تعلیم اور صحت

انسانی حقوق کے حوالے سے ہر ملک، ہر معاشرے میں صحت اور تعلیم کو سرفہرست رکھا جاتا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

انسانی حقوق کے حوالے سے ہر ملک، ہر معاشرے میں صحت اور تعلیم کو سرفہرست رکھا جاتا ہے۔ لیکن ہماری حکومتوں نے کبھی عوام کی ان دو اہم بنیادی ضرورتوں پر توجہ مبذول کرنے کی زحمت نہیں کی۔ 69 سال کا عرصہ ایک طویل عرصہ ہوتا ہے، اس طویل عرصے میں عوام کو صحت اور تعلیم کی مناسب سہولتیں فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، بلکہ اس کے برخلاف ان دو شعبوں کو اس قدر پسماندہ رکھا گیا کہ یہ دونوں اہم ترین شعبے عوام کے لیے رحمت کے بجائے زحمت بن گئے ہیں۔

ویسے تو ملک کے دوسرے شعبوں کا حال بھی بہت برا ہے لیکن صحت اور تعلیم کی حالت اس قدر ناگفتہ بہ ہے کہ انھیں دیکھ کر انسانوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں۔ اگرچہ سارے ملک ہی میں ان دونوں شعبوں کا حال برا ہے لیکن کراچی جیسے ترقی یافتہ تقریباً ڈھائی کروڑ کی آبادی کے شہر میں اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت زار کا اندازہ ان کی بدترین کارکردگی اور تعداد کے حوالے سے کیا جا سکتا ہے۔ ڈھائی کروڑ آبادی کے اس شہر میں صرف تین بڑے سرکاری اسپتال ہیں، جہاں مہیا کی جانے والی سہولتوں کا اندازہ میڈیا میں آنے والی رپورٹوں سے کیا جا سکتا ہے۔

آج کے اخبارات میں کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں کے بارے میں جو انکشافات ہوئے ہیں اس کے مطابق جناح اسپتال، سول اسپتال، عباسی شہید اسپتال، لیاری اسپتال میں ویسکولر چیسٹ، جبڑے کی سرجری اور آنکھوں کے پردوں کی گرافٹنگ کے یونٹ یا تو موجود ہی نہیں ہیں یا موجود تھے تو اب بند ہو گئے ہیں۔ ویسکولر سرجری کے مریضوں کو پرائیویٹ اسپتالوں میں بھیجا جاتا ہے، سرکاری اسپتالوں میں ماہر ڈاکٹر یا تو سرے سے موجود ہی نہیں ہیں یا ان کی تعداد اسپتال کی ضرورتوں سے انتہائی کم ہے۔ سندھ جیسے ملک کے دوسرے بڑے صوبے میں واحد برنس سینٹر سول اسپتال کراچی میں ہے، جہاں سندھ بھر کے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے اور دور دراز سے آنے والے مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہمارے بااختیار لوگ بڑے بڑے پروجیکٹوں میں تو دلچسپی لیتے ہیں لیکن عوام کو چھوٹی چھوٹی سہولتیں فراہم کرنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈی مریضوں کی پہلی ضرورت ہوتی ہے اور سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈی پرہجوم ہوتی ہے، کیونکہ او پی ڈی میں ایک دو ڈاکٹر تعینات ہوتے ہیں جو مریضوں کی ضرورت سے بہت کم ہوتے ہیں۔


اگر او پی ڈی کے ہر شعبے میں دو کے بجائے چار چھ ڈاکٹر بٹھا دیے جائیں تو اسپتالوں میں نہ لمبی لمبی لائنیں لگیں گی نہ مریضوں کو اپنی باری کے لیے چار چار چھ چھ گھنٹے انتظار کرنا پڑے گا۔ سرکاری اسپتالوں میں ہر شعبے ہر بیماری کے ماہر ڈاکٹروں کا انتظام نہیں ہے جس کی وجہ غریب عوام کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پرائیویٹ ڈاکٹروں کی فیس غریبوں کی پہنچ سے باہر ہوتی ہے۔ اگر سرکاری اسپتالوں میں ہر اہم مرض کے ماہر ڈاکٹروں کا انتظام کر دیا جائے تو غریب طبقات کو سہولت مل سکتی ہے۔ سرکاری اسپتالوں کی لیبارٹریز کے ٹیسٹ اس قدر ناقابل اعتبار ہوتے ہیں کہ خود ڈاکٹر حضرات مریضوں کو اپنے ٹیسٹ باہر سے کرانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ سرکاری اسپتال گندگی کے ڈھیر ہوتے ہیں، صفائی کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا۔

