تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے احتجاجی مارچ

ہر ایشو پر یہ کہنا کہ حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے‘ درست حکمت عملی نہیں ہے۔

حکومت کے خلاف تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے ایک بار پھر احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر عوامی میلہ سجا لیا۔ ہفتے کو لاہور میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے احتساب مارچ تو راولپنڈی میں عوامی تحریک اور عوامی مسلم لیگ نے قصاص مارچ کیا اور حکومت کو اُسی اپنے روایتی جوشیلے اور جذباتی انداز میں خوب ہدف تنقید بنایا۔ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے بھی اس احتجاج میں شرکت کی ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے عیدالاضحی کے بعد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی رہائش گاہ رائیونڈ کی جانب بھی مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عمران خان کے احتساب مارچ اور طاہر القادری کے قصاص مارچ کے بارے میں ملک بھر میں خاصی قیاس آرائیاں جاری رہیں تاہم یہ امر خوش آیند ہیں کہ دونوں مارچ پرامن انداز میں اختتام پذیر ہو گئے اور کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری بار بار احتجاج پر مجبور ہو رہے ہیں؟

طاہر القادری سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انصاف نہ ملنے پر احتجاج کر رہے ہیں جب کہ عمران خان پانامہ پیپرز میں وزیراعظم کے خاندان کے افراد کے نام آنے کے بارے میں تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں' اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ حکومت نے ان دونوں ایشوز پر ایسے اقدامات نہیں کیے جن سے اپوزیشن مطمئن ہو جاتی بلکہ حکومت ان دونوں ایشوز پر تاخیری حربے اختیار کرتی چلی آ رہی ہے۔

پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے لیے تاحال ٹی او آرز ہی طے نہیں ہو سکے' تحریک انصاف اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں مسلسل اس ایشو پر احتجاج کر رہی ہیں' یہی وجہ ہے کہ عمران خان کو احتساب مارچ کرنا پڑا اور ہفتے کی رات تک لاہور شہر میں غیر یقینی کی صورت حال رہی' اسی طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے حوالے سے طاہر القادری اور ان کے ساتھی مطمئن نہیں ہیں' حکومت نے جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں جو کمیشن قائم کیا تھا' اس کی رپورٹ کو ابھی تک باضابطہ طور پر شایع نہیں کیا گیا۔ یوں یہ ایشو بھی عرصے سے حل طلب چلا آ رہا ہے' اسی کے نتیجے میں طاہر القادری نے راولپنڈی میں ہفتے کو قصاص مارچ کے نام پر احتجاج کیا۔


بلاشبہ تحریک انصاف' عوامی تحریک کی قیادت اور حکومت نے معاملہ فہمی اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے ہفتے کو ہونے والا احتجاج پرامن انداز میں اختتام پذیر ہو گیا ورنہ مختلف حلقوں کو خدشہ تھا کہ کہیں معاملہ گھیراؤ جلاؤ تک نہ پہنچ جائے جس کے نتیجے میں خدانخواستہ معاملہ ہلاکتوں تک نہ پہنچ جائے' حکومت اور ملک کی خوش قسمتی رہی کہ صورت حال خراب نہیں ہوئی لیکن حکومت کو اس صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ حکومت کو خود احتسابی کے عمل سے گزرنا چاہیے۔

ہر ایشو پر یہ کہنا کہ حکومت کے خلاف سازش ہو رہی ہے' درست حکمت عملی نہیں ہے۔ حکومت اگر ایشوز کو فوراً حل کرنے پر توجہ دے تو اپوزیشن کو احتجاج نہ کرنا پڑے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان بجا کہتے ہیں کہ اگر حکومت ان کے مطالبے کے مطابق قومی اسمبلی کے چار حلقے تحقیقات کے لیے کھول دیتی تو اسلام آباد میں دھرنوں کی نوبت نہ آتی۔ مئی 2013ء کے الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے عمران خان کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی باتیں کرتی چلی آ رہی ہیں' فرق یہ پڑا ہے کہ عمران خان نے اس معاملے پر احتجاج کا راستہ اختیار کیا جب کہ دیگر جماعتیں محض بیانات تک محدود رہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ الیکشن میں دھاندلی یا کسی قسم کی بے ضابطگی کی تحقیقات یا شکایات کے لیے متعلقہ فورمز موجود ہیں۔

اصولی طور پر اگر کوئی جماعت یا شخصیت یہ سمجھتی ہے کہ الیکشن میں اس کے خلاف دھاندلی ہوئی ہے تو اسے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آئینی اور قانونی راستہ خاصا پیچیدہ اور مہنگا ہے۔ پٹیشنوں اور عذرداریوں کی سماعت اور تحقیقات میں برسوں گزر جاتے ہیں۔ اگر یہ طریقہ کار آسان اور سستا ہو تو شاید سیاسی جماعتیں سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور نہ ہوں۔ اب بھی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے کئی حلقے ایسے ہیں جہاں جیتنے والے امیدواروں نے سٹے آرڈرز یا نظرثانی کی اپیلیں کر رکھی ہیں' اب اگر کوئی امیدوار دھاندلی یا بے ضابطگی کا مرتکب ہوتا ہے اور اسے نااہل قرار دے دیا جاتا ہے تو خود ہی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلہ کتنی تاخیر سے ہوا۔ بہرحال اب بھی وقت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں مل کر بیٹھیں اور متنازع امور پر کوئی اتفاق رائے پیدا کریں۔

پاکستان جس قسم کے حالات سے دوچار ہے' اسے اس وقت سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ آئے روز احتجاج اور دھرنوں سے جہاں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے وہاں معاشی سرگرمیاں بھی ماند پڑتی ہیں۔ حکومت کے سامنے اب بھی دو ایشو موجود ہیں۔ پانامہ پیپرز کی تحقیقات کے لیے جلد از جلد عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں' اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی ضرورت ہے۔ اسی طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے حوالے سے بھی ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں جس سے متاثرہ فریقین مطمئن ہو سکیں۔ اگر حکومت یہ نہیں کرتی تو پھر احتجاج کا سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔
Load Next Story