں ہیں جب کہ بھات کے علاوہ چین، انڈونیشیا، نائیجریا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی کروڑوں افراد کے لیے اس وائرس کے خطرے کا انتباہ کیا گیا ہے۔


جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ زیکا وائرس مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے لہٰذا انتباہی اعلان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مچھر مار سپرے کے ساتھ ساتھ مچھروں کی افزائش کو زیادہ سے زیادہ ختم کرنے کی کوشش کی جائے جس کے لیے صرف حکومتی اقدامات ہی کافی نہیں ہوں گے بلکہ عامۃ الناس کو بھی صفائی کی اس مہم میں حکومتوں کا ساتھ دینا ہو گا۔ زیکا وائرس اس حوالے سے زیادہ خطرناک ہے کہ یہ چھوت چھات سے بھی پھیلتا ہے۔

اس بیماری کی ویکسین کی تیاری کا کام بھی تیزی سے جاری ہے جس کے بعد زیکا وائرس کے وباء کی طرح پھیلنے کے امکانات پر قابو پایا جا سکے گا۔ برازیل میں زیکا وائرس اپنی تباہی پھیلا چکا ہے۔ تحقیق کے مطابق زیکا وائرس کا زیادہ اثر دماغ پر ہوتا ہے جس سے دماغ کے خلیے تباہ ہو جاتے ہیں جس کے نتیجے میں نئے پیدا ہونے والے بچوں کا سر بہت چھوٹا ہو سکتا ہے نیز اس کے نتیجے میں انسان مفلوج ہو سکتا ہے جو اس کی موت پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں ڈینگی بہت تباہی پھیلا چکا ہے۔ ڈینگی بھی مچھر سے پھیلتا ہے جب کہ زیکا وائرس بھی مچھر سے پھیلتا ہے۔ آج کل کے موسم میں مچھر کی افزائش زیادہ ہوتی ہے۔ صوبائی اور ضلعی حکومتوں کو اس حوالے سے موثر اقدامات کرنے چاہئیں۔
Load Next Story