صحت کے ساتھ دوسری بڑی عوامی ضرورت تعلیم ہے، اس شعبے میں بھی انتہائی برا حال ہے۔ صحت کے شعبے کی طرح تعلیم کا شعبہ بھی دہرے نظام کا شکار ہے۔ سرکاری اسکولوں کا حال یہ ہے کہ ماں باپ سرکاری اسکولوں میں اپنے بچوں کو اس لیے بھیجتے ہیں کہ وہ گلی محلوں میں اپنا وقت برباد کرنے سے بچ جائیں۔ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ عموماً کم پڑھے لکھے اور غیر تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ ایک بڑی تعداد لیڈی ٹیچرز کی ہوتی ہے، جو اسکولوں میں اپنا وقت بچوں کو پڑھانے سے زیادہ بُنائی اور کڑھائی میں گزار دیتی ہیں اور طلبا اپنا وقت کھیل کود اور شرارتوں میں گزار دیتے ہیں۔

صحت کی بدترین صورتحال پر میڈیا میں آنے والی خبروں کے بعد وزیراعظم نے کچھ نئے اسپتال تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک حوصلہ افزا اعلان ہے لیکن پاکستان کے 20 کروڑ عوام کو صحت کی جدید سہولتیں محض سو پچاس اسپتالوں کی تعمیر سے ممکن نہیں ہیں بلکہ ایک منظم اور منصوبہ بند پروگرام کے تحت آبادی کی مناسبت سے اسپتال تعمیر کیے جانے چاہئیں۔

ہمارے دیہی علاقوں میں تو علاج معالجے کی سہولتیں سرے سے موجود نہیں۔ مریضوں کو 50-50 ، 100-100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے بڑے اسپتالوں تک پہنچنا پڑتا ہے۔ کراچی میں ایک جدید کڈنی سینٹر سول اسپتال میں کام کر رہا ہے لیکن اندرون سندھ سے سیکڑوں مریض اس کڈنی سینٹر میں پہنچتے ہیں اور اپنی باری کے انتظار میں ہفتوں اسپتال سے ملحق فٹ پاتھوں پر پڑے رہتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں ہر سو میل پر ایک اسپتال ہونا چاہیے، جہاں ہر بیماری کا جدید طریقوں سے علاج کا اہتمام ہو۔ کراچی میں ہر ٹاؤن میں ایک جناح یا سول اسپتال کی کیپیسٹی کا اسپتال ہونا چاہیے۔

ہم نے تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی عدم فراہمی کا ذکر کرتے ہوئے دونوں شعبوں میں دہرے نظام کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ سرکاری اسکولوں کے ساتھ پرائیویٹ اسکول سرکاری اسپتالوں کے ساتھ جدید پرائیویٹ اسکول اگرچہ ہمارے طبقاتی نظام کی روایتوں کا حصہ ہیں لیکن ان دو اہم ترین شعبوں میں دوہرے نظام کا نقصان صرف اور صرف غریب عوام کو اٹھانا پڑتا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا عموماً مڈل یا میٹرک تک بمشکل تعلیم حاصل کر کے اسکول چھوڑ دیتے ہیں، اعلیٰ تعلیم تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ اعلیٰ تعلیم سے غریب طلبا کی محرومی کی وجہ سے اشرافیہ کی اولاد ملک کے اعلیٰ عہدوں پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہو جاتی ہے، یوں موروثی حکمرانی اور اشرافیہ کی بالادستی برقرار رہتی ہے۔
Load Next Story