2عہدوں پر حکم واضح تھا صدر کو عمل کرنا ہے لاہور ہائیکورٹ استثنیٰ پر دلائل طلب
فیصلہ مبہم تھا، وکیل وفاق، آپ نے فیصلہ نہیں پڑھا،توقع کا لفظ صدرکی توقیر کیلیے استعمال کیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال
سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ آئین کے تحت توہین عدالت پرکسی شخص کوبھی استثنیٰ حاصل نہیں،درخواست گزار۔ فوٹو: فائل
لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے صدرآصف زرداری کیخلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر مزید سماعت آج تک ملتوی کردی۔
گزشتہ روز وفاق کے وکیل وسیم سجاد نے کیس کے قابل سماعت نہ ہونے کے حوالے سے دلائل دیے جبکہ اے کے ڈوگر کی طرف سے صدر کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کی استدعاکی گئی۔ وسیم سجاد نے کہا کہ عدالت نے دوعہدوں کے کیس میں واضح ہدایات جاری نہیں کیں، یہ مبہم فیصلہ تھا اس لیے توہین عدالت کی کارروائی شروع نہیں ہوسکتی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قرار دیا کہ آپ نے 10 اکتوبر کا فیصلہ نہیں پڑھا جس میں 5رکنی بینچ واضح کہہ چکا ہے کہ توقع کا لفظ صدرکی عزت اور توقیرکوسامنے رکھ کراستعمال کیا گیا تھا، صدرکوعدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرنا ہے، اس سلسلے میں آپ کوہدایات لینے کا کہا تھا ۔
اے کے ڈوگر نے کہا کہ پیرا7 کے اندر یہ ہدایات واضح موجود ہیں، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کیلئے واضح لائحہ عمل سامنے آنا چاہیے۔ وسیم سجاد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جن کی روشنی میں توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ گزشتہ تاریخ میں آپ نے موقف اختیار کیا کہ صدر کو آرٹیکل 248(2) کے تحت استثنیٰ حاصل ہے، اس پر آپ کیا کہیں گے؟ وسیم سجاد نے کہاکہ 248(2)کا دفاع کرنے کے موقع پر ہم استثنیٰ کی بات کریں گے، عدالت نے قرار دیا کہ اس کا مطلب ہے کہ توہین عدالت کے قابل سماعت ہونے پر248(2) کا اطلاق نہیں ہوگا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے قرار دیا کہ 5رکنی بینچ واضح طور پرلاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کاکہہ چکا ہے۔ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہاکہ 248(2) کے تحت وسیم سجاد توہین عدالت کیس میں دفاع کے موقع پر بحث کریں گے، توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے سیکشن 17 کے تحت اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا جائے۔ اس پر ڈیفنس اپنا موقف دے دی گی مگر عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے کا کوئی بھی بہانہ نہیں بنا سکتا۔ وفاقی حکومت نے آج تک لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائرنہیں کی ۔عدالت نے قرار دیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 248(2) کو سامنے رکھ کرکارروائی کی جائے۔
آپ لوگ اس پر بحث کریں، اے کے ڈوگر اور اظہرصدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ آئین کے آرٹیکل204(2) اور 248(1) کے تحت توہین عدالت پرکسی شخص کوبھی استثنیٰ حاصل نہیں، آرٹیکل204 کے تحت تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور عدالت توہین عدالت میں کسی کو بھی سزادے سکتی ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ دنیامیں کوئی ایسی مثال ہے کہ جس میں کسی ملک کے صدر کے خلاف کارروائی ہوئی ہو۔
خاص طور پر موجودہ صدر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے؟ اے کے ڈوگر نے کہا کہ ہم تو پاکستان کے آئین کے مطابق بات کریں گے ۔ عدالت نے صدارتی استثنیٰ پرمزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کر دی ہے، وسیم سجاد نے کہا کہ وہ کل لاہور میں نہیں ہونگے۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ آپ اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں عدالت اپنے آپ کو مطمئن کرنا چاہتی ہے، کیس پر سماعت آج ہی ہوگی۔
گزشتہ روز وفاق کے وکیل وسیم سجاد نے کیس کے قابل سماعت نہ ہونے کے حوالے سے دلائل دیے جبکہ اے کے ڈوگر کی طرف سے صدر کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کی استدعاکی گئی۔ وسیم سجاد نے کہا کہ عدالت نے دوعہدوں کے کیس میں واضح ہدایات جاری نہیں کیں، یہ مبہم فیصلہ تھا اس لیے توہین عدالت کی کارروائی شروع نہیں ہوسکتی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے قرار دیا کہ آپ نے 10 اکتوبر کا فیصلہ نہیں پڑھا جس میں 5رکنی بینچ واضح کہہ چکا ہے کہ توقع کا لفظ صدرکی عزت اور توقیرکوسامنے رکھ کراستعمال کیا گیا تھا، صدرکوعدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرنا ہے، اس سلسلے میں آپ کوہدایات لینے کا کہا تھا ۔
اے کے ڈوگر نے کہا کہ پیرا7 کے اندر یہ ہدایات واضح موجود ہیں، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کیلئے واضح لائحہ عمل سامنے آنا چاہیے۔ وسیم سجاد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے موجود ہیں جن کی روشنی میں توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ گزشتہ تاریخ میں آپ نے موقف اختیار کیا کہ صدر کو آرٹیکل 248(2) کے تحت استثنیٰ حاصل ہے، اس پر آپ کیا کہیں گے؟ وسیم سجاد نے کہاکہ 248(2)کا دفاع کرنے کے موقع پر ہم استثنیٰ کی بات کریں گے، عدالت نے قرار دیا کہ اس کا مطلب ہے کہ توہین عدالت کے قابل سماعت ہونے پر248(2) کا اطلاق نہیں ہوگا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے قرار دیا کہ 5رکنی بینچ واضح طور پرلاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کاکہہ چکا ہے۔ اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہاکہ 248(2) کے تحت وسیم سجاد توہین عدالت کیس میں دفاع کے موقع پر بحث کریں گے، توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے سیکشن 17 کے تحت اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا جائے۔ اس پر ڈیفنس اپنا موقف دے دی گی مگر عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرنے کا کوئی بھی بہانہ نہیں بنا سکتا۔ وفاقی حکومت نے آج تک لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل بھی دائرنہیں کی ۔عدالت نے قرار دیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 248(2) کو سامنے رکھ کرکارروائی کی جائے۔
آپ لوگ اس پر بحث کریں، اے کے ڈوگر اور اظہرصدیق نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے کہ آئین کے آرٹیکل204(2) اور 248(1) کے تحت توہین عدالت پرکسی شخص کوبھی استثنیٰ حاصل نہیں، آرٹیکل204 کے تحت تمام شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں اور عدالت توہین عدالت میں کسی کو بھی سزادے سکتی ہے ۔عدالت نے استفسار کیا کہ دنیامیں کوئی ایسی مثال ہے کہ جس میں کسی ملک کے صدر کے خلاف کارروائی ہوئی ہو۔
خاص طور پر موجودہ صدر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے؟ اے کے ڈوگر نے کہا کہ ہم تو پاکستان کے آئین کے مطابق بات کریں گے ۔ عدالت نے صدارتی استثنیٰ پرمزید دلائل طلب کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کر دی ہے، وسیم سجاد نے کہا کہ وہ کل لاہور میں نہیں ہونگے۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ آپ اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں عدالت اپنے آپ کو مطمئن کرنا چاہتی ہے، کیس پر سماعت آج ہی ہوگی۔